آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی پر کڑی تنقید کی تو ایم کیو ایم اراکین سندھ اسمبلی نے شور مچایا اور احتجاج کیا۔

وزیراعظم سے سندھ میں مداخلت کرنے کی درخواست کے خالد مقبول صدیقی کے بیان پر شہلا رضا نے صوبائی اسمبلی میں قرار داد پیش کی اور وفاقی وزیر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

سندھ اسمبلی سے خطاب میں مراد علی شاہ نےاستفسار کیا کہ جس نے سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کی وہ خود ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا،بتائیں آپ اور کتنے ٹکڑے چاہتے ہیں؟

وزیراعلیٰ سندھ کے اس بیان پر ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے احتجاج کیا جس پر اسپیکر نے مداخلت کی اور متحدہ اراکین کو بیٹھنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر جاری رکھی اور کہا کہ ہمارا لیڈر ایک ہے،ہم ان کی طرح نہیں کہ کسی اور کے دباؤ میں آکر اپنا لیڈر بدل دیں گے۔

اس پر ایک بار پھر ایوان میں ایم کیو ایم اراکین نے شور مچایا جس پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا کہ ’آپ تقریر کریں،ان کی عادت ہے وہ بولتے رہیں گے‘۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ کراچی کے لوگوں نے انہیں دھتکار دیا ہے،یہ آج کل پی ٹی آئی کے پیچھے کھڑے ہیں،بہت جلد انہیں پتا چل جائے گا یہ کیا ہیں۔

دوران تقریر وزیراعلیٰ سندھ نے مہنگائی کے اعداد و شمار پیش کرنا شروع کردیے اور کہا کہ لوکی 30 روپے کلو سے 65 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔

اس بار پی ٹی آئی اراکین نے احتجاج کیا اور شور شرابا کیا،جس پر قائد ایوان نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں نے ہمارے پیسے روکے ہوئے ہیں اور اب یہ شور مچانے پر آگئے ہیں،اس شور میں بھی ہم ان پر بھاری ہوں گے۔

ایک موقع پر سندھ اسمبلی میں اتنا شروع شرابا ہوا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی،پی ٹی آئی کے شور پر پی پی اراکین بھی اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے۔

سندھ اسمبلی میں شہلا رضا نے خالد مقبول صدیقی کے بیان کے خلاف قرارداد پیش کی،جس میں سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے بیان کی مذمت کی گئی اور وفاقی وزیر سے معافی کا مطالبہ کیا گیا۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ نے تھرکول پروجیکٹ پر گفتگو کی اور کہا کہ تھر کول پر پہلے دو سرمایہ کاروں کو بھگادیا گیاتھا، اس وجہ سے یہاں کوئی آنے کو تیار نہیں تھا،اس پروجیکٹ پر بہت رکاوٹیں آئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کبھی کہا گیا کوئلہ ہے نہیں،کبھی کہا گیا قابل استعمال نہیں،قائم علی شاہ نے بطور وزیراعلی یہ بات منوائی کہ یہ صوبائی معاملہ ہے،پی پی کی جگہ پر کوئی اور ہوتا تو شاید یوٹرن لے لیتا۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انفرا اسٹرکچر پر700ملین ڈالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی،تھرکول کے پہلے بلاک سے 4 فیز بنیں گے،بینظیر نے کہا تھا کہ تھر پورے پاکستان کو روشن کرے گا ان کی بات سچ ہوئی تھر نے پاکستان کو بدل دیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں