آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طارق بٹ

اسلام آباد :… پاک بھارت کرکٹ میچوں کا ہوم گرائونڈز پر جہاں دور دور تک پتہ نہیں۔ دونوں ممالک کی پارلیمانی ٹیمیں آئندہ جولائی میں برطانیہ میں کرکٹ کھیلیں گی۔ برطانوی پارلیمانی کرکٹ ٹیم 8 تا 15 جولائی اس ایونٹ کی میزبان ہو گی۔ یہ ایونٹ 30 مئی تا 14 جولائی 2019 انگلینڈ میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کے سائیڈ لائنز پر منعقد ہو گا۔ مجموعی طور پر 8 پارلیمانی ٹیمیں مذکورہ ومجوزہ ایونٹ میں شریک ہوں گی۔ ورلڈ کپ میں پاک بھارت کرکٹ ٹیموں کے درمیان گروپ میچ 16 جون کواولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں طے ہے۔ دریں اثناء 15 رکنی ٹیم پاکستانی ٹیم کا حصہ بننے کے لئے حکمراں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے 43 ارکان قومی اسمبلی میں کاٹنے کا مقابلہ ہے۔ ان میں دو وفاقی وزراء فواد چوہدری، علی امین گنڈا پور اورخصوصی معاون علی نواز اعوان بھی دوڑ میں شامل ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے پاکستان کرکٹ بورڈ سے پارلیمانی ٹیم کے انتخاب کی استدعا کی ہے جس کے لئے پی سی بی نے ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذر کو مقرر کیا ہے۔ جنہوں نے یہ ذمہ داری اسلام آباد ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر شکیل شیخ کو سونپ دی۔ اسپیکر نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے ملتان سے رکن قومی اسمبلی زین حسین قریشی کو کوآرڈینیٹرمقرر کیا ہے۔ شکیل شیخ نے کہا کہ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے جب پارلیمانی کرکٹ ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تیمور اعظم ، صبیح اظہر اور ایاز اکبر کو سلیکٹرز مقرر کیا گیا ہے۔ یہ سلیکٹرز کو چز کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں گے۔ خواہشمند ارکان پارلیمینٹ کی ٹرائلز میں شرکت لازمی ہے۔ پریکٹس میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوں گے۔ سابق قومی کر کٹرز پر مشتمل ٹیم سے بھی پارلیمانی ٹیم کا نمائشی مییچ رکھا گیا ہے۔ٹورنامنٹ میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقا، افغانستان اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں شریک ہوں گی ۔ ٹورنامنٹ ٹی ففٹین طرز پر کھیلا جائے گا۔ فائنل ٹی ۔ ٹوئنٹی فارمیٹ پر ہو گا۔ کرکٹرز کے لئے عمر کی حد انڈر۔45 ہے۔ ٹیم کے دستیاب ممکنہ کھلاڑیوں میں اکثریت کا تعلق تحریک انصاف سے ہے جن میں شفقت عباسی، ملک انور تاج، فضل محمد خان، شیر علی ارباب، عمران خٹک، شاہد احمد، علی امین خان، گل داد خان، راجا خرم، شہزاد نواز، علی نواز، فواد احمد، فرخ حبیب، فیض اللہ، عامر سلطان، رائے محمد مرتضیٰ اقبال، مخدوم زین حسین قریشی، فہیم خان، عالمگیر خان اور جمشید تھامس نمایاں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان میں ڈاکٹر عباد اللہ خان، اظہر قیوم نہرا، ڈاکٹر ملک مختار احمد، رانا ارادت شریف خان، کیسومل خیل داس اور پیپلز پارٹی سے سجاد حسین طوری، مرتضیٰ محمود، عابد حسین، جام عبدالکریم اور نوید ڈیرو کے نام سامنے آئے ہیں۔ ٹیم میں ایوان بالا سینیٹ کا کوئی رکن شامل نہیں ہو گا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں