آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیب اور شریف خاندان کی تاریخ مرتب ہو رہی ہے۔ پاکستان میں صرف تاریخ ہی مرتب ہوتی ہے، ظالم، مظلوم، انصاف، بے انصافی کے حساس ترین انسانی مسائل کا تصفیہ نہیں ہو سکتا، بعض ’’آفاقی اخلاقیات‘‘ بھی اس معاملے میں کسی تعین سے خالی ہی دکھائی دیتی رہی ہیں، ایسا کیوں ہے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے، ’’طاقتور ہی اصل حکمران ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور کسی وقت بھی ہو!‘‘

برطانیہ کے انٹر پول کی جانب سے شائع شدہ ایک خبر نے، البتہ پاکستان میں نیب کی جانب سے مرتب کرنے والی تاریخ کے مقابلے میں جارحانہ قسم کی آزادیٔ رائے کا مظاہرہ کیا ہے، لگتا ہے برطانیہ کی حد تک طاقت کا پلڑا اس کی طرف اور نیب کے پاس صرف وہی ریں ریں ہے جو نیب کے سامنے پیش شدہ عام شہری کا واحد اثاثہ ہے۔

برطانوی موقف یہ ہے ’’ایوان فیلڈ ریفرنس میں مفرور حسین نواز کے انٹر پول نے اس لئے وارنٹ جاری نہیں کئے کہ انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن سمجھتی ہے کہ عملی سیاست میں حصہ لینے والے افراد کے خونی رشتوں کے خلاف سیاسی مخالفین کی طرف سے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی استدعا سیاسی انتقام کے زمرے میں آتی ہے۔ برطانوی پولیس کا موقف ہے کہ حسین نواز تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کے صاحبزادے ہیں اور برطانوی شہری بھی ہیں، ان کے کچھ حقوق ہیں، اس لئے ان کے وارنٹ جاری نہیں کئے۔ نواز شریف کا چھوٹا صاحبزادہ حسن نواز کئی برسوں سے برطانیہ میں براہ راست کاروبار کر رہا ہے یقینی طور پر وہ اپنی آمدنی پر ٹیکس بھی ادا کرتا ہو گا‘‘۔ نواز شریف، بیماریوں کے قیدی اپنی موجودہ ضمانتی ریلیف کی مدت پوری ہونے پر سفید رسی پکڑتے ہیں یا سیاہ، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

....o....

ہمارے سینئر ساتھی اخبار نویس حنیف خالد کی رپورٹ کے مطابق ’’(ن) لیگی حکومت کی ایمنسٹی سے 82889پاکستانیوں نے کالا دھن سفید کیا، ملک کے اندر اوورسیز پاکستانیوں نے ایمنسٹی سے استفادہ کرنے کی خاطر 24ارب روپے ٹیکس دیا۔ 43کروڑ 60لاکھ کی فارن کرنسی قانونی بنائی گئی۔ 25سو ارب روپے کا کالا دھن سفید ہوا‘‘۔

نواز شریف کے دورِ اقتدار میں ملکی معیشت کی یہ ایک مجموعی حقیقت ہے، بالکل ایسے ہی جیسے عمران کے برسر اقتدار آنے کے بعد ریڑھی سے لے کر ملکی صنعتوں تک ملک کا یہ انفرادی اقتصادی ڈھانچہ اور قومی اقتصادی استحکام، سرکاری اہلکاروں کی برہنہ چیرہ دستیوں کا شکار ہے۔ مہنگائی ایک وقوعہ کے طور پر پاکستانی روپے کے لئے موت کا سندیسہ بن چکی، وزیراعظم پاکستان ’’لوٹی ہوئی دولت کی واپسی‘‘ کے مقدس مشن کا دن رات ذکر ہی نہیں کرتے، ساتھ ہی ایک اور اعلان کرنا کبھی نہیں بھولتے، یہ کہ ’’لوٹی ہوئی دولت واپس آنے سے پورا ملک درست ہو جائے گا‘‘، تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے سربراہ نے آئی ایم ایف جیسے اداروں کے خلاف ’’جہاد‘‘ کا علم لہرایا، آج عملاً زبان کی للکڑیوں سے لے کر پائوں چھونے تک کی انتہائیں بھی پیچھے چھوڑی جا رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں شامل فعال حکومتی عہدیدار ’دو کے بجائے ایک روٹی کھائیں‘، اور ’شکر کریں ہم نے پٹرول 12روپے لیٹر نہیں کر دیا‘ قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر زندگی کے موضوع پر اپنی ذہنی مفلسی آشکار کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سے لے کر تحریک انصاف کے آخری فرد تک، لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا بے پناہ مبہم نعرہ لگا کر پاکستان کی جوہری اقتصادی بنیادوں پر کلہاڑا چلانے کی تاریخی دشمنی کی سرخ لائن عبور کر چکے ہیں۔ اُن کے پاپوں کے گھڑے کنارے چھوڑ چکے۔ آپ یقین کریں، روپیہ اپنی قدر کے سلسلے میں موت کی سی کیفیت تک پہنچ جائے گا۔ مہنگائی پر چیخیں بددعائوں کے دوش پر فضا میں تھرتھراہٹ پیدا کئے رکھیں گی اور تحریک انصاف کی حکومت علم کے بغیر حکمرانی کے جاہلانہ دبائو تلے آ کر خود بخود بکھر جائے گی، یا تو انارکی ناقابل گرفت ہو گی یا درمیانی مدت کے انتخابات کرانا پڑیں گے، بہرحال جولائی 2019سے اس حکومت کی علم کے بغیر حکمرانی کی جہالت اس کی عاقبت خراب کر کے رہے گی، ان نالائقوں نے کیا قرض واپس کرنا اور کیا معیشت کے ستونوں کو مستحکم کرنا یہ اسٹیٹس کو کی حالت میں اقتدار کی آسائشیں اور لذتیں اٹھا کر حلوہ کھا کر اپنی ناکامی کی پوٹلیاں کندھوں پر لٹکا کے چلتے بنیں گے۔

....o....

شیخ رشید اور بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے ایک یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ملاقات کے دوران کا ایک واقعہ گزشتہ دنوں عزیزم حامد میر نے اپنے کالم میں بیان کیا۔ اُنہوں نے طالبہ زاہدہ کے ایک سوال پر اظہار خیال کیا اور لکھا: ’’سوال بہت سادہ تھا، اُس نے پوچھا حکومت کے ایک سینئر وزیر شیخ رشید احمد کافی دنوں سے بلاول بھٹو زرداری کے بارے میں ذو معنی گفتگو کر رہے ہیں، سب جانتے ہیں کہ وہ کس کام سے اپنی رغبت ظاہر کر رہے ہیں لیکن کوئی عالم دین اور کوئی سیاستدان اِس معاملے پر اُن کو روکنے کے لئے تیار نہیں، چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میں نے کہا کہ شیخ صاحب کو احتیاط کرنا چاہئے اور ایسی ذو معنی گفتگو سے پرہیز کرنا چاہئے، جس میں کسی بُرے کام کا فخریہ انداز میں اعتراف نظر آئے۔ زاہدہ کی آواز کچھ بلند ہو گئی اس نے کہا وہ سب علماء کہاں مر گئے جن کی غیرت چھوٹی چھوٹی باتوں پر خطرے میں پڑ جاتی ہے؟‘‘

پاکستان کی سیاست میں اخلاقیات کو دفن کر دینے کی حد تک جن لوگوں یا گروہوں پر ریسرچ ہو سکتی ہے، اُن افراد میں بلاشبہ شیخ رشید کے نام سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں، قیام پاکستان سے پہلے اور بعد البتہ جن شخصیات کو ہم اخلاقی نقطہ نظر سے اپنا رہبر قرار دیتے ہیں، ہمیں ان پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہئے، ہم یقیناً کسی اسکول، کالج، مجلس، محفل، اجتماع، مضمون، مثال میں شیخ رشید کا اخلاقی حوالہ نہیں دے سکتے، اُن کی پوری سیاسی زندگی کا یہ حاصل بذات خود ہر ذی ہوش کے لئے لمحہ عبرت و سبق ہے۔

....o....

ننکانہ صاحب کے ایک ہائی اسکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ نے کہا ’’عوام دھوکے بازوں کی کال پر سڑکیں بلاک نہ کریں، ورنہ چھترول ہو گی‘‘۔ صحافت میں خاکسار کی عمر اگر پچاس برس سے اوپر ہے تو سرکاری سروس اور عہدوں میں بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ بھی طویل کیریئر کے حامل ہیں، پاکستانی عوام کی اس قدر اطمینان سے بے عزتی کرنے پر دنیاوی زبان میں کچھ اور جواب بنتا ہے، عاجز اس کا حوصلہ نہیں رکھتا مگر کائناتی فطری قوانین کی رو سے شاہ صاحب سے زمانے کی تاریخ کا ذکر کیا جا سکتا ہے، اسی زمانے کی تاریخ میں ایک محاورہ تشکیل پایا، یہ کہ ’’ڈرو اُس وقت سے جب کوئی چیونٹی ہاتھی کو عبرت ناک انجام سے دوچار کر دے‘‘۔