آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیض آباد دھرنا کیس، فیصلے سے افواج پاکستان کے حوصلے پر منفی اثرات مرتب ہوئے، وزارت دفاع

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) وزارت دفاع نے دھرنا کیس کے فیصلے میں اپنے حوالے سے دی گئی فائینڈنگز کیخلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے جبکہ پی ٹی آئی اور الیکشن کمیشن نے بھی رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے نظر ثانی کی درخواستیں دا ئر کردی ہیں، وزارت دفاع نے منگل کے روز دائر کی گئی نظر ثانی کی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ فیصلے سے افواجِ پاکستان کے حوصلے پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ،عدالتی فیصلے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ افواجِ پاکستان اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہی ہے ،عدالتی فیصلے میں یہ بات بغیر کسی ٹھوس شواہد کے کہی گئی ، عدالتی فیصلے میں افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں جبکہ فیصلے میں افواجِ پاکستان کے سربراہان کو دی گئی ہدایات غیر واضح اور مبہم ہیں، فیصلے میں افواجِ پاکستان کے کسی فرد کے ملوث ہونے کی نشان دہی یا شواہد نہیں دیے گئے ہیں، درخواست گزار نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آئی ایس

آئی اور فوج فیض آباد دھرنے میں ملوث تھیں اور افواجِ پاکستان اور آئی ایس آئی اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگانے اورعام انتخابات 2018 میں گڑ بڑ میں ملوث رہی ہیں ، در خوا ست گزار نے کہا ہے کہ فیصلے میں آئی ایس آئی اور فوج سے متعلق مذکورہ آبزرویشن کی بنیاد اخباری خبریں اور مفروضے ہیں جبکہ تاریخ اور عدالتی نظام کا موازنہ دھرنا کیس فیصلے کو سپورٹ نہیں کرتا ہے ،درخواست گزار نے کہا ہے کہ عدالت نے کسی صحافی یا خبر کے مصنف کو بلا کر الزامات کا جائزہ نہیں لیا ہے ، الیکشن کمیشن کے دس جولائی 2018 کے نوٹیفکیشن کا جائزہ لے کر ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو حتمی طور پر سمجھا جا سکتا ہے، افواجِ پاکستان کو عام انتخابات میں سکیورٹی انتظامات کے لیے بلایا گیا تھا، فوج نے انتخابی عمل میں بے قاعدگی کی صورت میں پہلے پریزائیڈنگ افسر کو بتانا تھا،اس کی طرف سے ایکشن نہ لینے پر فوج کے مجاز افسر کے علم میںمعاملہ لایا جانا تھا کیونکہ فوج کے مجاز افسر کو فوری ایکشن کا اختیار حاصل تھا اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسی پس منظر میں بیان دیا تھا،درخواست گزار نے کہا ہے کہ افواجِ پا کستا ن نے محفوظ ماحول اور بے قاعدگیوں کی نگرانی کے لیے اپنی خدمات پیش کی تھیں ،درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ ملک دشمن بیرونی طاقتیں افواجِ پاکستان پر خطے میں انتہا پسندوں کی معاونت کا الزام عائد کر رہی ہیں، جبکہ یہ تاثر جھوٹا ہے، لیکن عدالت کا یہ فیصلہ مجموعی طور پر انتہا پسند تنظیموں کی معاونت سے متعلق جھوٹے بیا نیے کو تقویت دے رہا ہے حالانکہ پاکستان خود اس خطے میں دہشت گردی کا شکار ہے، جس میں ہم نے بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھایا ہے، دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے ہزاروں معصوم شہریوں اور فوجی جوانوں نے جان کے نذرانے پیش کیے ہیں، درخواست گزار نے اپنی درخواست میں فوج کی دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں اور فوجی آپریشن کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، افواجِ پاکستان کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ اور شہریوں کی معاونت سے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں،درخواست گزار نے کہا ہے کہ اگر اس فیصلے پر نظر ثانی نہ کی گئی تو بھارت سمیت ملک دشمن عناصر کو جھوٹا پروپیگینڈا کرنے کا موقع ملے گا،درخواست گزار نے کہا ہے کہ اصغر خان کیس اور فیض آباد دھرنا کیس میں بہت فرق ہے، فیض آباد دھرنا کیس میں فوج کے کسی فرد کے ملوث ہونے یا دیگر الزامات سے متعلق شواہد پیش نہیں کیے گئے ،جبکہ فاضل عدالت نے فیصلہ جاری کرنے سے قبل الزامات کے حوالے سے وزارت دفاع یا فوج کے کسی اہلکار کو نوٹس بھی جاری نہیں کیا ہے ،درخواست میں بیان کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری ایک وڈیو میں پاکستان رینجرز کے ایک افسر دھرنا شرکاء کو لفافے دیتے دکھائی دیتے ہیں ،اس حوالے سے درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان رینجرز کو وزارت دفاع نے دھرناء شرکا کو ہٹانے کے لیے تعینات کیا تھا،اور اس حوالے سے دھرنا شرکاء اور حکومت کے مابین ایک معاہدہ قلمبند ہوا تھا ،جب دھرنا شرکاء کو واپس جانے کے لئے کہا گیا توان میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ ان کے پاس گھر واپس جانے کا کرایہ نہیں ہے،جس پر وزارت داخلہ کے حکم نامہ پر عملدرآمد کے لیے انہیں سفری خرچ مہیا کیا گیا کیونکہ دھرنا شرکاء اور حکومت کے مابین معاہدہ کے مطابق دھرنا شرکا ء کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاسکتا تھا، اسی بناء پر سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران اس حوالے سے کوئی وضاحت نہیں مانگی تھی،د رخو ا ست گزار نے کہا ہے کہ میڈیا پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان حقائق کے برعکس نشر کیا گیا تھا جبکہ جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور ڈان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی نشریات کو ڈی ایچ اے اور فوجی چھانیوں میں بند کرنے سے متعلق بھی عدالت میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے تھے ،درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ افواجِ پاکستان میں اپنے حلف سے رو گردانی پر زیرو برداشت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، حلف کی خلاف ورزی سنگین الزام ہے جسے بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں