آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات12؍شعبان المعظم 1440ھ 18؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(اسٹاف رپورٹر)شہرقائد میں مبینہ پولیس مقابلے نے ایک اور معصوم بچے کی جان لے لی،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نوٹس لیتے ہوئے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ۔تفصیلات کے مطابق صفورہ چورنگی یونیورسٹی روڈ پر مبینہ طور پر پولیس اور ملزمان میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کی زد میں رکشے میں والدین کے ساتھ سوار ڈیڑھ سالہ محمد احسن شیخ ولدکاشف شیخ جاں بحق ہو گیا واقعہ سے والدین غم سے نڈھال ہوگئے، لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ بچے کو پولیس کی گولیاں لگیں،مقتول کے والد کاشف کا کہنا ہے کہ ہم رکشے میں جا رہے تھے کہ پولیس کی فائرنگ سے احسن کے سینے میں گولی لگ گئی، جسے فوری طور پراسپتال منتقل گیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکادریں اثنا آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے بچے کے جاں بحق ہونے کے حوالے سے میڈیا رپورٹس پر ڈی آئی جی ایسٹ سے جامع انکوائری اور جملہ ضروری اقدامات پر مشتمل رپورٹ فی الفور طلب کرلی ہے،دوسری جانب ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے بچے کی ہلاکت کے واقعے میں ملوث اہلکاروں کی شناخت کر لی گئی ہے،ان کا کہنا تھا کہ دونوں اہلکاروں کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے تاکہ شواہد سامنے آئیں، موٹر سائیکل سوار اہلکار کسی کی نشاندہی

پر مبینہ ڈاکوؤں کا پیچھا کر رہے تھے۔یونیورسٹی روڈ پر پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ کی زد میں آکر کمسن بچے کے جاں بحق ہونے کے معاملےپر ڈی آئی جی ایسٹ کا کہنا ہے کہ پولیس کو سختی سے ہدایت ہیں کہ وہ پبلک مقامات پر فائرنگ نہ کریں اور پولیس اہلکاروں نے اسکی خلاف ورزی کی اور چاروں اہلکاروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد دو پولیس اہلکاروں صمد اور امجد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور واقعے کی اعلیٰ سطح پر تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ بچے کے چچا کا کہنا ہے کہ بچے کے والد کی آنکھوں کی بینائی بہت کمزور ہے اور وہ اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ہمراہ اپنی رہائشگاہ بلاک 8 گلستان جوہر جارہے تھے کہ اس دوران راستے میں وہ ایک بیکری کے سامنے رکے اور یہ واقعہ پیش آیا انہوں نے کہا کہ انکا آبائی تعلق شہداد کوٹ سندھ سے ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کی لاش کو نجی اسپتال سے پوسٹ مارٹم اور دیگر کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔شہریوں کا کہناہے کہ نئے بھرتی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی بہتر عسکری تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی لازمی حصہ بنائیں کیونکہ پولیس اہلکاروں کی گشت اور اسنیپ چیکنگ کے دوران شہریوں سے بدتمیزی معمول بن گئی ہے، شہریوں نے آئی جی سندھ ،ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے شہریوں کے رویے کو بہتر بنانےکے اقدامات کئے جائیں۔علاوہ ازیں یونیورسٹی روڈ پرمبینہ پولیس مقابلے میں جاں بحق کمسن بچے کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا، ذرئع کا کہنا ہے کہ ایڈیشنل پولیس سرجن کی تیار کردہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچے کو دائیں جانب سے سینے میں گولی لگی جو بائیںجانب کمر سے پار ہوگئی،بچے کو ایک ہی گولی لگی جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا، انہوں نے کہا ہے کہ گولی دس سے پندرہ فٹ کے فاصلے سے لگی اوروہی گولی والد کو بھی چھو کر گزری، گولی کے نشان سے بظاہر چھوٹا ہتھیار استعمال ہوا ہےجبکہ تفصیلی رپورٹ چند روز بعد جاری کی جائے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں