آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کے بعد جمعے کو اورکزئی میں جلسہ عام سے خطاب میں بجا طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ ایک اچھے کپتان کا ہدف میچ جیتنا ہوتا ہے اور اس کے لیے اسے ٹیم میں حسبِ ضرورت تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی قوم کو جتانا ان کا مقصد ہے، اس کے لیے اپنی ٹیم میں کچھ تبدیلی کی ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ وزیراعظم نے عوام کے حالِ زار کی نشان دہی کرتے ہوئے صراحت کی کہ ہمارے ملک میں کمزور طبقہ دو وقت کی روٹی نہیں کھا پا رہا، بچے تعلیم سے محروم ہیں، اسپتالوں میں علاج نہیں ہو رہا اور ادویات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سب معاملات کے بارے میں اللہ ہم سے جواب مانگے گا لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ جو کارکردگی نہیں دے رہا اس کی جگہ نیا کھلاڑی لے کر آئیں۔ وزیراعظم کے اس اظہارِ خیال سے پتا چلتا ہے کہ انہیں اپنے کروڑوں غریب ہم وطنوں کے مسائل اور مشکلات کا مکمل احساس ہے اور وہ عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرکے ان کے روز و شب کی تلخیاں جلد از جلد دور کرنے کے شدت سے آرزو مند ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران تحریک انصاف کے قائد کی حیثیت سے ان کے یہی جذبات اور ملک کی حالت بہت کم وقت میں مثبت طور پر بدل دینے کی یقین دہانیاں قوم کے

ایک بڑے حصے میں ان کی ذات اور جماعت سے بے پناہ توقعات کا باعث بنی تھیں۔ حکومت کے پہلے سو دنوں میں بہت کچھ کر دکھانے کے وعدے کیے گئے تھے لیکن پہلے سال کا تین چوتھائی گزر جانے کے بعد بھی نہ صرف یہ کہ عوام کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی بلکہ معیشت میں تیزی سے ابتری رونما ہوئی اور زندگی مزید دشوار ہو گئی جس کا اعتراف عمران خان نے خود اپنے اس خطاب میں بھی کیا ہے۔ وزیراعظم سمیت تمام عمالِ حکومت اب تک حالات کی اس ابتری کا ذمہ دار پچھلی حکومتوں کو قرار دیتے رہے، تاہم وفاقی کابینہ میں اس اعلان کے ساتھ بڑے پیمانے پر رد و بدل کرکے کہ جو وزیر ملک کے لیے مفید نہیں ہوگا اسے تبدیل کر دیا جائے گا، وزیراعظم نے اس حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے کہ کئی حوالوں سے نو ماہ میں بھی مثبت نتائج رونما نہ ہونے کا سبب محض پچھلی حکومتوں کا قصور نہیں بلکہ خود ان کی کابینہ کے ارکان بھی معیاری کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔ اصلاح و بہتری کی پہلی شرط اپنا محاسبہ آپ ہے اور عمران خان نے کابینہ میں رد و بدل اور آئندہ کارکردگی کی بنیاد پر حسب ضرورت مزید تبدیلیوں کا اعلان کرکے اس شرط کی تکمیل کر دی ہے، لہٰذا امید ہے کہ ان کی حکومت آنے والے دنوں میں بہتر کارکردگی کا ثبوت دے سکے گی، تاہم تبدیلیوں کے بعد حکومتی ٹیم میں غیر منتخب افراد کا تناسب بہت بڑھ گیا ہے جبکہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ امورِ حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں رہیں۔ اس لیے آئندہ اگر کوئی تبدیلی عمل میں آئے تو اس میں اس پہلو کو ضرور ملحوظ رکھا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نے قبائلی علاقے میں ہونے والے جلسہ عام میں ملک کے لیے قبائلی عوام کی قربانیوں کا کشادہ دلی سے اعتراف کرتے ہوئے پشتون تحفظ موومنٹ کی جدوجہد پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ اس ضمن میں ان کا یہ تجزیہ بہت متوازن ہے کہ پی ٹی ایم کی بات درست مگر لہجہ غلط ہے۔ قبائلی علاقوں میں فوج کے بھیجے جانے سے جو مسائل پیدا ہوئے وزیراعظم نے یہ وضاحت کرکے کہ حقیقت کی بالکل صحیح ترجمانی کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنا ایک سابق حکمراں کا غلط فیصلہ تھا، اس کی بنا پر فوج کے خلاف نعرے لگانے کی روش درست نہیں کیونکہ قومی سلامتی کی حفاظت کرنے والی فوج کے خلاف جذبات کو مشتعل کرنا ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ قبائلی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے تمام مطلوبہ اقدامات کیے جائیں، انہیں تمام بنیادی آئینی حقوق دیئے جائیں اور ان کے علاقوں میں تعمیر و ترقی کے کام کی رفتار حتی الامکان زیادہ سے زیادہ بڑھا کر انہیں جلد از جلد ملک کے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں