آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہمارے ملک میں پچھلے دس برسوں میں جس تعداد سے پرائیویٹ میڈیکل کالجز بننا شروع ہوئے، اِس قدر پچھلے پچاس برسوں میں اتنے پرائیویٹ میڈیکل کالجز، پرائیویٹ ہسپتال نہیں بنے اور پچھلے پانچ برسوں میں پی ایم ڈی سی نے کچھ زیادہ ہی تیزی دکھائی، ایسے ایسے میڈیکل کالجز بنائے جا رہے ہیں کہ اگر اُن کا پوری ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیا جاتا تو یہ کالجز کبھی بھی ایک ٹیچنگ ہسپتال کے معیار پر پورے نہیں اُترتے، دوسری طرف ان پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے ساتھ جو ہسپتال منسلک ہیں وہ بھی کسی طور پر بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں، یہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز پچھلے پانچ برسوں میں کیوں اس قدر تیزی کے ساتھ قائم ہوئے، اس پر ہمیں کوئی تبصرہ نہیں کرنا، سمجھ دار کے لئے اشارہ ہی کافی ہے۔اب ان پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی فیسوں کی طرف آتے ہیں، سرکار اپنے میڈیکل کالجوں میں زیرتعلیم سٹوڈنٹس سے سالانہ 24 ہزار فیس لیتی ہے، ہوسٹل کے اخراجات شامل کر لیں تو سالانہ چالیس پچاس ہزار روپے کے قریب بن جائیں گے۔میرے سامنے ایک ایسے پرائیویٹ میڈیکل کالج کی فیسیں کا چالان فارم پڑا ہے، جس نے پچھلے برس تو چھ لاکھ 69 ہزار دو سو پچاس روپے لی گئی اور اس سال انہوں نے فیس 7,74785 روپے سالانہ کر دی، جس میں ہاسٹل کے اخراجات شامل نہیں، یعنی پانچ برس میں پرائیویٹ میڈیکل

کالج میں ایک طالب علم سے 38,37925 روپے وصول کئے جاتے ہیں، انجکشن لگانا پھر بنی نہیں آتا، سرکار پانچ برس میں بغیر ہوسٹل کے اخراجات کے صرف ایک لاکھ بیس ہزار روپے لیتی ہے اور ماضی میں سرکاری سیکٹر نے بہترین ڈاکٹرز پیدا کیے۔قیامِ پاکستان کے وقت اس ملک میں صرف ایک کے ای میڈیکل کالج ہی تھا، جس نے پورے ملک میں سرکاری میڈیکل کالجوں کے قیام کے لئے مہارت اور ڈاکٹرز مہیا کیے۔ دُکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں 98% پرائیویٹ میڈیکل کالجز قائم کرنے والے بڑے بڑے نامور سرکاری پروفیسرز بھی تھے اور اب بھی بعض پروفیسرز سرکاری جاب میں ہوتے ہوئے پرائیویٹ ہسپتال اور میڈیکل کالجز چلا رہے ہیں۔کیا پی ایم ڈی سی کے قوانین کے مطابق تمام پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں اساتذہ کی تعداد ہے۔؟ ہرگز ایسا نہیں، پھر پی ایم ڈی سی نے یہ رعایت کیوں دے رکھی ہے؟ پھر حال ہی میں چند ایک پرائیویٹ میڈیکل کالجوں نے خود سے اپنی سیٹوں میں اضافہ کر لیا ہے، اس کی اجازت کن قوانین کے تحت دی گئی؟
وائی ڈی اے جو کہ ینگ ڈاکٹروں کی تنظیم ہے، جو 2008ء میں ایک واقعے کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی تھی اور یہ پاکستان کی شاندار سیاسی روایات کے مطابق جنوری 2009ء میں اس کے بھی دو گروپ ہو گئے تھے، اس نے اپنے قیام سے آج تک صرف اور صرف اپنے حقوق، اپنی تنخواہوں اور اپنے مطالبات کے لئے سات / آٹھ مرتبہ ہڑتال کی، کئی سینئر ڈاکٹروں کی توہین کی، ان پر تشدد کیا۔ ان کے تشدد کا نشانہ صحافی بھی بنے مریضوں کے لواحقین اور مریض خود بھی وائی ڈی اے نے حال ہی میں گوجرانوالہ میں بھی اپنے مطالبات کے حوالے سے ایم ایس کی پٹائی کر ڈالی تھی، جس پر بڑا شور مچایا گیا۔
آج وائی ڈی اے سے ہمارے چند سوال ہیں، والی ڈی اے نے اپنی تنخواہوں، اپنی سہولیات اور اپنے مطالبات منوانے کے لئے ہڑتالیں کیں، ایمرجنسی کور کو بند کیا، علاج نہیں ہونے دیا، اِن ڈور اور آؤٹ ڈور کو بند رکھا، ایمرجنسی سے مریضوں کو دھکے دے کر باہر کیا، ڈرپ لگی ہوئی مریضوں کی ڈرپ اتار دی اور دھکے دے کر ہسپتال سے باہر کیا۔
کیا کبھی وائی ڈی اے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں اور معیار پر ہڑتال کی۔؟ کبھی اُن کے مالکان کے خلاف دھرنا دیا۔؟ بڑے بڑے نامور پروفیسرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو دیکھنا پسند نہیں کرتے لیکن بیوروکریٹ آ جائے، وزیر آ جائے تو اس کو اپنے آفس کے کمروں میں چائے پلا کر ان کا معائنہ کرتے ہیں اور چلتے چلتے سیمپل کی ادویات بھی پیش خدمت کرتے ہیں۔
کیا وائی ڈی اے نے اس بات پر ہڑتال کی کہ لاہور کے سرکاری ہسپتالوں کی ایم آر آئی اور سی ٹی سکین اکثر خراب رہتی ہیں، ہر سرکاری ہسپتال میں لیبارٹری دو بجے کے بعد بند کر دی جاتی ہے، کبھی اس پر وائی ڈی اے نے آواز اٹھائی، ریٹائرڈ پروفیسروں کو بار بار بھرتی کیا جاتا ہے، کبھی اِس پر وائی ڈی اے نے بات کی، اگر حکومت نے ریٹائرڈ پروفیسروں کو بار بار ملازمت دینی ہے، تو پھر ریٹائرڈ کیوں کر رہے ہیں! سب ناگزیر آج قبرستانوں میں پناہ گزین ہیں، یہ ملک پھر بھی چل رہا ہے، میڈیکل پروفیشن کے نامور پروفیسرز اور ڈاکٹروں کی اب ہڈیاں بھی قبروں میں نہیں رہیں لیکن ادارے چل رہے ہیں۔
آج میڈیکل پروفیشن میں اور محکمہ صحت میں بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔ کیا اس پر کبھی وائی ڈی اے نے بات کی، چاہیے تو یہ تھا کہ وائی ڈی اے محکمہ صحت، میڈیکل کالجوں اور پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی بے ضابطگیوں کے خلاف علم بلند کرتی، کبھی مریضوں کے حقوق، ان کی سہولیات کے لئے وائی ڈی اے نے دھرنا دیا، کبھی مریضوں کے لئے سڑک بلاک کی۔
کسی بہت بڑے میڈیکل ٹیچر نے سچ ہی کہا تھا کہ آج کے اساتذہ، میڈیکل سٹوڈنٹس کو اقدار منتقل نہیں کرتے، جب آپ کسی کے اندر اقدار، روایات کو زندہ نہیں رکھیں گے، اس معاشرے میں پھر اس قسم کے واقعات بڑھتے ہی چلے جائیں گے، چالیس لاکھ روپے دے کر ڈاکٹر بننے والے سے آپ کیا توقعات رکھیں گے۔؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں