آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور( صابر شاہ)وزیراعظم عمران خان کی طرف سے وفاقی حکومت کی اعلان کردہ ’’نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم ‘‘ کےبدھ کو اجراء کےموقع پر اعلان کیا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں ایک لاکھ41 ہزار گھر تعمیر ہوں گے‘اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف 50 لاکھ گھروں کے وعد ے کے بعد اب ان کے 2.8 فیصدکی تعمیر کرے گی، عمران خان نے کہا کہ گوادر میں مچھیروں کے لئے ایک لاکھ دس ہزار گھر، اسلام آباد میں حکومتی ملازمین کے لئے تقریباً 25ہزار جبکہ آزاد کشمیر کے باسیوں کو رہائش کی سہولیات دینے کے لئے 6 ہزار گھر تعمیر کئے جائیں گے‘وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ اس ضمن میں غریب طبقات کے لئے 5 ارب روپے مالیت کا ریوالونگ فنڈ قائم کیا گیا ہے جسے گھر کے مالک بننے کے خواہش مند افراد کو 20 ارب تک قرضے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ یہ فنڈنگ پلان یقینا بُرا نہیں لیکن پاکستان کو ملک میں ایک کروڑ گھروں کی تعمیر کے لئے 180 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، جو ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز( آباد) کے مئی 2018ء کے اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم پاکستانی معیشت کا تقریباً نصف بنتا

ہے‘ مئی 2018ء میں قومی میڈیا کے مطابق آباد کے بعض اہم عہدیداروں کا کہنا تھا کہ کم لاگت یونٹ کی قیمت کم از کم 21 لاکھ روپے ہوگی، آباد کے عہدیداروں کی 21 لاکھ روپے کی دی گئی تفصیلات کے مطابق 4 لاکھ روپے زمین اور ترقیاتی اخراجات ، جبکہ مزید1500 روپے فی مربع فٹ پر 1200مربع گز پلاٹ پر تعمیرات کے لئے درکار ہوں گے۔ آباد کے کرتادھرتائوں کے مطابق مزید 2 لاکھ روپے حکومتی فیسوں اور انتظامی اخراجا ت پر خرچ ہوں گے۔ دوسری جانب مئی 2018ء کی اسی تقریب میں پاکستان مارٹگیج ریفنانس کمپنی ( پی ایم آر سی )کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او این کے روپان کا کہنا تھا کہ اس بحران سے نمٹنے کیا واحد اہم طریقہ مارٹگیج پر شرح سود میں کمی ہے، روپان کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں رہن کی شرح اس کی جی ڈی پی کے صرف 0.5فیصد ہے ، جبکہ بھارت میں مارٹگیج کا جی ڈی پی سے تناسب 10فیصد اور ملائشیا میں 30 فیصد ہے۔ ’’جنگ گروپ اور جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک‘‘ کی اس موضوع پر ریسرچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو اس وقت تقریباً ایک کروڑ گھروں کی کمی کا سامنا ہے جبکہ یہ طلب ہر سال 0.7 ملین کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔27 نومبر2017ء کو برلن کی آن لائن رئیل اسٹیٹ مارکیٹ ’’لا موڈی‘‘ کی جو 34ملکوں میں آپریشنز میں مصروف ہے‘رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’’2016ء تک پاکستان میں ایک کروڑ کے نزدیک گھروں کی کمی تھی جو ہر سال 0.7 ملین کی شرح سے بڑھ رہی ہے، یہ تشویش ناک صورت حال ہے جس پر فوری توجہ دینی چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید