آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ20؍ذیقعد 1440ھ 24؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرانسیسی صدر کا آگ سے متاثرہ قدیم تاریخ چرچ کی تعمیر نو کا اعلان، واقعہ پر عالمی رہنمائوں کا اعلان، واقعہ پرعالمی رہنمائوں کا اظہار افسوس

پیرس(رضا چوہدری)فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے بارہویں صدی کے تاریخی گرجا گھرنوٹرا ڈام کیتھیڈرل چرچ کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کرنے اور تعمیر نو کا اعلان کیا ہے۔ چرچ کی تعمیر نو میں پچاس فیصد اخراجات امریکہ ادا کرے گا جبکہ پیرس کی میئرمادام اینی ہیڈالگو نے 50ملین یورو ابتدائی طور دینے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں مشہور850سالہ قدیم پیرس کے نوٹرا ڈام چرچ میں لگی خطرناک آگ کئی گھنٹے بعد بجھا دی گئی۔ فائر بریگیڈ حکام کا کہناہےکہ عمارت کے اصل ڈھانچے کو بچاکر چرچ کو مکمل تباہی سے بچا لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آگ سے متاثر ہوکر چرچ کی چھت جل گئی ہے،ایک بلند مینار،برج گر گیاجبکہ اس کے دو مین’’برج‘‘بچا لئے گئے ہیں، 500فائر فائٹرز نے آگ بجھانے میں حصہ لیا۔ صدر ایمانیول نے وزیراعظم ایڈوا فلپ کے ہمراہ متاثرہ چرچ کا دورہ کیا، صدر ایمانیول آگ لگنے سے دو گھنٹے بعد قوم سے اہم خطاب کرنے والے تھے جس میں انہوں نے

’’پیلی جیکٹ ‘‘مہم کے دوران سامنے آنے والے اہم معاملات کے متعلق خطاب کرنا تھا جو آگ لگنے کے باعث موخر کر دیا گیا،حادثے کی جگہ پہنچنے والے فرانس کے نائب وزیر داخلہ لورنٹ نونیزنے آگ بجھانے کے لئے طیاروں کی مدد نہ لینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ایکشن سے چرچ کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔واقعہ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیگر عالمی لیڈروں نے بھی اپنے اپنے پیغامات میں افسوس کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ آگ کی لپیٹ میں آیا چرچ گوتھک آرٹ کا شاہکار تھا، نوٹراڈام چرچ کی تعمیر1160میں شروع ہوئی اور 1260میں مکمل ہوئی، یہاں ہر سال ایک کروڑ20 لاکھ سیاح اس شاہکار چرچ کو دیکھنے آتے ہیں، اس میں موجود مصوری کے فن پارے بھی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔پیرس کی میئر اینی ہیڈالگو کا کہنا ہے کہ فائر فائٹرز نے بڑی کوشش سے آگ پر قابو پالیا ہے۔ علاوہ ازیں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوئی تاہم جس وقت آگ لگی اس وقت وہاں تزئین و آرائش کا کام جاری تھا۔پیرس کے پراسیکیوٹر آفس نے اس واقعے کو ایک حادثہ قرار دیا اور کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔آگ لگنے کا یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے پیش آیا، جلد ہی آگ نے کیتھیڈرل کی چھت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس میں موجود شیشے اور لکڑی کی تزئین و آرائش کے کام کو تباہ کردیا۔آگ لگنے کے بعد خدشہ تھا کہ کیتھیڈرل کا مشہور مینار بھی آگ سے بچ نہ پائے گا۔ اگرچہ ٹاور کا کچھ حصہ آگ کی زد میں آیا لیکن فرانس کے وزیر داخلہ کے مطابق اسے مزید پھیلنے سے بچا لیا گیا۔آگ بجھانے والے عملے کے ترجمان کے مطابق عمارت کی چھت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، والٹ کا ایک حصہ گر گیا ہے اور عمومی طور پر گرجا گھروں کے اوپر پایا جانے والا ڈھانچہ جسے ’سپائر‘ کہتے ہیں وہ بھی اب نہیں رہا۔ فرانس کے اخبار لے مونڈ کو دیئے گئے ایک بیان میں فرانس کے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر آگ بجھانے والا عملہ وقت پر اندر داخل نہ ہوتا تو یقیناً یہ پوری عمارت تباہ ہوجاتی۔تاہم فرانس کے وزیرِ ثقافت کا کہنا ہے کہ اگرچہ ڈھانچے کو بچا لیا گیا ہے لیکن یہ عمارت اب انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔بہت سے افراد اور گروہ نوٹرا ڈام کیتھیڈرل کی تعمیر میں مدد کے لئے متحرک ہوگئے ہیں اور لاکھوں یوروز کی امداد کا وعدہ کر لیا گیا ہے۔ جائے وقوع کا دورہ کرتے ہوئے صدرایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا کہ بدترین صورتحال سے بچا لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عہد کیا کہ وہ کیتھیڈرل کی تعمیرِنو کے لئے بین الاقوامی فنڈ ریزنگ مہم کا آغاز کریں گے۔انھوں نے اسے ایک خوفناک حادثہ قرار دیتے ہوئے مذید کہا ’فرانسیسی افراد یہی (تعمیرِنو) چاہتے ہیں اور ہماری تاریخ اس کی مستحق ہے۔صدر نے آگ بجھانے والے عملے کے 500 افراد کی بے مثال بہادری کی تعریف بھی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ امدادی ٹیمیں قیمتی آرٹ ورک اور مذہبی اشیا کو بچانے میں کامیاب ہوگئیں۔ تاریخ دان کیملے پاسکل نے کہا کہ ’قیمتی ورثہ تباہ ہو گیا ہے۔ نوٹرا ڈام کی گھنٹیوں سے صدیوں کے مبارک اور بدقسمت واقعات جڑے ہیں۔ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس سے ہم صرف خوفزدہ ہی ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب ہزاروں افراد کیتھیڈرل کے آس پاس کی گلیوں میں جمع ہو گئے کچھ افراد کو روتے ہوئے دیکھا گیا اور باقی غم کی نظمیں گاتے اور دعائیں کرتے رہے۔پیرس کے بے شمار گرجا گھروں نے اس حادثے کے ردِعمل میں اپنے گرجا گھروں کی گھنٹیاں بجائیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسیحی افراد مقدس ہفتہ منا رہے تھے۔ پیرس کے آرچ بشپ مائیکل آپیٹیٹ کا کہنا تھا ’نوٹرا ڈام جل رہا ہے، فرانس اور پوری دنیا رو رہی ہے یہ بہت جذباتی ہے ویٹیکن سٹی نے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا جبکہ برطانیہ کی وزیرِاعظم تھیریسامے نے اسے ’خوفناک‘ قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کو کہنا تھا ’اس قیمتی ورثے کو بچانے اور اس کی تعمیرِنو کیلئے ہم فرانس کے ساتھ کھڑے ہیں۔جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے نوٹرا ڈام کیتھیڈرل کو فرانس اور یورپی ثقافت کی علامت قرار دیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں