آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:محمد رجاسب مغل…بریڈفورڈ
دنیا بھر میں 23اپریل کو کتاب کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس کا مقصد جہاں لوگوں میں کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے وہاں کتابیں لکھنے والوں کو خراج تحسین بھی پیش کرناہے، کتاب اور انسان کا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسانی تہذیب و تمدن کا سفر اور علم و آگہی کی تاریخ۔ تہذیب کی روشنی اور تمدن کے اجالے سے جب انسانی ذہن کے دریچے بتدریج کھل گئے تو انسان کتاب کے وسیلے سے خودبخود ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوا۔ سچ مچ کتاب کی شکل میں اس کے ہاتھ وہ شاہی کلید آ گئی جس نے اس کے سامنے علم و ہنر کے دروازے کھول دیئے۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے، سمندروں کی تہوں سے موتی نکالنے اور پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کا شوق اس کے رگ و پے میں سرایت کر دیا۔ کتاب ایک قوم کی تہذیب و ثقافت اور معاشی، سائنسی اور عملی ترقی کی آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی بہترین دوست بھی ہے۔ کتابوں سے دوستی رکھنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ کتاب اس وقت بھی ساتھ رہتی ہے،جب تمام دوست اور پیار کرنے والے ساتھ چھوڑ دیں۔ اگرچہ آج ٹی وی، انٹرنیٹ اور موبائل نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے۔ کتاب بینی کی دنیا کے سلطان بریڈفورڈ میں اردو ادب کی نامورشخصیت مقصود الٰہی شیخ اردو ادب کے

سمندر میں ایک موتی ہیں، جنہوں نے اردو زبان و ادب کی خدمت میں ایک عمر گزار دی ہے اور اب بھی ان کا جذبہ جوانوں سے بڑھ کر ہے کہ ہر لمحہ اردو ادب کی کسی نہ کسی تحریک کے لئے متحرک رہتے ہیں۔ دنیا بھر میں علم و ادب سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے حوالے سے ان کے کار ہائے نمایاں خدمات کے معترف ہیں حکومت پاکستان نے بھی مقصود الٰہی شیخ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں تمغہ امتیاز دے کر برطانیہ میں اردو قلم کاروں کو تسلیم کرتے ہوئے عزت افزائی کی ہے۔ اردو ادب کی خدمات پر برطانیہ میں راوی اور مخزن کے ذریعے کئی دہائیوں سے اردو زبان کو نوجوان نسل تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں ان کی کئی پوپ کہانیوں نے تو تھر تھلی مچا دی۔ مقصود الٰہی شیخ سے پہلی ملاقات کا شرف بھی مجھے بریڈفورڈ یونیورسٹی میں پوپ کہانی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر ملا، پھر ان سے رابطہ رہا ان کی محبت اور خلوص کا یہ عالم تھا کہ وہ اکثر کہتے تھے کہ ہمارا اب تعلق ’’جند جھپے‘‘ کا ہے، کئی بار ان کے دولت کدے پر حاضری ہوئی بھابی فریدہ شیخ جس خندہ پیشانی سے پیش آتیں اس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی، باتوں باتوں میں اصلاح بھی کرتے رہتے، مقصود الٰہی شیخ نوجوانوں سے جب بھی ملتے بڑی شفقت سے ملتے، ان کے چہرے کی نورانیت کا ذکر کر کے ان کو بتاتے کہ آپ عبادت گزار لگتے ہیں، نمازی لگتے ہیں، نیکی کی ترغیب دینے کا بھی ان کا اپنا انداز ہے، حال ہی میں ڈاکٹر عبدالحی نے جس محنت سے مقصود الٰہی شیخ کی کتاب ’’سمندر اوپر جھاگ اندرموتی‘‘ مرتب کی ہے، بلا شبہ اپنی مثال آپ ہے، کتاب کے اندر جہاں مقصود الٰہی شیخ کی سبق آموز تحریروں اور صاحب کتاب کی خدمات کا اعتراف ہے وہاں اس کتاب میں ایک باب’’ناخن کے قرض‘‘ہے جس میں دنیا بھر میں دو درجن سےزائد اردو ادب کے عظیم شخصیات نے مقصود الٰہی شیخ کی زندگی کے حوالے سے جو گرہیں کھولی ہیں اور انتہائی خوبصورت انداز میں ان کی تحریروں اور شخصیت کا احاطہ کیا وہ بہت دلچسپ ہیں، بلا شبہ مقصود الٰہی شیخ آسمان ادب کے ماہ کامل ہیں، نیو یارک سے تنویر پھول نے صحیح کہا کہ سمندر اوپر جھاگ اندر موتی کو ماہ کامل سے خصوصی نسبت ہے
امواج ہیں بے تاب سمندر بھی ہے بے کل
کرتا ہے فلک پر ماہ کامل جو اشارے
کتاب کے آخری حصے’’مقصود الٰہی شیخ تصویروں کے آئینے میں‘‘ اپنی بھی صورت جیو کے لوگو کے ساتھ نظر آئی جس کے لئے مشکور ہیں، جس طرح اردو ادب سے منسلک لوگوں کے ساتھ صاحب کتاب نے وفا کے چراغ جلائے وہ ہمیشہ یاد رہیں گے کتاب کے عالمی دن کے موقع پر یہی پیغام ہے کہ کتاب سے رشتہ مضبوط کیجئے اور مقصود الٰہی شیخ کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے دیار غیر میں جو کہ شاہد اب دیار غیر نہیں رہا میں اپنی نوجوان نسل میں اپنی ثقافت اور اپنی زبان کی ترویج کے لئے اردو بولو پڑھو لکھو دل میں نہ رکھو کے نعرے کو عملی جامہ پہناتے رہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں