آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آجکل اعلیٰ تعلیمی ادارے طالب علموں کی کامیابی کو ٹریننگ پروگرامز، سپورٹ گروپس اور تحقیق کے ذریعے یقینی و حتمی بنارہے ہیں۔ کالج میں داخلےکے بعد طلبا پر تعلیمی نصاب کا بوجھ مزیدبڑھ جاتا ہے، لہٰذا توازن قائم رکھنے اور پڑھائی کے زیادہ دبائو سےبچنے کے لئے ایسا ماحول تشکیل دیا جارہا ہے جہاں طالب علم اپنی پسند کے موضوعات کو چن کر ان پر دسترس حاصل کرسکیں۔ کیمپس کا ماحول دوستانہ بنانے کے لئے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ طلبا کی دلچسپی پر مبنی مضامین پر خصوصی توجہ دے رہےہیں۔ اس ضمن میں ماہرین تعلیم کا کہنا ہےکہ موجودہ تیزرفتار ڈیجیٹل دور میں شعبہ جات میں متنوع تبدیلیوں کے باعث روایتی تدریس کا دور اب تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ اس وقت طالب علموں کو گلوبل جاب مارکیٹ کے قابل بنانے کے لئے عالمی رجحانات کے مطابق ایسانصاب پڑھانا ہوگا، جس میں طالب علم خارج از مدت تصورات کے بجائے ہر روز تبدیل ہونے والی ٹیکنالوجی کے مطابق اپنی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھاسکیں۔

کمیونٹی ٹریننگ پروگرامز

کالج پروفیسرز طالب علموں کو کمیونٹی ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے پریکٹیکل معلومات دیتے ہوئے انہیں جاب مارکیٹ میں درکار ہنر سے روشناس کروارہے ہیں۔ ان کمیونٹی ٹریننگ پروگرامز میں بین الاقوامی علم و ہنر کے تبادلے کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کو جدید ترین رجحانات سے مطلع اور منسلک کیا جاتا ہے۔ ہولوگراف ٹیکنالوجی سے دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی ادارے اور کتب خانے ایک لڑی میں پرو دئیے گئے ہیں۔ یہ تمام مل کر طلبا کی ذہنی و جسمانی صلاحیتوں کو پروان چڑھاتے ہوئے انھیں بین الاقوامی مارکیٹ کی ضرورتوں سےہم آہنگ کررہےہیں۔ اقوام متحدہ کے 2030ء کے اہداف میں بھی تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کرتےہوئے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ اور ذمہ دار اقوام کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ ’’تعلیم سب کے لئے‘‘کے پرچم تلے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کی تقسیم مٹا کر ایسے کمیونٹی ٹریننگ پروگرامز وضع کریں، جن کے ثمرات مشرق و مغرب تک پھیلےہوئے ہوں۔ اس وقت یونیورسل ایجوکیشن کے حوالے سے براعظم افریقہ کا نقشہ تبدیل ہورہا ہے جبکہ ایشیا میں پاکستان، چین اور جاپان جیسےممالک میں عوامی سطح پر یونیورسل ایجوکیشن اور آن لائن علمی تبادلے سے نالج اکانامی میں دور رس تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں۔

اسکل بلڈنگ سپورٹ پروگرامز

طالب علموں کی کامیابی کو حتمی بنانے کے لئے اس وقت سینکڑوں اعلیٰ تعلیمی ادارے اور پروفیشنلز اپنی انفرادی و اجتماعی کاوشیںکررہے ہیں۔ پاکستان کی بات کی جائے تو اسکلزڈویلپمنٹ پرگرامز نے ہنرمند پاکستان کا امیج روشن کرنے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ نیٹ ورکنگ نے تعلیمی اداروںکے مابین تبادلے اور مشترکہ نصاب تشکیل دینے کی راہیں ہموار کرتے ہوئے ایسی لیبارٹریاں وضع کی ہیں، جن کے ذریعے طالب علموں کو باہر کی ہنرمند اور عملی دنیا سے متعارف ہونے کا موقع ملا ہے۔ پاکستان میں سائبر تعلیم دینے والے اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں نے امریکا و برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ اسکل بلڈنگ سپورٹ پروگرام تشکیل دینے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان پروگرامز نے طالب علموں اور پروفیشنلز کے مابین قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ، سماجی انصاف اور کیمپس کمیونٹی میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے تعلیمی گروپس نے اس کو چارچاند لگادیئے ہیں۔ دنیا بھر کے تعلیمی ادارے آن لائن ٹریننگ پروگراموں کے ذریعے بلاتفریق رنگ و نسل طالب علموں کو علم کی روشنی سے سرفراز کررہے ہیں۔ گلوبل ایجوکیشن کی تمام تر توجہ کا مرکز ’’اسکل بلڈنگ سپورٹ پروگرامز‘‘ ہیں۔

تحقیق و تالیف

اعلیٰ تعلیمی ادارے لیڈرشپ ڈویلپمنٹ پروگرامز، کیمپس کے ماحول میں بہتری لانے، اکیڈمک سپورٹ انیشیٹیو اور ٹارگٹ لرننگ تجربات جیسے اقدامات سے طلبا کو دنیا بھر کی’’ کالج کمیونٹی‘‘ سے منسلک کرکے ٹیم ورک ریسرچ کی طرف مائل کررہےہیں۔ اس طرح تمام طالب علموں کی مجموعی ترقی کی راہیں ہموار ہوچکی ہیں۔ تحقیق و تالیف کے حوالے سے پاکستان کی تمام اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں سائنس کے شعبے میں ہونے والی ترقی کے ثمرات واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی میکاٹرونکس سائنس نے بھی ہمارے سائنسی کلچرکو تبدیل کردیا ہے۔ صنعتی اداروں کے ساتھ اپرنٹس شپ پروگرامز نے طالب علموں کومارکیٹ کے عملی ہنر کے مواقع مہیا کیے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی معیار کو چھونے کے لیے افرادی قوت کی جدید خطوط پر ٹریننگ ہماری انڈسٹری کا ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔ زرعی تحقیقاتی ادارے جینیاتی فصلوں کی کاشت میں کسانوں کی مدد کر رہے ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ طالب علم سائنسی معلومات و تحقیق کے لئے مارے مارے پھرتے تھے لیکن اب آن لائن سائنسی ریسرچ نے کئی آپشنز مہیا کردئیے ہیں۔ ساتھ ہی تحقیقی مقالات میں سرقہ بندی (Plagiarism)کے سدباب کے لئے ایسے سافٹ ویئربھی آگئے ہیں، جو منٹوں میں کانٹینٹ کی چوری کا پردہ چاک کرسکتے ہیں۔ ایجوکیشنل اور فوڈ ٹیکنالوجی، فزکس، فلکیات اور زراعت کے شعبے میں ہونے والی تحقیق سے بین الاقوامی دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے جبکہ آئی ٹی کے شعبے میں پاکستانی اسٹارٹ اَپس نے پوری دنیاکو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک باصلاحیت قوم کا ملک ہے۔ گوگل سائنس فیئر سمیت دنیا بھر میں ہونے والے سائنسی مقابلوں میں پاکستانیوں کی کامیابی نےپاکستان کا رخِ تاباں منور کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں