آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍شوال المکرم 1440ھ 27؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عام کہاوت ہے، لیکن ہے غلط کہ تاریخی حقیقت ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا، اگر ایسا حتمی ہوتا تو انسانی تہذیب کا ارتقاء رک جاتا۔ بہت سی جدید اقوام اور ریاستیں، شعبہ جات، بڑے بڑے ادارے اور علوم باریک بینی سے تاریخ کے مطالعے اور ریسرچ(تحقیق) کے اطلاق سے بنے اور بڑھے، کتنی ہی حکومتوں اور ذاتی حیثیت میں بادشاہوں اور حکمرانوں نے عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ قرآن کریم اور دیگر مذہبی کتابوں میں گزرے زمانے(تاریخ) کی کہانیاں بڑے سبق اور اصلاح احوال کے لئے تاریخی واقعات کو انتباہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ یونیورسٹیوں میں جدید علوم کی تدریس کے ساتھ، کسی مخصوص باڈی آف نالج(ڈسپلن) کی رسمی تعلیم کا آغاز ہوتا ہی اس کی تاریخ کے مطالعے سے ہے، جیسے میڈیکل سائنس، فزکس، کیمسٹری، فلاسفی، عمرانیات اور اب مینجمنٹ وغیرہ کا آغاز ان ڈسپلنز میں ہوتا ہے۔ جنگوں کی تیاری، ان کی کامیاب منصوبہ بندی اور حکمت عملی کی تیاری میں کامیاب اور ناکام جنگوں کا مطالعہ اور اس سے حاصل سبق اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ وسیع دائرے یا سطح پر ہو تو یہ امور حکمرانی بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ جرمنی اور جاپان آج دنیا میں مستحکم ترین معیشت کے حامل وہ ممالک ہیں جنہوں نے دوسری جنگ عظیم میں اپنی بربادی اور شکست فاش کی ہزیمت کو اپنی اقتصادی بحالی اور قومی معیشت پر فوکس کے عظیم اسباق میں تبدیل کر کے، بہت جلد دنیا میں اپنا وقار اور اثر دوبارہ سے قائم کرلیا۔ جنوبی کوریا نے اپنی قومی اقتصادیات کی اٹھان کے لئے پاکستان کے ابتدائی سالوں میں ہوئی پنج سالہ اقتصادی منصوبہ بندی سے انسپئریشن حاصل کی اور صنعتی ترقی کے اعتبار سے ترقی پذیر دنیا میں جاپانِ صغیر کے درجے پر آگیا۔ یہ تو درست ہے کہ 13ریاستوں کی فیڈریشن کے قیام کا مسودہ آئین ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قیام کا باعث بنا اور اس کا داخلی استحکام بڑھتا ہی گیا لیکن انسانی اور جمہوری اقدار کے حقیقی علمبردار امریکی صدر ابراہم لنکن نے غلامی کے خلاف امکانی مزاحمت کے بعد تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے غلامی کے مکروہ ادارے کی حوصلہ شکنی کی جرأت کا اظہار کیا اور اپنی جان دے کر پوری قوم سے بھی اس کو تسلیم کرا لیا تو تیز تر امریکی ترقی و استحکام کا سفر، امریکہ کے منبع جمہوریت کے طور تبدیل ہونے لگا۔ ابراہم لنکن کی انفرادی تازہ ذہنی اور جمہوری سوچ قومی درجے پر آگئی۔ ’’غلامی برائے تعمیر امریکہ اور غلامی نئی دنیا آباد کرنے کا معاون اثاثہ‘‘ امریکی فیڈریشن اور آئینی سفر شروع ہونے کے بعد بھی بھاری اکثریت کی ذہنیت تھی لیکن ابراہم لنکن نے امریکہ سے سفاک سامراج کا داغ مٹا کر نئی دنیا کو بنتی تاریخ میں جمہوریت کا مرکز و محور بنانے کی جو سوچ اختیار کی، وہ تاریخ سے سبق لے کر ہی کی تھی۔ بھارت کے باکمال دلت(اچھوت) سیاسی دانشور ڈاکٹر ایمبیدکر نے برصغیر کی سیاسی و مذہبی تاریخ کے گہرے مطالعے کی روشنی میں ماڈرن جمہوری انڈیا کا ایساا سمارٹ کانسٹی ٹیوشن تیار کیا جو مذاہب اور نسلوں کی حساس ورائٹی میں ایک شاک آبزرور ثابت ہوا اور اس نے بھارت میں علیحدگی کے احساس و رجحانات کے باوجود اسے متحد رکھا۔ وہ الگ بات ہے کہ جدید جمہوری بھارت کے اصل معمار ڈاکٹر ایمبیدکر نے مرنے سے پہلے یہ اندازہ واضح طور پر لگا لیا کہ اونچی ذات کے ہندو بھارت کو سیکولر نہیں رہنے دیں گے اور ان کی اپنی قوم دلت (اچھوت) مشکل میں آگئی، سو انہوں نے اپنی قوم کو یہ راہ دکھائی کہ پست ذات کے ہندو رہنے سے بہتر ہے کہ بدھ مت قبول کر لیں، بابا جی رائو بھیم ایمبیدکر نے مرنے سے پہلے خود بدھ مت قبول کرلیا تھا۔ ان کا اندازہ کوئی غلط نہ تھا، آج بھارت کے اونچی جاتی والے بنیاد پرست، پورے بھارت کو ہندو بنیاد پرستی میں رنگنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ انہوں نے اپنے اقتدار کی سیاست میں تاریخ کے اس سبق کو جھٹلا کر کٹر ہندو مت کی راہ اختیار کی، جسے بھیم رائو ایمبیدکر نے پڑھ کر جدید بھارت کو انسپائرنگ سیکولر بنانے میں اتنی کامیابی تو حاصل کی کہ 65سال تک یہ گاڑی خاصی کامیابی سے چلتی رہی۔

پاکستان کی ستر سالہ سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا روگ ہمارے آئینی بحران رہے ہیں۔ آئین سازی میں تاخیر، متفقہ آئین (1956)بننے پر محلاتی سازشوں سے پہلے مارشل لاء کا نفاذ، فرد واحد کےمتنازع آئین کا 8سالہ تسلط، پھر مارشل لاء، مشرقی پاکستان میں شریکِ اقتدار ہونے میں عدم مساوات کا شکار ہونے، خطرناک احساس کمتری، پہلے عام انتخابات پر اکثریتی جماعت کی مغربی پاکستانی اکثریتی جماعت کی طرف سے عدم قبولیت، مجیب کے چھ نکاتی پروگرام کو اسمبلی میں زیر بحث لانے سے گریز اور فوجی آمریت سے مل کر اسمبلی کے انعقاد کے مقابل ملٹری آپریشن سے مشرقی پاکستان کو سیاسی آتش فشاں میں تبدیل کرنے کا شیطانی کھیل، یہ سب آئینی بحران در بحران کے بعد بے قابو اور ملک توڑنے والے بحران پر ختم ہوا۔

ہمیں تاریخ نے اتنا سبق دے دیا کہ ایک متفقہ آئین بناؤ تو بچی کھچی اسمبلی اور نئے پاکستان کی پارلیمانی جماعتوں نے مل کر بنا لیا۔ بنا لیا تو اس کے نفاذ میں خود متحدہ ائین کا بیڑہ اٹھانے والے رکاوٹ بن گئے۔ اڑھائی سال بعد ہی ساتویں ترمیم کر کے حکومت نواز عدالتی سیٹ اپ اسپیشل ٹربیونلز فقط اپوزیشن کو کچلنے کے لئے بنائے گئے۔ صحافتی آزادی کو محدود رکھنے کے لئے پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس 1963حکومت کے اختتام تک جاری رہا اور نیشنل پریس ٹرسٹ بھی۔ انتخابات آئین کی روح کے برعکس ملک گیر دھاندلیوں سے مکمل متنازع ہو گئے۔ پھر جمہوریت کو یاد کیا گیا تو بوٹوں والے بپھر چکے تھے۔ اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے کیا کبھی آئینِ پاکستان 1973کو اس کی روح کے مطابق نافذ کیا؟۔ طالع آزمائوں نے آئین لپیٹ دیا تو سویلین قائدین نے اپنے حلف اور آئین کی دوسری کتنی ہی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ عدلیہ میں انتظامیہ کی مرضی کی مداخلت ہوتی اور نتائج حاصل کئے جاتے رہے۔ کیا سیاسی جماعتیں اور کیا ان کے امتزاج سے فوجی اور نیم جمہوری حکومتوں نے متفقہ آئین پاکستان پر اخلاص سے عمل درآمد کیا؟۔ بلدیاتی انتخابات کرائے گئے، قومی زبان اردو 15سال میں سرکاری زبان بنائی گئی؟ آئین کے ہوتے ہوئے اس کی بالادستی کے فقط نعرے لگاتے اسے کتنے فیصد نافذ کیا گیا؟ آرٹیکل 62/63رہی بھی ہے بھی اور رسوا بھی ہوئی۔ آئین کے متوازی دہرے نفاذِ قانون کا نظام کھلم کھلا قائم کیا گیا، تھانہ کچہری کلچر، آئینی شق کو نظر انداز کر کے بلدیاتی ادارے ٹھپ کر کے رشوت وسفارش اور عوامی استحصال کا ذریعہ بنا۔ اب صدارتی نظام کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کیا یہ بیچارے متحدہ و متفقہ آئین پاکستان کا قصور ہے کہ پاکستان کی معیشت برباد ہو گئی اور جمہوریت رسوا؟ یا حاکمانِ وقت نے مل جل کر جو نظامِ بد بنایا جسے آج بوسیدہ کہا جا رہا ہے، گلا سڑا، استحصالی، یہ اس کی کامیابی تھی جو ظالم حکمرانوں نے اپنے اپنے حصے سے کی،یہ اس کا کیا دھرا ہے۔ آئینی بحرانوں نے پاکستان توڑا نہیں؟ اسے مسلسل عدم استحکام میں نہیں رکھا؟ کیا صدارتی نظام کی جو تجاویز راہ نجات کے طور پر پیش کی جا رہی ہیں، اس پر قوم کی مختلف الخیال سیاسی قوتوں اور دیگر مقتدرین کو متفق کر لیا جائے گا؟ کیا آئینی طریقے سے ہی ہم اپنا متحدہ، متفقہ غالب حد تک عدم اطلاق میں مبتلا آئین کے مقابل صدارتی نظام پر مطلوب طاقتوں اور جماعتوں کو متفق کر سکیں گے؟ قصور گلے سڑے نظام کا ہے یا آئین کا جسے نافذہی نہیں ہونے دیا جاتا، ہماری تاریخ کا سبق یہ نہیں بنتا کہ آئینی بحران ہمارے لئے تباہ کن ثابت ہوئے۔ نظام بدلنا چاہئے یا کبھی نافذ نہ ہونے دیا جانے والا متفقہ آئین؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں