آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایمسٹر ڈیم(این این آئی)نیدرلینڈز کے ایک مرحوم ڈاکٹر کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ بے اولاد متعدد خواتین کے رحم مادر میں انجکشن کے ذریعے اپنا ہی نطفہ داخل کرتا رہا۔میڈیارپورٹس کے مطابق مقامی عدالت میں دو برس قبل انتقال کر جانے والے فرٹیلیٹی ڈاکڑ جان قربت پر الزام لگا تھا کہ وہ بطور ڈونر اپنا ہی نطفہ بے اولاد خواتین کو عطیہ کرتا رہا اور اس دوران متعدد خواتین سے تقریبا 49بچوں نے جنم لیا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ڈاکٹر سائنسی طریقے سے بے اولاد خواتین کے رحم مادر میں بذریعہ انجکشن اپنا ہی نطفہ منتقل کرتا تھا جبکہ خواتین نطفہ کے ڈونر کے بارے میں بے خبر رہی۔ڈچ عدالت میں پیش کیے جانے والی ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ متعدد خواتین کی کوکھ سے پیدا ہونے والے تقریبا 49 بچے ڈاکٹر جان قربت کے ہیں۔مذکورہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب ڈونر بچوں اور ان کے والدین نے درجنوں بچوں کی شکلیں اور خصلتیں یکساں محسوس کی۔جس کے بعد 2017میں ڈاکٹر جان قربت کے خلاف پہلی مرتبہ عدالتی کارروائی شروع ہوئی دوران سماعت عدالت نے بھی محسوس کیا کہ مذکورہ مقدمے میں ایک بچے کے خدوخال ڈاکٹر سے مماثلت رکھتے تھے۔ اس دوران ڈاکٹر 89برس کی عمر میں انتقال کرگئے تاہم ان کے گھر میں موجود دانتوں کے برش سے ڈاکٹر کا ڈی این اے حاصل کیا گیا۔ڈی این اے

ٹیسٹ کی نتائج سامنے آنے کے بعد ججز نے نتائج جاری کرنے کا حکم دیدیا۔واضح رہے کہ بیشتر بچے عمر کی 30ویں دہائی میں داخل ہو چکے ہیں جنہیں اب معلوم ہوا کہ وہ دراصل ڈاکٹر جان قربت کے بیٹے یا بیٹی ہیں۔ایک لڑکے نے کہا کہ 11برس کی تلاش کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں ڈاکٹر جان قربت کا بیٹا ہوں۔مقامی میڈیا نے ڈاکٹر جان قربت کے بارے میں بتایا کہ مرحوم خود کو فرٹیٹلی (بانچھ پن)کی فیلڈ کا ماہر کہتے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں