آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مساجد رشد و ہدایت کےا ہم مراکز ہیں، علمائے کرام، بریڈفورڈ میں مسجد کا افتتاح

بریڈ فورڈ (پ ر) بریڈ فورڈ میں ایک نئی مسجد و مرکز اسلامی ام القریٰ کا افتتاح عمل میں آیا ہے، اس کے خطیب خصوصی جمعیت کے سینئر قائد مولانا محمد عبدالہادی العمری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسجد ایک مسلمان کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح مچھلی کے لئے پانی ضروری ہے، مسجد کے بغیر ایک مسلمان کی زندگی نامکمل اور ادھوری ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو وہاں کئی قسم کے مسائل تھے، مگر سب سے پہلے آپؐ نے مسجد کی تعمیر کو ترجیح دی، مسجد نبوی کوئی بہت مضبوط اور پختہ عمارت نہیں تھی، مگر اس مسجد میں آپؐ کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ نے اس وقت کی سپر پاور طاقتوں فارس اور روم کو سرنگوں کردیا۔ اسامہ بن لثال اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ وہ جب مسلمانوں کے مقابلہ میں صحابہ کے ہاتھوں قید ہوکر آپؐ کے سامنے لائے گئے تو آپؐ نے انہیں مسجد میں رکھنے کا حکم دیا، تین دن کے بعد جب انہیں آزاد کردیا گیا تو وہ کچھ دور جاکر آپؐ کے پاس واپس آگئے اور اپنے اسلام قبول کرنے کا اقرار کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد میں ایک دن گزار کر ہی میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، یعنی مسجد کے نیک اعمال نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ ان کے دل کی دنیا ہی بدل گئی، آج بھی اس طرح کے نمونے دیکھے جاسکتے

ہیں، نیوزی لینڈ میں مسجد کے سانحہ کے بعد وہاں کے غیر مسلم باشندوں کا اچھا ردعمل اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی ہمدردیاں قابل قدر ہیں۔ نیو کاسل کی مرکزی مسجد اور برطانیہ کی دیگر مساجد میں اوپن ڈےOpen Dayرکھا گیا، جہاں غیر مسلموں کے لیے مساجد کے دروازے کھول دیئے گئے تھے تو خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی اور کئی غیر مسلم مرِد و خواتین خوشی خوشی دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ گزشتہ دنوں بریڈ فورڈ میں ایک چرچ کو مسجد میں تبدیل کرکے نماز ظہر کی باجماعت ادائیگی سے اس کا افتتاح عمل میں آیا، اس کے بعد ایک باوقار اجتماع منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے نیوزی لینڈ کے درجات اللہ بلند فرمائے اور اس کے زخمیوں کو اللہ کریم شفا کاملہ عطا فرمائے۔ آج میڈیا اذان، نماز، خطبہ جمعہ سنا رہا ہے۔ اس واقعہ کے بعد کتنے لوگ اسلام قبول کرچکے ہیں۔ اب ہم دیکھیں گے کیا ہمارا کردار ادا کیا ہے کہ اس سے متاثر ہوکر کوئی اسلام کے قریب آسکتا ہے۔ مرد و حضرات کے علاوہ خواتین بھی اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ کی بندیوں کو مساجد سے مت روکو! رسولؐ، صحابہ کرام اور سلف صالحین کے زمانے میں مساجد کے دروازے ان کے لئے کھلے تھے۔ اسی لئے شرعی اور عقلاً خواتین کو مساجد سے روکنا ناجائز ہے۔ طہارت، وضو اور نماز وغیرہ کے مسائل وہ کہاں سے سیکھیں گی۔ لہٰذا خواتین بھی مساجد سے فائدہ اٹھائیں اور توحید و سنت اپنائیں اور شرک و بدعات اور غیر شرعی رسومات سے اجتناب کریں۔ مساجد رشد و ہدایت کے اہم مراکز ہیں۔ میں اس موقع پر بانی مسجد مولانا حافظ شریف اللہ شاہد اور ان کے معاونین کو مبارکباد دیتے ہوئے اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس مسجد کو رشد و ہدایت کا مرکز بنائے اور ان تمام کی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین، ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیتہ اہل حدیث برطانیہ حافظ حسین الرحمن حبیب جہلمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ1975ء میں جمعیت کی بنیاد رکھی گئی۔ لیسٹر میں حاجی مبارک علی، برمنگھم میں مولانا محمد عبدالکریم ثاقب مدنی (برادر ثاقب)، مولانا فضل کریم عاصم اور مولانا محمود احمد میرپوری نے برطانیہ میں جمعیتہ کا پودا لگایا۔ اس کے بعد مولانا محمد عبدالہادی العمری نے اس کو سینچا۔ اکابرین کے بعد آج ہم ایک اور مسجد کا افتتاح کررہے ہیں، اس پر پہلے ہم اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں اور بقول ڈاکٹر ثاقب انشاء اللہ ہم اس ملک میں مساجد کی سنچری مکمل کرلیں گے۔ آج ہم سب سے پہلے اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد حافظ شریف اللہ شاہد کے شکر گزار ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام مختلف آزمائشوں میں کامیاب نکلے، بالآخر وہ اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر مکتہ المکرمہ میں اللہ کے گھر کعبتہ اللہ کی تعمیر کی اور اس کے بعد اللہ کے حضور ان دونوں نے قبولیت کی دعا فرمائی۔ ہمیں بھی یہی کردار اپنانا ہے۔ انہوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حضرت الامیر مولانا محمد ابراہیم میرپوری ناسازی مزاج کی بنا آج یہاں نہیں آسکے، مگر انہوں نے اپنے پیغام میں آپ تمام کو مبارکباد پیش کی ہے۔ خصوصاً حافظ شریف اللہ اور ان کے معاونین کو، اللہ کریم تمام کو جزائے خیر عطا کرے۔ مولانا عبدالستار عاصم نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب اس عمارت کےSaleہونے کی خبر ملی تو میں اور حافظ شاہد تقریباً رات دیر گئے اس کو دیکھنے کے لئے آئے تھے۔ آج مجھے ایک خواب لگ رہا ہے، اللہ کے رسولؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ کی رضا کے لئے مسجد کی تعمیر کرے اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا۔ نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیتہ اہل حدیث برطانیہ مولانا شفیق الرحمن شاہین نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت ابو الدرداؓ کے بیٹے نے اپنے والد سے نصیحت کرنے کی خواہش کی تو انہوں نے کہا کہ بیٹا! اپنے فارغ اوقات مسجد میں گزارو اور مسجد کو اپنا دوسرا گھر بنالو۔ اندازہ فرمایے کہ صحابی رسول نے اپنے بیٹے کو کیسی قیمتی نصیحت فرمائی ہے، جو مسجد سے جتنا قریب ہوگا، اس کی زندگی اتنی ہی پر سکون ہوگی۔ میں اس موقع پر حافظ شاہد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ معروف داعی دین برادر مسعود اللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسجد کی عمارت مقصود نہیں ہے، بلکہ اس کے بنانے میں جو اخلاص ہے وہ درکار ہے، حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام نے مکتہ المکرمہ میں اللہ کا گھر بنایا اور وہ علاقہ ام القریٰ قرار پایا۔ اللہ تعالیٰ اس مرکز ام القریٰ کو بھی مقبولیت عطا فرمائے، آمین۔ پروفیسر عبدالرحمن عتیق نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ مساجد اسلام کے قلعے ہیں اور یہ ہماری اولاد کی حافظت کا ذریعہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ کسی شخص کو مسجد میں آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو۔ مولانا محمود الحسن یزدانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج بریڈ فورڈ میں چشمتہ توحید و سنت کے افتتاح پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اس میں تعاون کرنے والے دنیا سے چلے جائیں گے، مگر اس میں پڑھی جانے والی ایک ایک نماز، قرآن حکیم کا ایک ایک لفظ اور ذکر و اذکار و عبادات کا ثواب ان مرحومین کو برابر پہنچتا رہے گا انشاء اللہ، میرے چھوٹے بھائی حافظ شاہد اور میرے والدین نے ہمیں نیکی کے راستے میں لگا دیا ہے، اللہ قبول فرمائے، آمین۔ مولانا عبدالباسط العمری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اندلس (اسپین) کی بلڈنگوں کو دیکھ کر ایک صحابی سے پوچھا گیا کہ خوشی کے اس موقع پر آپ رو کیوں رہے ہیں تو انہوں نے کہا تھا کہ میں اس لئے رو رہا ہوں کہ یہاں بسنے والے لوگ جب اللہ کو بھول گئے تواللہ نے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم ان کے ملک پر حکومت کریں، اگر ہم بھی اللہ کو فراموش کردیں گے تو ہمارا حال بھی ایسا ہی ہوجائے گا اور یہ حکومت اللہ تعالیٰ کسی اور کے حوالے کردے گا۔ بانی مرکز ام القریٰ مولانا حافظ شریف اللہ شاہد نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ یہ عمارت صدیوں پرانی ہے، مگر اس میں اللہ کے ساتھ حضرت عیسیٰ اور حضرت مریمؑ کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے، آج اللہ نے ہمیں یہ سعادت عطا فرمائی ہے اور ہم نے اسے توحید سنت کا مرکز بنانے کا ارادہ کرلیا ہے اور آج سے الحمداللہ نمازوں کا اس میں آغاز ہوچکا ہے۔ بہت سے ایسے افراد ہیں جنہوں نے پہلے دن سے اس مرکز کا تعاون کیا ہے۔ مرکزی جمعیتہ اہل حدیث برطانیہ اس کی سرپرستی کررہی ہے۔ شیخ عبدالباسط اور ان کے ساتھیوں کا تعاون جاری ہے۔ برادر مقصود، ساجد محمود، پروفیسر عبدالرحمن عتیق کے بھی ہم شکر گزار ہیں۔ بریڈ فورڈ کی تمام مساجد اور ان کے ذمہ داروں اور نمازیوں نے تعاون کیا ہے۔ ناظم اعلیٰ حافظ حبیب الرحمن نے گلاسگو سے یہاں کا سفر کیا ہے۔ مولانا محمد عبدالہادی العمری اور مسجد الہدیٰ کے امیر حاجی محمد اکبر اور میرے مشفق و سرپرست ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیتہ اہل حدیث پاکستان پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی اور تمام معاونین کو اللہ کریم دنیا و آخرت میں جزائے خیر عطا فرمائے۔ میرے پاس ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے وہ مناسب الفاظ نہیں ہیں، بس میں اللہ ہی پر چھوڑتا ہوں کہ وہ انہیں بہتر سے بہترین بدلہ عطا فرمائے۔ اس وقت آپ تمام کی یہاں تشریف آوری اور میری اور میرے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ حافظ شاہد نے کہا کہ اس موقع پر ہم نے مردوں اور خواتین کی نمازوں کے لیے دو ہال کا افتتاح کیا ہے، یعنی اس عمارت کا ایک فیز مکمل ہوچکا ہے۔ تقریباً مزید ایک لاکھ پونڈ کا تعاون حاصل ہوجائے تو ہم آئندہ اس کے دوسرے فیز یعنی ایک بہت بڑے ہال کی تعمیر مکمل کرسکتے ہیں۔ انشاء للہ اس سال رمضان المبارک تراویح کا بھی باقاعدہ انتظام ہوگا۔ دعائے مسنون پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا، نماز عصر باجماعت ادا کی گئی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں