آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


گزشتہ ہفتے کراچی میں چلنے والی طوفانی ہواؤں کے باعث لاپتہ ہونے والے ماہی گیروں کے پڑوسی ملک میں ہونے کے اشارے مل رہے ہیں، جن میں سے 3 پاکستانی مچھیروں کی بھارتی نیوی کے ہاتھوں گرفتاری کی تصدیق ہوئی ہے۔

کراچی فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سیکیورٹی انچارج ناصر بونیری نے اس سلسلے میں بھارتی گجرات کی فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی سے رابطے کی تصدیق کی ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان میں کراچی سے ماہی گیری کے لیے جانے والے کئی سو مچھیرے درجنوں لانچوں کے ساتھ شدید طوفانی ہواؤں کی وجہ سے سمندر میں پھنس گئے تھے۔

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی اور دیگر اداروں کی مدد سے لگ بھگ 275 ماہی گیروں کو باحفاظت کراچی پہنچایا گیا، جبکہ بیشتر علاقے اور ماہی گیر ابھی بھی رابطے میں نہیں۔

فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سیکورٹی انچارج ناصر بونیری نے 13 چھوٹی بڑی پاکستانی لانچوں اور لگ بھگ 53 ماہی گیروں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والی لانچ کا ٹاپا، شناختی کارڈ اور دیگر سامان صحیح سلامت ملنا ہی ماہی گیروں کے حراست میں ہونے کا اشارہ ہے۔

ناصر بونیری کے مطابق ابراہیم حیدری سے تعلق رکھنے والے 3 ماہی گیروں کی بھارتی نیوی تحویل میں ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے جبکہ ڈوبنے والی کراچی کی ایک لانچ الفضل اکبر کے 18 ماہی گیروں کے بھارت میں ہونے کی تصدیق آج ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں میرا بھارتی گجرات کی فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے عہدیدار ول جی بھائی سے رابطہ ہوا ہے۔

ادھر لاپتہ ماہی گیروں کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے، لاپتہ ماہی گیروں کے سلسلے میں فشری میں کیمپ لگایا گیا ہے، ایسے میں کراچی کے ماہی گیروں کے بھارتی نیوی کی تحویل میں ہونے کی اطلاع بھی بڑی خوشخبری ہوگی۔

ناصر بونیری کے مطابق طوفانی ہواؤں کے باعث سمندر میں پھنسنے والے 275 ماہی گیروں کو مختلف ذرائع سے بحفاظت کراچی پہنچایا گیا۔

گزشتہ شام طوفان سے بچ کر کراچی پہنچنے والی لانچ کے ماہی گیروں نے خوفناک مناظر بتائے، ابھی بھی کراچی کی چھوٹی بڑی 13 لانچوں اور 53 ماہی گیروں سے رابطہ نہیں ہو رہا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں