آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد(ایجنسیاں) پاکستان اور ایران نے سیکورٹی تعاون بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دونوں ممالک کے مابین مشترکہ سرحد کے تحفظ کے لئے جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنانے پر اتفاق کیا ہے‘ دونوں ممالک کی قیادت نے دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اوراشیاءکے تبادلے کے لئے بارٹر کمیٹی تشکیل دینے پربھی اتفاق کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جوانہوں نے قبول کرلی ‘ ایران کے صدرحسن روحانی کا کہناتھاکہ کوئی تیسراملک ہمارے برادرانہ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچاسکتا۔وزیراعظم عمران خان کے 2 روزہ دورہ ایران کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان جنگ سے دونوں ممالک متاثر ہوئے ہیں ‘اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے‘صحت اوردفاع کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا ‘ دونوں ممالک نے صحت کے شعبے میں تعاون کے ایم اویو پر بھی دستخط کئے ‘عمران خان نے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای سے ملاقات کی جبکہ روحانی پیشوا آیت

اللہ خمینی کے مزار پر بھی حاضری دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پیر کوتہران میں ایران کے صدر حسن روحانی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی معاشرے میں مساوات ہے اور یہ سب انقلاب کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نئے پاکستان میں بھی ایسا انقلاب لانا چاہتے ہیں جس میں غریب اور امیر کے مابین تفریق ختم ہو جائے‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ پہلے ہمارے یہاں سے لوگ ایران آتے تھے اور یہاں سے بھی جاتے تھے ‘دونوں ممالک اپنی سرزمین پر دہشت گرد سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیں گے اور دونوں ممالک کے سیکورٹی چیفس تعاون کے راستے تلاش کرنے کے لئے تبادلہ خیال کریں گے۔ دہشت گردی نے دونوں ممالک کے درمیان دوریاں پیداکی ہیں ‘ان فاصلوں کو ختم کرنے کیلئے ایران آیا ہوں ‘ہم اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجود ہ حکومت ملک میں کسی بھی عسکری گروہ کو ختم کر رہی ہے‘ہم کسی کو بھی اور کسی کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ہم افغانستان سے زیادہ خوش قسمت ہیں جو نیٹو اور افغان سیکورٹی فورسز کی طاقت کے باوجود پاکستان کی طرح عسکریت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چند روز قبل دہشت گردوں نے پاکستان کے 14 سیکورٹی اہلکاروں کو اُرماڑہ بلوچستان میں شہید کیا‘ ہمیں معلوم ہے کہ ایران بھی دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔اسرائیل کی طرف سے گولان کی پہاڑیوں پر غیر قانونی قبضے، یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی سے مشرق وسطیٰ میں مزید غیر یقینی پیدا ہو گی‘تنازعہ کشمیر کا واحد حل بات چیت اور سیاسی تصفیہ ہے نہ کہ طاقت کا استعمال‘انہوں نے صدر حسن روحانی کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔قبل ازیں صدر حسن روحانی نے کہا کہ کوئی تیسرا ملک ہمارے برادرانہ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچا سکتا‘ دونوں ممالک نے سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس قائم کرنے اور مشترکہ سرحد کی حفاظت پر بھی اتفاق کیا ہے‘دونوں اطراف نے دونوں ممالک کے مابین اشیاءکے تبادلے کے لئے بارٹر کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں اس حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے کہ ایران، پاکستان اور ترکی اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے بانی ہیں اور وہ استنبول سے اسلام آباد تک ریلوے لائن کی بحالی کے خواہاں ہیں تاکہ ایران اور ترکی کے ذریعے یورپ اور چین کے مابین رابطہ استوار ہو سکے۔ قبل ازیں پاکستان اور ایران نے صحت کے شعبہ میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے۔

اہم خبریں سے مزید