آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوال یہ کپتان کی تبدیلیاں ٹھیک یا غلط، یہ دیکھ لیتے ہیں، اسد عمر، شکر ہے جان چھوٹی، ناتجربہ کاری، کنفیوژن کے حسین امتزاج اسد عمر، مکمل مایوسی نکلے، وژن نہ سمت، 8مہینوں میں ملکی معیشت کے درجنوں ناکام آپریشن، سرمایہ کاروں کا اعتماد، بینکوں کا اعتبار، اسٹاک مارکیٹ کی ساکھ، قوم کے جذبات اور تبدیلی کے رومانس کا سوا ستیاناس کر گئے، اسد عمر کے متبادل حفیظ شیخ اچھی چوائس، معیشت سمجھنے، سیاست، بیان بازیوں سے دور، کام سے کام رکھنے والے، خزانہ، نجکاری کے وزیر رہ چکے، نظام کی سمجھ بوجھ، بیورو کریسی سے جان پہچان، یہ فیصلہ ہونا باقی کتنا ڈیلیور کر پائیں گے، لیکن یہ طے اسد عمر سے بہتر ثابت ہوں گے، ہاں! نئے مشیر کے دامن پر دو دھبے، مطلب دو اسکینڈلز، آگے چل کر بتاتا ہوں، گیزر بابا المعروف غلام سرور گئے، شکر الحمدللہ، انہیں پیٹرولیم کی وزارت دینا ایسے ہی جیسے عثمان بزدار کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلسفے کی کلاس دے دینا، البتہ غلام سرور کا متبادل ندیم بابر بھی بری چوائس، موصوف پیٹرولیم انچارج بھی، پیٹرولیم کا اپنا کاروبار بھی، لندن میں حکومتِ پاکستان پر کیس کر چکے، ہار چکے، جرمانہ ہو چکا، کرپشن الزامات، انکوائریاں بھگت چکے، انہیں ہٹانا پڑے گا، یہ چلتا پھرتا اسکینڈل، فواد چوہدری بھی تبدیلی ریلے میں بہہ گئے، پارٹی میں مخالفت، وزارتِ اطلاعات کے آدھ درجن امیدواروں کی سازشیں اور سابق ایم ڈی پی ٹی وی ارشد خان سے لڑائی میں نعیم الحق کی مخالفت، اب سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر، جی ہاں جہلم کا چوہدری اب اس کرسی پر، جس پر کبھی پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمٰن، فواد چوہدری کی متبادل فردوس عاشق، کل آصف زرداری کی ترجمان، آج عمران خان کی، فواد چوہدری کی جگہ فردوس عاشق، ایسے ہی جیسے شیلا کی جوانی یا منی بدنام ہوئی عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی سے سننا، فواد چوہدری کی جگہ فردوس عاشق، ہماری جمہوریت واقعی بہترین انتقام ہے۔

شہریار آفریدی کی جگہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ، شاہ صاحب پر دو اعتراضات، مشرف کے ساتھی، بینظیر بھٹو قتل میں نام آئے، اب جب پیپلز پارٹی ہی مشرف سے این آر او کر چکی، جب بی بی کے نامزدہ کردہ ملزم پرویز الٰہی کو پیپلز پارٹی ڈپٹی وزیراعظم بنا چکی، تب اعجاز شاہ پر دونوں اعتراضات بے معنی، ان الزامات سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اعجاز شاہ اچھی چوائس، انٹیلی جنس بیک گراؤنڈ، ملکی داخلی صورتحال کو سمجھنے والے، خاص طور پر ان لمحوں میں جب انتہا پسند تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری، دہشت گردی کے خلاف جنگ حتمی مراحل میں، جب ہمیں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کرنا، تب اعجاز شاہ جیسے وزیر داخلہ کا ہونا غنیمت، عمران خان نے وزیر صحت عامر کیانی کو بھی فارغ کر دیا، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، وزارتِ صحت میں کرپشن، عامر کیانی کی ناقص کارکردگی، یہ اچھا فیصلہ، اس تبدیلی جھکڑ میں جو کام بہت بُرا ہوا وہ اعظم سواتی کا پھر سے وزیر بن جانا، پاکستان سے امریکہ تک مبینہ فراڈ، امریکہ میں تاحیات Ban، دو نمبریاں، گھپلے، مبینہ طور پر سینکڑوں پاکستانیوں کو لوٹ چکے، ون ملین ڈالر نوٹ جیسا جھوٹ بول چکے اعظم سواتی سے ابھی کل ہی سپریم کورٹ کے حکم پر استعفیٰ لیا گیا، پھر سے وزیر بنا دینا، افسوسناک... شرمناک۔ یہ عمران خان ہی جو پی پی، مسلم لیگ پر تنقید کیا کرتے کہ ’’یہ عدالتوں کا احترام نہیں کرتے، عدالتوں کے فیصلے نہیں مانتے‘‘ آج عمران خان خود سپریم کورٹ کا احترام کر رہے نہ فیصلہ مان رہے۔

نجانے اعظم سواتی کے پاس کیا گیڈر سنگھی، چھو منتر مولانا فضل الرحمٰن خوش، آصف زرداری خوش، عمران خان بھی خوش، پیسے کی طاقت مگر پیسے میں اتنی طاقت، حیرانی ہے، سواتی صاحب کو وزارت بھی ملی تو پارلیمانی امور کی، واہ... نواز شریف پارلیمنٹ میں جھوٹ بولے، پارلیمنٹ کو بے وقوف بنا لے، اعظم سواتی جیسا گھپلا ماسٹر پارلیمنٹ امورکا وزیر ہو جائے، 5پانچ ہزار کیلئے ایم این اے جعلی حاضریاں لگا لیں، کارکردگی صفر بٹا صفر ہو مگر ہم سے توقع، پارلیمنٹ کو سپریم سمجھو، عزت کرو، ویسے کتنی مزے کی بات، آنسو گیس اور پولیس ڈنڈوں سے بچتے بچاتے دھرنے والے پارلیمنٹ کا جنگلا توڑ بیٹھیں تو دہشت گردی کے مقدمے، نواز شریف پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر بحیثیت وزیراعظم جھوٹ بولیں یا سواتی صاحب جیسے پارلیمانی امور کے وزیر بن جائیں تو یہ پارلیمنٹ کی عزت، لگے رہو، منا بھائی لگے رہو۔

اب آ جائیں، نئے مشیر کے دو متنازع کاموں پر، پہلا یہ، جب وزیر خزانہ تھے تب اپنے ایک دوست علی جمیل کی کمپنی کو مبینہ طور پر ورلڈ بینک کی مدد سے ایف بی آر سے کئی ملین ڈالر کا ٹھیکہ دلایا، پاکستان سے افغانستان جانے والی اشیاء کا ٹریکر ٹھیکہ، یہ لمبی کہانی، تفصیلات پھر سہی، دوسرا معاملہ تھا، مشرف دور میں پی ٹی سی ایل نجکاری کا، ہوا یوں، 2.5بلین ڈالر میں پی ٹی سی ایل کی نجکاری ہوئی، یو اے ای اتصالات نے 1.7بلین ڈالر کی ادائیگی کر دی، اسی دوران کسی اپنے نے اتصالات کو مخبری کی کہ پی ٹی سی ایل تو 1.5یا 1.6بلین ڈالر کی، آپ نے مہنگی لے لی، اتصالات نے 8سو ملین ڈالر کی ادائیگی روک لی، ان دنوں نئے مشیر وزیر نجکاری تھے، انہوں نے اتصالات کے ساتھ نیا معاہدہ کیا، معاہدے میں یہ حیرت انگیز شق کہ آپ 8سو ملین ڈالر دیں، ہم پی ٹی سی ایل کی 3248عمارتیں، جائیدادیں آپ کو دے دیں گے، معاہدہ ہوا، وفاقی حکومت نے صوبوں کو خط لکھا کہ پی ٹی سی ایل کی عمارتیں، جائیدادیں دیں، صوبوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ عمارتیں، زمینیں ہماری، آپ کون ہوتے ہیں، وفاقی حکومت نے بہت کہا، 8سو ملین ڈالر کا معاملہ ہے مگر صوبے نہ مانے، یہ دیکھ کر وفاقی حکومت نے صوبوں سے پی ٹی سی ایل کی عمارتیں، جائیدادیں خرید کر اتصالات کو دینا شروع کر دیں، اسی طرح 3214 عمارتیں، جائیدادیں خرید کر دے دی گئیں لیکن 34 عمارتیں، جائیدادیں وہ نکلیں جو خریدی جا سکیں نہ آگے ٹرانسفر کی جا سکیں اور یوں ان 34عمارتوں، جائیدادوں کی وجہ سے پاکستان کے 8سو ملین ڈالر پھنسے ہوئے لیکن دکھ یہ کسی حکمران نے یہ پیسے نکلوانے کی سیریس کوشش ہی نہ کی، ویسے کوشش کرتا بھی کون، مشرف کی دوستیاں، یواے ای میں، ابھی بھی وہیں رہ رہے، زرداری صاحب کا محل، جائیدادیں وہیں، اپنے کابینہ اجلاس تک وہیں کریں، نواز شریف کے داماد اور اسحٰق ڈار کے بیٹوں کے کاروبار بھی وہیں، اور تو اورنئے مشیر کی نوکریاں، کاروبار بھی وہیں، لہٰذا پیسے آنا تھے، نہ آئے، لیکن چونکہ یہ شاہکار معاہدہ نئے مشیر نے کیا، وہ پھر سے اِن، عین ممکن اس بار ہی بھکے، ننگوں پر ترس کھا کر یہ 8سو ملین ڈالر نکلوا دیں، ویسے لگتا تو نہیں کہ یہ انہونی ہو جائے۔