آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی،لندن

معصوم مگر مترجہن سی ہزارہ قوم، اب واقعی میں مربوط ہوگئی ہے دکھوں سے، فکروں سے کہ کب کوئی موت کا پیغام آئے اور وہ جان سے جائیں اب یہ خوشیوں سے کوسوں دور اور اندیشۂ موت میں رہنے والی ہزارہ قوم ہوگئی ہے۔ ہم بھی آئے روز ان کی موت پر مرثیہ خوانی کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ ہم ان کے حق میں دعا ہی کرسکتے ہیں 12اپریل 2019کے خونی واقعے پر حامد میر نے ایک کالم بہت پراثر لکھا جو ہزارہ برادری سے متعلق ہے۔ جس میں انہوں نے نہایت دکھ کے ساتھ تعزیتی خط کا ذکر کیا جس میں وکلاء کے ورثا سے دکھی انداز میں تعزیت کی تھی۔ جج نے لکھا کہ ’’قاتلوں کو اگر جانوروں سے تشبیہ دیں تو جانوروں کی تضحیک ہوگی، قاتلوں کے دل پتھر نہیں کیونکہ پتھروں سے بھی کبھی چشمے پھوٹتے ہیں۔ قاتلوں کے دل نفرتوں اور مایوسیوں کا مجموعہ ہیں، انسان اور انسانیت سے نفرت، جائے شفا سے نفرت، قانون کے پاسداروں سے نفرت، دین الہیٰ سے نفرت، اللہ کی مخلوق سے نفرت، مایوس قاتل ہمیشہ دوزخ کا عذاب سہیں گے۔ حامد میر نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے یہ الفاظ دہرا کر سبھی کو مزید دکھی کردیا۔ یہ الفاظ 8اگست2016کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خودکش حملے میں شہید ہونے والے 70سے زائد وکلاء کے لواحقین کو لکھے گئے خط میں تھے۔ انہوں نے مزید بتایا

کہ یہ وکلاء بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی پر حملے کے بعد اسپتال میں جمع ہوئے تھے۔ وہاں ایمرجنسی میں خودکش حملہ آور نے سبھی کے چھیتڑے اڑا دیئے۔ حامد میر کے کالم سے ظاہر ہوتا ہے کہ جج صاحب نے نشاندہی بھی کی تھی کہ کون کونسی کالعدم تنظیمیں ہیں جو ہزارہ برادری کو شہید کرنے پر تلی ہیں اور انہیں سزا دیکر مزید حملوں سے ہزارہ والوں کو بچایا جاسکتا ہے مگر کسی بھی دور کی حکومت اس پر کان نہیں دھرتی اور معصوموں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں۔ جن دنوں جلیانوالہ باغ کی یاد تازہ کی جارہی تھی کہ سوسال مکمل ہوگئے اس کا بھی دکھ ہے کہ اتنی لاشیں گری تھیں مگر ہونا یہ چاہئے تھا کہ ان لاشوں کو دیکھ کر قسم کھائی جاتی کہ نوزائیدہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کسی کا ناحق خون نہیں بہایا جائے گا آئندہ ! مگر ہوا یوں کہ پاکستان معرض وجود میں آتے ہی آہستہ آہستہ قتل در قتل کا سلسلہ شروع ہوا پہلے عظیم لیڈر قائداعظم کے دست راست لیاقت علی خان شہید کئے گئے پھر جب پاکستان کے ابتدائی دور ہی میں یہ سلسلہ شروع ہوا تو رکا نہیں چلتا ہی رہا۔ پاکستان کے قیام کے بعد یہاں مختلف قوم و مذہب کے لوگ بھی آباد رہے جیسا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہوتا ہے کہ ہر رنگ و نسل سے علاوہ ہر قوم و عقیدہ و مذہب کے لوگ بھی آباد ہوتے ہیں تو پاکستان میں تھوڑی تعداد میں ہندو بھی ہیں، سکھ بھی ہیں پھر ان سے زیادہ تعداد میں عیسائی اور پارسی بھی ہیں۔ اس سے علاہ مسلمان تو ہیں ہی ملک پاکستان کے کرتا دھرتا اس ملک خداداد میں مسلمان مختلف عقائد والے بھی ہیں یعنی جتنے دوسرے مذاہب کے لوگ یہاں آباد ہیں اس سے کہیں زیادہ عقیدہ و مسلک والے موجود ہیں بعض اپنے عقائد میں اسقدر انسانیت سے گرجاتےہیں کہ پھر وہ دوسرے عقائد والوں کا جینا حرام کردیتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ہر کوئی اپنے عقیدے میں عمدہ و باایمان ہے تو یہ کونسے ایمان والے ہوئے کہ کسی کو بیدردی سے قتل کردیا جائے وہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے الفاظ کہ انہیں پتھر سے بھی تشبیہ نہ دی جائے۔ دوزخ بھی ان سے دور ہوگی، کاش جسٹس صاحب کی نشاندہی پر دھیان ہوتا۔ ہزارہ برادری کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ لوگ کہیں نہ کہیں قسمت کے مارے ہی نظر آتے ہیں۔ وسطی افغانستان میں بسنے والی ایک قوم دری فارسی کی ہزارگی بولی بولنے والی ایک برادری ہے یہ تمام کسی بھی فرقے سے تعلق رکھیں مگر افغانستان کی یہ تیسری سب سے بڑی برادری ہے بدقسمتی سے افغانستان میں ان کی آبادی ایک تنازعہ ہے یوں کہا جائے کہ افغانستان کی کل آبادی کا 30فیصد حصہ ہیں۔ پاکستان اور ایران میں بھی ان کے پانچ پانچ لاکھ افراد آباد ہیں۔ پاکستان میں یہ زیادہ تر کوئٹہ شہر میں آباد ہیں جب افغانستان میں طالبان اقتدار میں تھے تو وہ ہزارہ کے لوگوں پر سختی ہی کرتے رہے وہ ہزارہ کے لوگوں سے انسانیت سے گرا سلوک کرتے کہ وہ فاقوں کا شکار ہوکر بیمار ہونے لگے۔ درحقیقت ہزارہ برادری کیساتھ ظلم و ستم کوئی نئی کہانی نہیں ہے۔ 1498ء میں قوم ترک سے نکلی ہوئی ایک قوم ہزارہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ قوم ترک مشہور ہزارہ فارلوق نے ہری پور سے خلیج اور ارغونوں کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہزارہ کی اکثریت موجودہ افغانستان کے مرکزی علاقے ہزارستان میں جابسی حالانکہ 1893میں افغان حکمران امیر عبدالرحمٰن کے ہاتھوں مکمل شکست کھانے کے بعد اسکے ظلم و ستم سے تنگ آکر ہزارہ قوم کے افراد نے دنیا کے مختلف ممالک میں ہجرت کرنے کے علاوہ برصغیر کا بھی رخ کیا۔ 1904میں کوئٹہ میں انگریزوں نے ہزارہ پانیئر کے نام سے ایک فوجی دستے کی تشکیل کی اس پانیئر کا شمار برصغیر کے اہم ترین پانیئرز میں ہوتا تھا جس کے اہلکار حربی امور میں ماہر ہونے کے علاوہ مختلف کھیلوں میں بھی سب سے آگے تھے۔ خیر جنگ عظیم دوم کے دوران انگریزوں کے حالت کمزور ہونے کی وجہ سے 1933میں دیگر پانیئر کے ساتھ ہزارہ پانیئر کو بھی ختم کردیا گیا۔ قابل ذکر ابتداء ہزارہ قوم کی ترک قبائل ہی نے تشکیل کی اور ابتدائی بنیاد فراہم کی۔ پندرھویں صدی کے دوران ہزارہ قوم کی ارغونیہ سلطنت موجودہ افغانستان کے مرکزی علاقے ہزارستان سے لیکر سندھ اور ملتان تک پھیلی ہوئی تھی، 1591میں اکبر بادشاہ نے سندھ اور ملتان سے ارغوانیوں کی حاکمیت ختم کردی تھی۔ وہی بات کہ ہزارہ برادری کیساتھ کبھی ظلم و ستم اور کبھی ناروا سلوک ہوتا ہی رہا ہے۔ جبکہ ہم افسوس کرتے ہیں کبھی کشمیری مظالم کا، کبھی فلسطین کا، کبھی شام و عراق کا، کبھی روہنگیا کے معصوم مسلمانوں کا، ٹھیک وہ بھی دکھ ہے مگر ہمارے ہزارہ کے لوگ بھی معصوم و مظلوم ترین ہیں۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد عسکری شعبوں میں دفاع وطن کے لئے ہراول دستے کا کام کیا۔ وطن کیلئے جان نثار بھی ہوئے، کھیل کے میدان میں بھی نام روشن کیا مگر ہماری کوئی بھی ریاست و حکومت ان معصومین کو تحفظ نہ دے سکی جبکہ یہ بھی پاکستانی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں