آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (تجزیہ ، مظہر عباس) صوبہ سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں میں غیرمعمولی بہتری آئی ہے اور دونوں، ڈکیت اور دہشت گرد عنصر، میں معقول حد تک کمی آئی ہے جس کا سہراان تمام بشمول پولیس سے لے کر رینجرز، سول سے لے کر فوجی قیادت کو جاتا ہے۔ لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول سندھ پولیس گزشتہ چند سالوں سے صوبائی حکومت کے بالکل بھی قابو میں نہیں ہے جس کا نتیجہ پولیس سے تنازع کی صورت میں نکل رہا ہے اور سابق آئی جی پی اے ڈی خواجہ کے بعد موجودہ کلیم امام بھی انہیں ناقابل قبول ہیں۔ جس طرح سے سید مراد علی شاہ نے خاص طور پر کھلم کھلا پولیس پر تنقید کی، وہ بالکل برعکس ہے اگر ناصرف کراچی بلکہ دیہی سندھ میں بھی امن و امان میں بہتری آئی ہے۔ اگر ایک جانب رینجرز اور دوسری جانب پولیس آزادانہ طور پر صورتحال سنبھالے ہوئے ہے تو امن و امان پر اصل میں کس کا کنٹرول ہے؟ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ حکومت محسوس کرتی ہے کہ اس نے امن و امان پر کنٹرول کھودیا ہےجو اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی مضمون ہے۔ کسی حد تک دونوں کے پاس یہی نکتہ ہے کہ سیاست بدری کے نام پر چیف

ایگزیکٹو کے اختیارات کم کردئیے گئے ہیں۔ لیکن انہوں نے پولیس کو بھی مکمل طور پر خصوصاً تبادلے کے معاملات پر سیاست میں ملوث کردیا ہے۔ 1989 سے کراچی میں موجود رینجرز کے کیس میں صوبائی حکومت نے 2013 کے کراچی آپریشن کے بعد اس کے اختیارات میں کمی کی دو مرتبہ کوشش کی جب اس نے چند سرکاری دفاتر پر چھاپے مارے اور ایف آئی اے اور نیب کو پشت سے حمایت فراہم کی۔ صوبائی حکومت کا اصل تنازع پولیس کے ساتھ ہے جب یہ سابق آئی جی پی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹانے میں ناکام رہی اور سندھ ہائی کورٹ میںکیس بھی ہار گئی جب عدالت نے عملی طور پر واضح گائیڈ لائنز رکھ دیں اور پولیس افسران کے تبادلوں اور تعیناتیوں میں حکومت کو مداخلت سے روک دیا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ یوں جو تنازع اے ڈی خواجہ کے دنوں سے شروع ہوا تھا نئے آئی جی پی کلیم امام کے ساتھ بھی جاری ہے، انہیں بھی حکومت کی جانب سے سخت سوالات اور تنقید کا سامنا ہے اور اب پولیس کو مبینہ طور پر فنڈز حاصل کرنے میں بیوروکریٹک رکاوٹوں کا سامنا ہے جیسا کہ مالی اختیارات اب بھی حکومت کے پاس ہیں۔ پولیس کی جانب سے رکھی گئی کانفرنس میں وزیر اعلیٰ کے تنقیدی ریمارکس نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینئر افسران کو بھی مایوس کیا جو وہاں موجود تھے لیکن سندھ کے وزیر مرتضیٰ وہاب نے شاہ صاحب کی تنقید کا دفاع کیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ حکومت کے پاس پولیس کے احتساب اور سوالات پوچھنے کا ہر حق حاصل ہے۔ جب آئی جی پی سندھ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چیف ایگزیکٹو کے پاس پولیس کے احتساب کا ہر حق حاصل ہے، کسی بھی کرپشن کی صورت میں آڈٹ کا حکم دیں یا وضاحت مانگیں۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہمیں تحسین کے چند الفاظ کی بھی توقع ہوتی ہے اگر پولیس بہتر کارکردگی دکھاتی ہے تو جس طرح ہم نے پی ایس ایل میچوں کے دوران کیا اور امن و امان کو برقرار رکھا۔ عدالتی حکم کے تحت تبادلے اور تعیناتی کے اختیارات آئی جی پی کے پاس ہیں اور اب سابق آئی جی پی افضل شگری کی سربراہی میں پولیس ریفارم کمیٹی نے بھی پولیس کی ذمہ داری اور اختیارات کے حوالے سے اپنی رپورٹ ترتیب دے دی ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تنازع 2009-10 کے بعد شروع ہوا جب سندھ کے سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی جانب سے کھلم کھلا لیاری گینگ کی پشت پناہی کے باعث کراچی کا امن و امان تباہ ہوگیا تھا، اور انہوں نے مبینہ طور پر لیاری گینگ کو مسلح کیا تاکہ ایم کیو ایم کے مبینہ جنگجوؤں سے نمٹا جائے، اس کا نتیجہ کراچی میں خون خرابے کی صورت میں نکلا اور جس کے نتیجے میں سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایک کیس میں سو موٹو لیا جس کا نام بعد میں 2011 میں کراچی بدامنی کیس پڑگیا۔ انتخابات 2013 کے فوری بعد سندھ حکومت نے حیران کن انداز میں فوری طور پر پولیس آرڈر 2002 کو سفاکانہ پولیس ایکٹ 1861 سے بدل دیا۔ یہ فیصلہ راتوں رات لیا گیا اور پولیس میں بہت سوں کو حیران کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 2013 میں کراچی آپریشن کے آغاز کی اصل وجوہات میں سے ایک کالعدم گروہوں کے جنگجوؤں اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز اور ایم کیو ایم اور خصوصاً لیاری گینگ کے جنگجوؤں کا خاتمہ کرنا تھا۔ بعد میں یہاں بھارتی جاسوس کلبھوشن کے بڑے نیٹ ورک کا بھی خاتمہ کردیا گیا۔ یوں آرپریشن کو پھیلا دیا گیا اور آرمی کی درخواست پر رینجرز کے اختیارات میں توسیع دے دی گئی۔ دیہی سندھ میں پولیس نے ڈکیتوں کے خلاف بڑا آپریشن کیا اور سیکڑوں ڈکیتوں اور ان کے رنگ لیڈرز کو ختم کردیا۔ اسے 2013 کے آپریشن سے قبل شروع کیا گیا اور اس کا سہرا کامیاب پولیس سربراہان کے ساتھ ساتھ چند کیسز میں آرمی کو جاتا ہے جس نے بیک اپ سپورٹ فراہم کی۔ ان سب سے اغوا برائے تاوان کے کیسز میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں