آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ ملک میں 461 افراد کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر بھی شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، خواجہ سعد رفیق، محسن داوڑ اور افضل کھوکھر سمیت 6 ارکان قومی اسمبلی کے نام ای سی ایل میں ڈالے تھے جن میں3 کے نام نکال دیے گئے ہیں۔

موجود حکومت نے 6 ارکان قومی اسمبلی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا اعتراف کیا اور وضاحت کی کہ بلاول بھٹو زرداری ،علی وزیر اور محسن داوڑ کے نام نکال دیے گئے ہیں جبکہ آصف زرداری، خواجہ سعد رفیق اور افضل کھوکھر کے نام  اب بھی لسٹ میں شامل ہیں۔

وزارت داخلہ کی طرف سے قومی اسمبلی کو تحریری جواب میں بتایا گیا کہ ای سی ایل میں ڈالے گئے 461 افراد میں سے6 ارکان قومی اسمبلی بھی شامل ہیں، تمام نام وفاقی کابینہ کی منظوری سے ای سی ایل میں ڈالے گئے۔

وزارت داخلہ کے مطابق آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے نام ایف آئی اے کی سفارش پر ای سی ایل میں ڈالے تھے جبکہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے نام حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنے پر ای سی ایل میں ڈالے تھے جبکہ خواجہ سعد رفیق کا نام نیب کی سفارش پر ای سی ایل میں ڈالا گیا ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز شریف اور کیپٹن صفدر کے نام میں ای سی ایل میں ڈالے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران محسن داوڑ اور نفیسہ شاہ نے اپوزیشن کے افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پہ تحفظات کا اظہار کیا۔

جواباً وزیر دفاع پرویز خٹک نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے، طے کیا ہے کہ ارکان اسمبلی سمیت کسی کا نام جلد بازی میں ای سی ایل میں نہ ڈالا جائے۔

وزیر مملکت علی محمد نے کہا کہ حکومت کسی کو ٹارگٹ نہیں کر رہی۔

قومی خبریں سے مزید