آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں نے وطن عزیز میں 20کروڑ پائونڈ (38ارب روپے) کی سرمایہ کاری کا ایک ایسے مشکل وقت میں مستحسن اعلان کیا ہے جب قومی معیشت انتہائی دگرگوں حالت میں ہے، برآمدی شعبہ جمود کا شکار، ایک کروڑ 20لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہیں۔ یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے جو اِن دنوں پاکستان کے دورے پر ہے، کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں حکومتی ونجی شعبے کے نمائندوں سے کامیاب ملاقاتیں کی ہیں تاکہ جو پیسہ وہ لائے ہیں اُس کو پاکستان میں پیداواری شعبوں میں لگا کر ملک کی ترقی وخوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔ بلاشبہ دوسرے ملکوں میں مقیم پاکستانی وطن عزیز کیلئے درد دل رکھتے، اسے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں دیکھنا چاہتے ہیں اور انتہائی محنت و جانفشانی سے کمایا ہوا سرمایہ وہ ترسیلاتِ زر کی شکل میں اپنے اہلِ خانہ کو بھجوانے کے ساتھ ساتھ فلاحِ عامہ اور ہر قومی تعمیری پروگرام میں حصہ ڈالتے ہیں، تاہم وطنِ عزیز میں سرمایہ کاری کی یہ عملی سوچ ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے نہایت دوررس نتائج کی حامل ثابت ہو گی۔ حالیہ دورے میں رئیل اسٹیٹ، سیاحت، تعلیم، حلال گوشت، پولٹری، میڈیکل ٹیکنالوجی، دفاعی پرزہ جات و سامان، آٹو موبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، درآمدات و برآمدات، کاسمیٹکس اور دیگر شعبوں میں سمندر پار پاکستانیوں کی سرمایہ کاری قت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت پاکستان، دوسرے ملکوں میں قائم اپنے سفارت خانوں کے توسط سے وہاں رہنے والے اہلِ وطن کو بھی ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دے تو اس سے کھربوں روپے صنعت و تجارت کے شعبے میں لائے جا سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صنعت و تجارت، سمندر پار پاکستانیوں کی وزارتیں باہمی اشتراک عمل سے ایک ٹھوس اور ہر طرح کے نقائص سے پاک لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں میں نیا اعتماد پیدا ہو سکے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998