آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آ باد ( نیوز رپورٹر) سی ڈی اے اور ٹھیکیدار کے درمیان تنا زع کی وجہ سے خیا بان مارگلہ کی تعمیر کا منصوبہ سات سال سے تعطل کا شکار ہے ۔ یہ شا ہراہ بائی پا س کا درجہ رکھتی ہے لیکن سی ڈی اے انتظامیہ کی ترجیح میں شامل نہیں ہے۔ سی ڈی اے نے سیکٹر ڈی بارہ سے سیکٹر بی سترہ تک نوکلومیٹر کی ا س چار رویہ شاہراہ کا ٹھیکہ 2012میں 584ملین روپے میں دیا تھا۔ یہ تعمیراتی کام ایک سال میں مکمل ہوناتھا مگر تین کلومیٹر کا قبضہ نہ ملنے کی وجہ سے ٹھیکیدار نے کام بند کر دیا۔شعبہ لینڈ و بحالیات نے قبضہ لینے اور متاثرین کے ایشوز کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی جس کی وجہ سے اب تک کام بند پڑا ہے ۔ ٹھیکیدار نے کنٹریکٹ کے تحت ثالثی کی آپشن اختیار کی ۔ ثالث نے ٹھیکیدار کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سی ڈی اے کو 172ملین روپے جرمانہ کر دیا گیا۔ سول کورٹ نے بھی ٹھیکیدار کے حق میں فیصلہ کر دیا ہے۔سی ڈی اے ا س فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرے گا۔سڑک کا اب تک 40 فیصد کام ہوا ہے ۔ سی ڈی اے نے نیا ٹھیکہ بھی نہیں دیا حالا نکہ خیبر پختونخوا سے آنے والی ٹریفک کیلئے یہ بائی پاس ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ سیکٹر سی چودہ ، سی پندرہ اور سی سولہ کیلئے یہی را بطہ سڑک ہوگی ۔اب تجویز یہ ہے کہ سی ڈی اے اور ٹھیکیدار مصالحت کیلئے میٹنگ کرلیں اگر ٹھیکیدار آدھی رقم

چھوڑ دے اور سی ڈی اے باقی کام ٹھیکیدار کے رسک اینڈکاسٹ پر نہ کرائے تو یہ تنازعہ حل ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد سے مزید