آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ13؍ شعبان المعظم 1440 ھ19؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتساب:حکومت نےاپوزیشن کو خاموش کرانے کا ہتھیار بنالیا،نفیسہ شاہ

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آپس کی بات “میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کرتےہوئے پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ حکومت نے احتساب کو اپوزیشن کو خاموش کرانے کا ہتھیار بنالیا ہے،معاون خصوصی وزیراعظم علی نواز اعوان نے کہاکہ دو خاندانوں کے علاوہ تو پاکستان میں کسی نے ترقی نہیں کی،سارے جرائم ظاہر ہو چکے، پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حمزہ شہباز اور شہباز شریف رول آف لاء کا سامنا کررہے ہیں۔معاون خصوصی وزیراعظم علی نواز اعوان نے کہا کہ پاکستان میں اگر کسی کو کاروبار کرنا آتا ہے اور سالوں کے اندرکروڑوں پتی اور اس کے بعد اربوں پتی ہونا آتا ہے تو یہ شریف فیملی اور ان کے حواریوں کو آتا ہے اور باقی تو غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں اصل کسی کو پتہ ہے تو ان کو اور زرداری کو پتہ ہے ان دو خاندانوں کے علاوہ تو پاکستان میں کسی نے ترقی نہیں کی ہے اس مرتبہ ان کے سارے کرائم جو پاکستان میں ہوئے ہیں وہ ظاہر ہوچکے ہیں اور ان کو پتہ ہے کہ اس میں سے نکلنا ناممکن ہے پیپلز پارٹی نے اتنے سارے جلسے پچھلے پانچ سال میں نہیں کئے جتنی انہوں نے گزشتہ دو مہینوں میں کردی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ معاملہ یہ ہے کے سلیمان شہباز اور حمزہ شہباز پر ریفرنس دائر ہونے

جارہا ہے نیب ریفرنس دائر کرے گاتو اس لئے ان کے جو قانونی مشیر ہیں انہوں نے ان کو یہی کہا ہے کہ آپ اپنا دفاع ظاہر نہ کریں کیونکہ جب آپ کے خلاف ریفرنس دائر ہونا ہے تو آپ کو اپنا دفاع عدالت میں پیش کرنا چاہئے اور یہ حکمت عملی بہتر ہے میں ان کے دفاع میں کوئی بات نہیں کررہاوہ ریفرنس کے بعد جب عدالت میں پیش ہوں گے تو وہ وہاں پر جو بھی مناسب سمجھیں گے اپنا موقف اختیار کریں گے ایک عام فہم بات ہے کہ منی لانڈرنگ وہ پیسہ ہوتا ہے جو پیسہ آپ ملک سے باہر بھیجیں اگر باہر سے کوئی پیسہ میرے اکاؤنٹ میں آرہا ہے وہ تو میری وائٹ منی ہے وہ ایک ایسا ذریعہ ہے کے قانون کے تحت وہ میری وائٹ منی تصور ہوگی اس سے میں کوئی کاروبار کروں میں اس سے کوئی اثاثہ خرید و ں اس پر مجھے باقاعدہ ٹیکس میں رعایت بھی ملے گی اور اس کا ذریعہ معلوم نہیں کیا جاسکتایہ قانون ہے اب حکومت اور اس کے اداروں کے قانون کے تحت چلنا ہے انہوں نے قانون سے تجاوز نہیں کرنااگر وہ قانون غلط ہے تو اس قانون کو ختم کردیں اور نیا قانون بنائیں اور اس قانون کے تحت جن جن کے اکاؤنٹس میں رقم آئی ان سب کو پکڑیں اور سب کو کٹہرے میں لائیں۔اگر گزشتہ 15 سال میں اگر50 کروڑٹی ٹی ہوئی ہے تو اس کو اگر یہ کھنگالیں گے تو پھر ہر سال جو 15،20 ارب کی ترسیلات زر آتی ہے یہ بھی ختم ہوجائے گی انہوں نے معیشت کا بیڑا غرق کیا ہے ہر طرف لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے ہیں اس کا بھی یہ بیڑا غرق کردیں گے۔نہ انہوں نے خود کاروبار کیا ہے نہ کسی کو کرنے دیں گے یہ کاروبار کو تباہ کریں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں