آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


اپنی خوبصورت شاعری سے ہندوستان کی فلم انڈسٹری کو لازوال گیت دینے والے شاعر اور نغمہ نگار شکیل بدایونی کی 49ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

چودہویں کا چاند ہو جیسے سینکڑوں لازوال گیتوں کے خالق معروف شاعر شکیل بدایونی کی پیدائش 3 اگست 1916 کو اترپردیش کے ضلع بدایوں میں ہوئی۔ زمانہ طالبعلمی کے دوران ہی شکیل نے شاعری شروع کی اور 1944 میں بمبئی منتقل ہونے کے بعد ان کی ملاقات معروف موسیقار نوشاد سے ہوئی اور فلم 'درد سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔

جس کے گیتوں نے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا تھا، خصوصاً 'افسانہ لکھ رہی ہوں دلِ بے قرار کا تو آج بھی لوگوں کی زبانوں پر رواں ہے۔

اس کے بعد نوشاد اور شکیل بدایونی کے اشتراک سے متعدد سپر ہٹ گیت سامنے آئے جن میں فلم 'میلہ کا یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے، فلم 'دلاری کا سہانی رات ڈھل چکی، فلم 'میرے محبوب کا میرے محبوب تجھے، اڑن کھٹولہ کا او دور کے مسافر، سمیت بیجو باورا کا گیت او دنیا کے رکھوالے قابل ذکر ہیں۔

اس جوڑی کا سب سے نمایاں کام فلم 'مغلِ اعظم میں سامنے آیا جس کے ہر گیت نے مقبولیت حاصل کی، خصوصاً پیار کیا تو ڈرنا کیا تو لافانی حیثیت اختیار کرگیا۔چودھویں کا چاند کے ٹائٹل گیت پر 1961 میں شکیل کو پہلا فلم فئیر ایوارڈ ملا۔اگلے سال پھر فلم 'گھرانہ کے نغمے حسن والے تیرا جواب نہیں پر اور 1963 میں ہیٹ ٹرک کرتے ہوئے فلم 'بیس سال بعد کے گانے کہیں دیپ جلے کہیں دل پر تیسرا فلم فئیر ایوارڈ حاصل کیا۔

ہندوستانی حکومت نے انہیں گیت کارِ اعظم کے خطاب سے بھی نوازا۔شکیل بدایونی کے پانچ شعری مجموعے منظر عام پر آئے جن میں رعنائیاں، صنم و حرم اور نغمہ فردوس شامل ہیں۔ یہ عظیم نغمہ نگاراورشاعر 20اپریل1970 کو58برس کی عمر میں کینسر کے عارضے میں مبتلا ہوکر انتقال کر گئے مگر ان کی شاعری آج بھی دلوں کو چھو جاتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں