آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انگلینڈ کے خلاف سیریز اور ورلڈ کپ کے لئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے حتمی ٹیم کے انتخاب کی تیاری مکمل ہے، جمعرات کو چیف سلیکٹر باقاعدہ اعلان کریں گے،چونکہ سیریز بھی 5ایک روزہ میچز کی ہے،ٹی 20میچ صرف وارم اپ ہونے کے لئے ہوگا تو ٹیم کا انتخاب ورلڈ کپ کو ہی مد نظر رکھ کر ہی کیا جائے گاہوگا ،پاکستان کرکٹ ٹیم میں شامل سب سے زیادہ تجربہ رکھنے والے محمد حفیظ اور شعیب ملک کی ٹیم میں سلیکشن کی خبریں تواتر کے ساتھ آرہی ہیں،ان دونوں کے 17 سے 20 سال کے کرکٹ کیریئر میں 4 ورلڈ کپ آئے،انہوں نے ان میں کیا کردار اداکیا۔یکم فروری 1982 کو سیالکوٹ میں پیداہونے والے شعیب ملک نے ایک روزہ کرکٹ میں ڈیبیو 14اکتوبر 1999کو شارجہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کیا،20 سالوں میں یہ 282 ون ڈے میچ کھیل سکے،صرف35کی اوسط سے بنائے گئے 7481 رنز میں ان کی صرف 9سنچریاں اور 44 ہاف سنچریز ہیں ، 156 وکٹیں کسی طرح بھی انہیں بڑا آل رائونڈر نہیں ثابت کرتی ہیںوہ 2003ورلڈ کپ کے لئے ٹیم میں شامل ہوئے،وقار یونس کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم کے لئے یہ صرف 3میچ کھیل سکے ،3اننگز میں 92 رنز ہی بناسکے ،ایک وکٹ لی ،17 اکتوبر 1980 کو سرگودھا میں پیدا ہونے والے محمد حفیظ نے بھی شارجہ میں ڈیبیو کیا،انکو 3اپریل 2003 میں زمبابوے کے خلاف موقع ملا،انہوں نے 17 سالہ کیریئر میں 208ون ڈے میچ کھیلے ،قریب 33 کی اوسط سے 6302رنزبنائے، 11 سنچریزاور 36 نصف سنچریز بناسکے، ساڑھے 37 کی بھاری اوسط سے 137وکٹیں لیں، ورلڈ کپ 2003کے فوری بعد ڈیبیو کرنے والے ٹاپ آرڈر یا اوپنر بلے باز یا اوسط درجے کےا سپنر کے لئے2007سے 2015 کےدرمیان 3ورلڈ کپ آئے۔وہ 2007 اور 2011 کے ورلڈ کپ کے لئے منتخب ہوئے ،انہیں 10 میچز کا بھرپور موقع ملا،جن میں 25 کی معمولی اوسط سے انہوں نے صرف اور صرف 230 رنزبنائے،61سکور سے بڑی اننگ پاکستان کو نہ دےسکے ،11وکٹوں میں بہترین بولنگ میں بھی صرف 2وکٹیں 16رنزکے عوض تھیں ،یہی وجہ ہے کہ محمد حفیظ 2015 ورلڈ کپ اسکواڈ میں جگہ بنانے میں ناکام رہے،4سالہ کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ شعیب ملک نے 66میچز میں 2ہزا ر سے بھی کم 1991رنزبنائے،66اننگ میں صرف 2سنچریز اور 15وکٹیں ہیں ،اندازہ لگائیں کہ ان میں سری لنکا اور زمبابوے جیسی ٹیموں کے خلاف 360 اور 352 رنزکرسکے،آخری 2 سالوں کی 25 اننگ میں 30 سے کم کی اوسط سے 555رنزکئے،کوئی سنچری نہیں ،2وکٹیں انکے کیریئر میں درج ہوئیں۔نیوزی لینڈ کے خلاف سب سے زیادہ 7میچوں میں 107،جنوبی افریقا کے خلاف 5میچوں میں 95 اور آسٹریلیا کے خلاف 3 میچوں میں 102 رنزرہے،بھارت کے خلاف 2میچزمیں 121رنز اتنے غیر مفید تھے کہ ٹیم ہارگئی ،اسی طرح محمد حفیظ گزشتہ 4 سال میں 53میچوں میں 2سنچریز کی مدد سے 1760 رنزکرسکے بیٹنگ ایوریج قدرے بہتر 40کے قریب رہا،15وکٹیں انکے کھاتے میں آئیں،آخری 26 میچز میں کوئی سنچری نہیں،چلے ہوئے کارتوس سے بہتر حارث سہیل، محمد رضوان،عابد علی ،آصف علی اور شان مسعود ہی ہوں گے، پاکستان کرکٹ ٹیم میں متوازن اور مفید کمبی نیشن کی ضرورت ہے،جہاں آل رائونڈرز بھی ہوں،چٹان جیسا وزن رکھنے والے اوپنرز بھی ،دبائو برداشت کرنے والی مڈل آرڈر بیٹنگ بھی اور مخالف کی کمر توڑنے والاتیز،میڈیم اور اسپن بولنگ اٹیک بھی،تب ہی ٹیم درست معنوں میں لڑے گی،ہارنے کے لئے نہیں جیتنے کے لئے میدان میں اترے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں