آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم پاکستانی بہت فیاض اور دان دتار لوگ ہیں، بالخصوص ڈکٹیٹرز کے معاملے میں تو ہم کچھ زیادہ ہی دیالو، خطاپوش اور خطا بخش پائے گئے ہیں۔ ہم زندہ ڈکٹیٹرز کیساتھ تو انتہا درجے کی رحمدلی سے پیش آتے ہی ہیں لیکن جب کوئی ڈکٹیٹر وفات پا جاتا ہے تو ہم اسے قومی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کرتے وقت اس کے نامہ اعمال کو بھی ساتھ ہی دفن کر دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان ڈکٹیٹرز کے محاسن اور اوصاف بڑھا چڑھا کر بیان کئے جاتے ہیں، مبالغہ آرائی کی حد تک تعریف و توصیف ہوتی ہے اور ضرورت پڑنے پر سویلین حکمرانوں کے کارنامے بھی ان کی جھولی میںڈال دیئے جاتے ہیں۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں اپنے ہم وطنوں کی ان عادات و اطوار کی بیخ کنی کا ارادہ رکھتا ہوں تو اس غلط فہمی کو اپنے اردگرد نہ پھٹکنے دیں۔ وسعت قلبی اور اعلیٰ ظرفی پر مبنی ان سنہری پاکستانی روایات پر بھلا کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ ہاں البتہ اڑچن یہ ہے کہ جب ہم روایتی رحمدلی کے پیش نظر دادو تحسین کے ڈونگرے برساتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں تو مغالطہ زیبائی کے امکانات پیدا ہو نے لگتے ہیں اور بعض کم ظرف ان باتوں پر سچ مُچ یقین کرنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر فیلڈ مارشل ایوب خان جو ’’ہائے ہائے‘‘ کے نعرے لگنے کے بعد اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، ان کی وفات کے بعد لوگوں نے روایتی خوش اخلاقی کے تحت سنہرے دور کی بات کی تو یار لوگ اسے مستند حوالہ سمجھ بیٹھے اور 60کی دہائی کو ترقی و خوشحالی کا ’’بنچ مارک‘‘ قرار دینے پرتُل گئے۔ یہ جگالی اس قدر بڑھی کہ بھلے چنگے لوگ بھی ’’سنہری دور‘‘ کے مغالطے کا شکار ہوتے چلے گئے اور جب بھی ملکی معیشت کی سانس اُکھڑنے لگتی ہے تو ایک بار پھر باسی کڑھی میں اُبال آتا ہے اور پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام سے تبدیل کرنے کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔ یہ دلیل اپنی جگہ کہ نظام کوئی بھی ہو، جب تک اسے چلنے نہیں دیا جائے گا، مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہونگے لیکن جس مفروضے کی بنیاد پر صدارتی نظام کی خواہش کی جا رہی ہے، کیا وہ درست بھی ہے یا نہیں؟ میں معیشت کے گورکھ دھندے سے قطعاً ناآشنا ہوں اور اس حوالے سے کسی تکنیکی بحث کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن صحافت کے طالبعلم کی حیثیت سے تاریخی حقائق کی روشنی میں اپنی معروضات سامنے رکھتے ہوئے چند سوالات اٹھانے کی جسارت کرناچاہوں گا۔

قدرت اللہ شہاب کا شمار ایوب خان کے معترفین میں ہوتا ہے، کیا یہ مناسب نہیں ہو گا کہ ایوب خان کے ’’سنہرے دور‘‘ سے متعلق ’’گھر کے بھیدی‘‘ کی رائے معلوم کر لی جائے۔ موصوف بیان کرتے ہیں ’’بین الاقوامی سطح پر پاکستانی روپے کی قیمت گر کر نصف کے قریب رہ گئی تھی لیکن اندرونِ ملک ہمارے اقتصادی ماہر صدر ایوب کی مونچھ کو تائو دیکر ان کے منہ سے یہی اعلان کرواتے رہے کہ ہم کسی دبائو کے تحت اپنے روپے کی قیمت ہرگز نہیں گھٹائیں گے۔ سرکاری شرح سے تو ایک پونڈ کی قیمت گیارہ، بارہ روپے بنتی تھی لیکن کھلی منڈی میں اس کا بھائو 18سے 24روپے تک اٹھتا تھا‘‘ ایک اورجگہ اس مصنوعی ترقی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ایوب خان کے دورِحکومت کو بہت سے لوگ مادی ترقی کا سنہری دور کہتے ہیں۔ بیشک اس میں کوئی کلام نہیں، لیکن جن ناقابلِ اعتبار اور غیر یقینی سہاروں پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی، اسے قائم رکھنے کے لئے ہمیں اب تک ہر زمانے میں طرح طرح کے پاپڑ بیلنا پڑے ہیں‘‘۔ یہ کیسی ترقی و خوشحالی تھی کہ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کو کہنا پڑا کہ ملکی دولت اور وسائل 20-22خاندانوں کی تجوریوں تک محدود ہو گئے ہیں اور یہی بات قدرت اللہ شہاب نے بھی لکھی۔ اگر ملک میں واقعی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں تو مشرقی پاکستان محرومیوں کا رونا روتے روتے علیحد گی پر کیوں مجبور ہو گیا؟

سچ یہ ہے کہ ایوب خان کے دور میں ترقی وخوشحالی کی باتیں افسانوی داستان ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ وہ دور تھا جب غیر ملکی امداد اور قرضوں کی بارش ہو رہی تھی۔ گندم کے تھیلے بھی امریکہ سے امداد کی شکل میں آیا کرتے تھے، جن پر ’’شکریہ امریکہ‘‘ لکھا ہوتا۔ آج ہم جس کشکول کا رونا روتے ہیں، یہ اُسی ’’سنہرے دور‘‘ کی عنایت ہے۔ جی حضوری کے باعث غیر ملکی امداد کا یہ عالم تھا کہ بیرونی قرضوں کے مقابلے میں بیرونی امداد کا حجم دوگنا سے بھی زیادہ تھا۔ 1964میں لایا گیا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں آرہی 40فیصد سرمایہ کاری کا انحصار بیرونی امداد پر تھا۔ 1966کے اعداد و شمار سامنے رکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ 66فیصد درآمدات کا دارومدار غیر ملکی امداد پر تھا۔ اِس’’سنہری دور‘‘ میں صنعتی ترقی کا ڈھول بہت زور وشور سے پیٹا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مبینہ صنعتی ترقی کے دور میں بھی ہم کپاس کیوں برآمد کر رہے تھے، ٹیکسٹائل مصنوعات کیوں نہیں بن رہی تھیں؟ ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر صنعتی ترقی ہو رہی تھی، ملکی معیشت کا حجم بڑھ رہا تھا تو پھر محاصلات کیوں نہیں بڑھ رہے تھے؟۔

ایوب خان کے ’’سنہری دور‘‘ میں معاشی شرح نمو (جی ڈی پی گروتھ ریٹ) 5.82فیصد تھی، جسے مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا ہے کہ چند برس قبل معاشی شرح نمو 5.71فیصد تھی، جسے سخت جدوجہد کے بعد نیچے لانے کا ذمہ دار کون ہے؟ جون 2010میں معاشی شرح نمو ملکی تاریخ کی پست ترین سطح پر چلی گئی اور 1.60ریکارڈ کی گئی۔ جب پیپلز پارٹی کی حکومت گئی تو صورتحال میں کسی حد تک بہتری آچکی تھی اور جون 2013میں معاشی شرح نمو 3.50فیصد تھی۔ 2017میں ملکی معیشت فروغ پا رہی تھی اور جون میں سامنے آنے والے اعداد وشمار سے معلوم ہوا کہ جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.70فیصد ہو چکا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں جون 2018کو معاشی شرح نمو 5.4فیصد رہ گئی اور ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2019میں معاشی شرح نمو 3.4فیصد ہوسکتی ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حالات جوں کے توں رہے تو جون 2020میں معاشی شرح نمو 2.7فیصد تک گر سکتی ہے۔ آپ فیلڈ مارشل ایوب خان کے ’’سنہری دور‘‘ کو بیشک غلاف میں لپٹا رہنے دیں مگر اس بات سے تو پردہ اُٹھائیں کہ حالیہ ’’تاریک دور‘‘ کے ذمہ دار کون ہیں؟