آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورنگی، جاں بحق عصمت سے مبینہ زیادتی اہل خانہ کا تفتیش پرعدم اعتماد

کراچی (اسٹاف رپورٹر/ این این آئی ) سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں غلط انجکشن اور مبینہ زیادتی سے جاں بحق عصمت کے اہل خانہ نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل،ولی اورڈاکٹرایاز لغاری کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آسکی، واقعہ سرکاری اسپتال میں ہوا اسی لئے ذمہ دار حکومت بھی ہے جبکہ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا ہے کہ بتایا جائے مریضہ عصمت سے زیادتی اور قتل میں کون سے عناصر ملوث ہیں، واقعہ میرے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ علاوہ ازیں عدالت نے تین ملزمان عامر،شاہزیب اور ولی محمد کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں غلط انجکشن اور مبینہ زیادتی سے جاں بحق عصمت کے اہل خانہ نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل،ولی اورڈاکٹرایاز لغاری کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آسکی، انصاف ملنے تک چین سے

نہیں بیٹھیں گے، اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ کیس سے پیچھے ہٹنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ عصمت کی خالہ فریدہ نے الزام عائد کیا کہ ابھی تک اصل ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا، ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں ۔نیشنل کمیشن فارہیومن رائٹس کی نمائندہ انیس ہارون کہا کہ بے ہوشی کا انجکشن لگا کر اس کے ساتھ جو گھناؤنا کھیل کھیلا گیا، یہ سوال اب قانون بنانے والے پر عائد ہوتا ہے کہ اس درندگی کے حوالے سے قوانین کے مطابق انہیں کس قسم کی سزائیں دی جائینگی۔ سندھ ہیومن رائٹس کی نمائندہ جسٹس ماجدہ رضوی نے کہا کہ اس غیرانسانی اور غیر فطری واقعے کے اصل کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔وزیراعلی سندھ کا کہنا ہے کہ بتایا جائے مریضہ عصمت سے زیادتی اور قتل میں کون سے عناصر ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ دانت کی تکلیف میں مبتلا مریضہ کے ساتھ مبینہ زیادتی اور ہلاکت میرے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ وزیراعلی سندھ کا کہنا ہے کہ ہلاکت کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس نے واقعہ پر کیا پیشرفت کی ہے؟ اب تک کارروائی کی تفتیشی رپورٹ مجھے ارسال کی جائے۔ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات ناقابل بردا شت ہیں۔ دوسری جانب این این آئی کے مطابق پولیس نے پیر کو گرفتار تین ملزمان عامر، شاہزیب اور ولی محمد کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ،تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ میں نے تفتیش کیلئے مزید ریمانڈ کی درخوا ست کی تھی ،ملزمان سے تفتیش ادھوری ہے ،ملزمان نے مقتو لہ کو غلط انجکشن لگایا جس سے عصمت کی موت واقع ہوئی، کورنگی پانچ کے سرکاری اسپتال کا ڈاکٹر فرار ہوگیا، ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں