آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ نون کے قائد اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، فواد حسن فواد اور دیگر ملزمان کو 2 مئی کو طلب کر لیا۔

شہباز شریف اور فواد حسن فواد کی ضمانت سے متعلق کیس میں جسٹس عظمت سعید شیخ نےریمارکس دیے کہ عدالت تمام کیس ایک ساتھ سننا چاہتی ہے۔

نیب کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیے کہ لاہور ہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست پر پورا فیصلہ دے دیا ہے، ٹرائل کورٹ کے لیے کچھ بھی نہیں بچا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل چیک اپ کے لیے کیس ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی، بیرون ملک سے معالج کو آکر چیک اپ کرنا تھا، غلط خبروں کی وجہ سے عدالت میں پیش ہو گیا ہوں۔

نعیم بخاری نے مزید کہا کہ اپنا علاج چھوڑ کر آج عدالت میں پیش ہوا ہوں، میں عدالت کے سامنے حاضر بھی ہوں اور کیس کے لیے تیار بھی۔

جسٹس عظمت سعیدنے کہا کہ ٹھیک ہے ہم ابھی کیس سن لیتے ہیں۔

نعیم بخاری نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کی، عدالت نے ضمانت کی درخواست پر پورا فیصلہ دے دیا ہے، ضمانت دیتے وقت شہباز شریف کو سنگین حالات کا سامنا نہیں تھا، فیصلہ سپریم کورٹ کے ضمانت سے متعلق طے کردہ اصولوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کیس میں مقدمے کے تمام میرٹ زیر بحث آچکے ہیں، ٹرائل کورٹ کے لیے کچھ بھی نہیں بچا، لاہور ہائی کورٹ نے پیرا 9 سے 13 میں کیس کے میرٹس پر فیصلہ دے دیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ نعیم بخاری صاحب اس کیس میں شہباز شریف پر الزام کیا ہے؟

انہوں نے مزید کہا کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم پر عمل پی ایل ڈی کمپنی نے کرانا تھا، شہباز شریف کمپنی کے معاملات میں مداخلت کیوں کرتے رہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت کے کیس میں الزامات ہی مسترد کر دیے، عدالت نے قرار دیا کہ تمام ٹھیکے میرٹ پر دیے گئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں