آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گلوبل وارمنگ کے موسمی اثرات کے بارے میں برسوں بلکہ عشروں سے جاری اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں اور ماحولیاتی ماہرین کی پیش گوئیوں کا مقصد یہ رہا ہے کہ جہاں تک انسانی بس میں ہو پہلے سے ایسی تدابیر کر لی جائیں جن کے ذریعے نقصانات کا امکان کم کیا جا سکے۔ بہت سے ممالک اس نوع کے پیشگی انتباہات سے فائدہ اٹھاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ دیکھا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کئے گئے بعض اقدامات کے ذریعے بارشوں، طوفانوں، سیلابوں، آندھیوں حتیٰ کہ زلزلوں سے ہونے والے نقصانات اور جانی اتلاف کو پسماندہ یا ترقی پذیر علاقوں کے مقابلے میں کافی کم کر لیا گیا۔ گلوبل وارمنگ، گلیشیروں کا پگھلائو اور موسموں کے الٹ پھیر سے جن مسائل کے سامنے آنے کی توقعات کی جا رہی تھیں، ان کے لئے عالمی ادارے کی نگرانی میں پورے کرہ ارض پر جو کچھ کیا جانا چاہئے تھا، اس کے لئے بھرپور عملی اقدامات کا امکان اگرچہ خاصا کم نظر آرہا تھا مگر پھر بھی ترقی یافتہ ممالک میں بالخصوص اس برس موسمی تبدیلیوں اور قدرتی آفات پر قابو پانے کی تدابیر کے کچھ نہ کچھ اثرات نظر آئے اور قدرتی آفت کے حجم کے لحاظ سے نقصان کم کرنے کی اضافی صلاحیت محسوس کی گئی۔ وطن عزیز میں بارشوں کا موسم گزر جانے کے بعد بھی کئی مقامات پر پانی کی قلت تھی۔ پچھلے مہینے کی بارشوں سے حب ڈیم

سمیت کئی آبی ذخائر میں پینے کے پانی کی صورت حال تو بہتر ہو گئی مگر پہاڑوں سے بہہ کر آنے والے پانی نے سیلابی کیفیت اختیار کی تو بلوچستان سمیت کئی علاقوں میں ان کے منفی اثرات ظاہر ہوئے۔ اب مغربی ہوائوں کا نیا موسمی سلسلہ بلوچستان کے راستے پنجاب کے جنوبی اضلاع میں اپنا رنگ دکھاتا ہوا ملک کے بڑے حصے کو لپیٹ میں لے چکا ہے تو قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی اطلاع کے مطابق بدھ کے روز تک بارشوں، ژالہ باری، مختلف علاقوں کے زیر آب آنے اور ان سے متعلقہ حادثات کے نتیجے میں 49؍افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جبکہ سیکڑوں دیہات زیر آب، ہزاروں کچے مکانات منہدم، ہزاروں افراد نقل مکانی کے شکار ہوئے ہیں۔ دو لاکھ ٹن گندم ضائع ہونے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ جبکہ سندھ میں آم کے متعدد باغات بھی تباہ ہو چکے ہیں۔ میراں پور کے قریب رود کوہی بند ٹوٹنے سے سیلابی پانی کچھی کینال میں داخل ہونے کی بات ہو، کوئٹہ میں ریلوے ٹریک بہہ جانے سے پیدا ہونے والی صورت حال ہو، کراچی میں ماہی گیروں کی 3لانچوں کی گمشدگی ہو یا کوئی اور واقعہ سب کا لب لباب یہ ہے کہ عالمی اداروں اور مقامی ماہرین کے برسوں سے جاری انتباہات کے باوجود وہ احتیاطی اقدامات نہیں کئے گئے، جن سے مشکلات میں گھرے ہوئے ملک کے لوگوں کے جانی نقصان سے اگر مکمل طور پر نہیں تو بڑی حد تک بچا جاسکتا تھا۔ اسی طرح فصلوں کو تباہی سے اور بہت سے گھروں کو انہدام سے بچانے کی پیشگی تدابیر اختیار کر کے کچھ نہ کچھ مثبت نتائج برآمد کئے جا سکتے تھے۔ اس مشکل صورت حال میں ہمارے سرکاری و مقتدر ادارے اور عام لوگ مل جل کر جو کچھ کر رہے ہیں، اُنہیں وقتی اقدامات تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ جہاں جہاں ممکن ہو وہاں ایسی منظم و مربوط تدابیر کی جائیں جن سے ظاہر ہو کہ پاکستانی قوم چیلنجوں کو مواقع میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ گلیشیروں کے پگھلائو سے پچھلے چند برسوں میں شمالی علاقوں میں قدرتی طور پر دو ڈیم وجود میں آچکے ہیں۔ ان کی موثر حفاظت اور نئے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دینے کی اہمیت اپنی جگہ، مگر ہنگامی حالات میں بھی نالوں کی کھدائی سمیت ایسے اقدامات کئے جا سکتے ہیں کہ سیلابی پانی نقصان کا ذریعہ نہ بنے بلکہ حیات بخش ذخیرے کے طور پر اُسے محفوظ رکھا جا سکے۔ ہمیں تھر کے کوئلے سے بجلی حاصل کرنے کے علاوہ اس ریگستان کو سبزہ زار میں بدلنے کا کام بھی کرنا ہے۔ نئی بستیاں تعمیر کرتے ہوئے صنعت و زراعت کے لئے پانی کی وافر مقدار کا بندوبست بھی کرنا ہے اور اپنی بستیوں میں بوائے اسکائوٹس، گرلز گائیڈز اور سول ڈیفنس سمیت ایسی تربیت یافتہ ٹیمیں بھی تیار کرنا ہیں، جو کم سے کم وقت میں ہر قسم کے ہنگامی حالات پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔