آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (اسٹاف رپورٹر )سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کی کمپلیکس میں خصوصی عدالت کے روبرو سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت ہوئی،اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے جے آئی ٹی کے اہم گواہ عبد اللہ کو پیش کیا جس نے عدالت کے روبرو مقدمے کے مرکزی ملزم رحمان بھولا کو شناخت کرلیا اوربیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ میں واٹر بورڈ کا ملازم ہوں مجھے ایم کیو ایم نے بھرتی کرایا تھا، پہلے یونٹ میں تھا بعد میں سیکٹر انچارج کا معاون مقرر ہوا میں رحمان بھولا کو فیکٹریوں میں لے کر جاتا تھا جہاں رحمان بھولا بھتے کی پرچیاں دیتا تھا، واقعے سے پہلے 2012 کے رمضان المبارک میں رحمان بھولا نے مجھے علی انٹر پرائزیز کو دینے کے لیئے 25 ہزار پرچی دی،رحمان بھولا نے فیکٹری کے جنرل مینیجر منصور کو کال کی اور کہا 25 ہزار کی پرچی بھیج رہا ہوں جنرل مینیجر منصور نے ارشد بھائیلہ سے 25 ہزار روپے لیکر ماجد بیگ کو دیئے تھے،اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ نے موقف اپنایا کہ ماجد بیگ اپنے بیان میں بھی عدالت کو بتا چکا ہے ماجد نے وہ 25 ہزار

روپے سیکٹر میں جمع کرائے تھے۔ دوسرے گواہ ڈائریکٹر سوشل ویلفئر نے بیان دیا کہ ہمارے محکمے سے 232 ملازمین کو پینشن دی جارہی ہے، ملزمان کے وکلا نے گواہوں سے بیان پر جرح مکمل کرلی،عدالت نے 18 اپریل تک سماعت پر مزید گواہوں کو طلب کرلیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں