آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں حیران تھا کہ عمران خان ابھی تک خاموش کیوں ہیں۔ معاشی ابتری بڑھتی جا رہی ہے۔ عوام مہنگائی کے عفریت کےجبڑوں میں آچکے ہیں حتیٰ کہ ادویات تک مہنگی کر دی گئی ہیں۔ عمران خان نے ایسے نئے پاکستان کا خواب تو نہیں دیکھا تھا۔بے چینی حد سے بڑھ چکی تھی۔ ہر شخص پوچھتا تھا کہ یہی نیا پاکستان ہے، مخالف مذاق اڑانے لگے تھے۔ لگ رہا تھا کہ ہم میچ ہارتے جارہے ہیں مگر کپتان نےبروقت فیصلہ کیا اور خوش آئند تبدیلیوں کے پھول کھل اٹھے۔خاص طور پر معاشی معاملات کی بہتری کےلئے جہاں حفیظ شیخ کو وزیر خزانہ بنایا گیا وہاں ایک پانچ رکنی بورڈ تشکیل دیا ہے جس میں شوکت ترین، شبر زیدی، سلیم رضا،صادق سعید اور شیر اعظم مزاری شامل ہیں، اس بورڈ کےکنوینر جہانگیر ترین ہیں۔توقع ہے کہ اب روپے کی قدر جلد بحال ہوجائےگی۔سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کوئی اور وزارت لینے سے انکار کردیا، عمران خان کو چاہئے کہ انہیں بھی منالیں،بہرحال انہوں نے اپنے تئیں معیشت کی بہتری کی ہر ممکن کوشش کی تھی،یہ الگ بات کہ ناکام رہے۔غلام سرور خان نے بھی ہوابازی کی وزارت لینے سے معذرت کی ہے، ان کی معذرت قبول کرلینی چاہئے،سنا ہے ان کی چوہدری نثار علی خان سے صلح ہو چکی ہے اور ان کا بیٹا اپنی نشست خالی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں سے چوہدری نثار الیکشن لڑیں گے۔وزیر پٹرولیم کے فارغ ہوتے ہی گجرخان سے تین سو بہتر بیرل یومیہ خام تیل برآمد ہونے کی خوشخبری آ گئی۔

ایک اور تبدیلی بھی مجھے اچھی لگی ہے۔فردوس عاشق اعوان کو اطلاعات و نشریات کا مشیر لگانا عمران خان کا بڑا بولڈ فیصلہ ہے، اس خاتون نے پیپلز پارٹی کے زمانے میں اطلاعات و نشریات کی وزارت کو بہت بہتر انداز میں چلایا تھا مگر اُس وقت اُن کے ساتھ آصف علی زرداری کے مسائل تھے، جو رات کو چار بجے فون کر کے کہتے تھے صبح فلاں اخبار کی سرخی یہ لگ رہی ہے، اسے تبدیل کرا کے مجھے بتائو۔ اب فردوس عاشق اعوان ایک ایسے وزیر اعظم کے ساتھ کام کر رہی ہیں،جو نئے پاکستان کی تعمیر میں زندگی کی آخری سانس تک قربان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،یقیناً اب فردوس عاشق اعوان اس وزارت کو اور بھی کامیابی سے چلائیں گی۔پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے مسائل یقیناً ان کے آتے ہی حل ہو جائیں گے۔ انہیں اس وزارت کا تجربہ بھی ہے اور وہ ایک نئے جوش و خروش سے میدان میں بھی اتری ہیں۔پی ٹی وی کی یونین نے بھی فردوس عاشق اعوان کو خوش آمدید کہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اب ملازمین کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔فواد چوہدری نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت سنبھال لی ہے،وہ آج اپنی نئی منسٹری کے دفتر میں موجود ہیں یعنی انہو ں نے فوری طور پر کام شروع کردیا ہے۔

وزیر صحت عامر کیانی کو فارغ کردیا گیا۔سنا ہے ان پر کرپشن کے بھی الزام تھے۔ان کے بارے میں پہلے بھی اچھے لوگوں کی رائے کوئی زیادہ اچھی نہیں تھی بلکہ کئی لوگ حیران تھے ان کے معاملے میں عمران خان کی مردم شناسی پر۔عامر کیانی کےفارغ ہونے پر پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے صدر زاہد سعید نے ادویات کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کا اعلان کردیا ہے،تقریباً چارسو چونسٹھ دوائیں بغیر کسی منافع کے،پیدواری لاگت پر فروخت کی جائیں گی،ان کو کابینہ سے نکالنے کا فیصلہ ایک بہت ہی احسن اقدام ہے۔شہر یار آفریدی سے بھی داخلہ کی منسٹری واپس لے کر سیفران کی وزارت دی گئی ہے، میرا خیال ہے شاید کچھ دنوں بعد ان سے یہ وزارت بھی واپس لینا پڑے۔ وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کوبنا یاگیا ہے، بے شک داخلہ کے معاملات ان سے بہتر کوئی نہیں سنبھال سکتا، ان کی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے، وہ بھی وزارت ِ داخلہ کا چارج سنبھال چکے ہیں،یعنی انہوں نے بھی کام شروع کردیا ہے،علی امین گنڈا پور کو بھی فارغ کرنے کاعلان کیا گیا ہے، مگر ابھی تک عامر کیانی اور گنڈا پور کا ڈی نوٹی فکیشن نہیں ہوایعنی قانونی طور پر وہ اس وقت تک وزیر ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کی تبدیلی کی خبریں بھی بہت زور وشور سے پھیلی ہوئی ہیں، پنجاب میں چھ وزیر تبدیل ہورہے ہیں،جن میں وزیر خوراک، وزیر جیل خانہ جات، وزیر صحت،وزارت ِ ایکسائزبھی شامل ہیں، اطلاعات کے مطابق پنجاب کابینہ کے آج کے اجلاس میں تمام وزیر موجود تھے اور زیادہ تر پریشان تھے،کسی کو معلوم نہیں تھا کہ کس کس کی وزارت ختم ہونے والی ہے، بہر حال کسی وقت بھی اس تبدیلی کا اعلان ہو سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کےلئے سبطین خان کا نام دوبارہ سامنے آرہا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر وہ وزیر اعلیٰ بنادئیے گئے تو پنجاب میں واقعی حقیقی تبدیلی آجائے گی۔فیاض الحسن چوہان کے بھی دوبارہ وزیر بننے کا امکان ہے،اگر بلدیات کے پارلیمانی سیکرٹری کو احمد خان بھجر کوپنجاب میں وزیر بلدیات بنادیا جائے تو مجھے یقین ہے کہ بلدیاتی نظام میں جو بہتری عمران خان چاہتے ہیں وہ چند ماہ میں آ سکتی ہے۔ پنجاب حکومت میںاس وقت تک جس شخص کی کارکردگی سب سے بہتر نظر آئی ہے وہ وزیر اعلیٰ کے ترجمان شہباز گل ہیں، انہیں کوئی بڑا عہدہ دیا جاسکتا ہے۔

خیبرپختونخوا میں بھی کئی وزیر تبدیل ہوں گے،خود احتسابی کا عمل زور وشور سے شروع ہے ممکن ہے محمود خان کو بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے سے سبکدوش کردیا جائے ان کی کارکردگی پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔بلوچستان کی صورت حال میں کچھ تبدیلی کا امکان ہے، اختر مینگل کو منالیا گیا ہے یقیناًبلو چستان حکومت میں بھی اُن کا کوئی اور وزیر شامل کیا جائے گا۔مجموعی طور پر عمران خان کے موجودہ فیصلے بہت اچھے ہیں، دیر آید درست آید کے مصداق توقع ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ایک نئے دور کا آغاز کرنے لگی ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)