آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 15؍ صفرالمظفر 1441ھ 15؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’میر معصوم شاہ بکھری‘‘ ہمہ جہت شخصیت

وادی سندھ میں بے شمار ایسی نابغہ روزگار ہستیاں گزری ہیں جن کے کارہائےنمایاں سے نہ صرف سندھ بلکہ برصغیر کی تاریخ مزین ہے۔ انہی میں سے ایک ہستی سید میر محمد معصوم شاہ بکھری کی ہے جو نظام الدین کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔وہ 1537ء میں سندھ کے شہربکھر میں پیدا ہوئے جو اب سندھ کےتیسرے بڑے شہر سکھر کے نام سے معروف ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب سترہویں پشت میں جاکر حضرت سیدنا امام موسیٰ الکاظم سےملتا ہے جو اولاد رسولؐ میں سے ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ملا کنگری سے حاصل کی بعدازاں کامل اساتذہ سے استفادہ کرتے رہے۔

سید معصوم شاہ نہایت وجیہہ و شکیل ،،خوبصورت ،بلند و بالا قد کےبہادر نوجوان تھے۔بچپن سے لے کر عالمِ شباب تک فنون سپہ گری و تیغ زنی کاذوق وشوق غالب رہا۔آپ کی جرأت وبہادری کے کارنامے سکھر شہر کے گردو نواح میں مشہور ہونے کے بعد ان کے رعب وجلال سے عوام وخواص مرعوب رہتے تھے۔اس دور میں سندھ کا حکم راں محمود خان جسے ہندوستان کے بادشاہ نے تعینات کیا تھا،اس نے میر معصوم کے کارناموں کی اطلاع، شہنشاہ ہند، جلال الدین محمد اکبر کو دی ۔اکبر بادشاہ صاحبانِ علم و ہنر اور بہادر افراد کا قدر دان تھا ۔اس نے میر معصوم شاہ کواپنی فوج کا افسر مقرر کیا ۔اس وقت میر معصوم کی عمر38برس تھی۔

فوج میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعدوہ 20 سال تک اجمیر سمیت مختلف علاقوں میں فتنوں کو کچلنے میں مصروف رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بے شمار جنگیں لڑیں جن میں ایدر کی لڑائی1576ء میںبہاروبنگال کی لڑائی 1580ء میںبنگال میں ایک اور لڑائی 1584 میں گجرات کی مہم شامل ہے۔

میر معصوم کو شعروادب سے گہری دلچسپی تھی، گجرات کی مہم کے دوران آپ نے ہندوستان کی تاریخ پر مشتمل کتاب ’’طبقاتِ اکبر ی ‘‘کے مصنف اور ادبی شخصیت خواجہ نظام الدین احمد کی معاونت کی ۔اسی دوران آپ کو تاریخِ سندھ لکھنے کا خیال آیا ۔ گجرات میں قیام کے دوران ہی آپ کو شہنشاہ ہند ، جلال الدین اکبر نے طلب کیا، وہ اس وقت لاہومر میں مقیم تھا۔لاہور پہنچ کر آپ نے بادشاہ سے ملاقات کی۔ اکبر بادشاہ آپ کی شخصیت سے بہت متاثر ہوا، وہ آپ کو ہمیشہ قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ دربار اکبری میں ان کی ملاقات ہندوستانی جرنیل عبدالرحیم خان خاناں سے ہوئی جس کے ساتھ بعد میں انہیں کام کرنے کا موقع ملا۔ ۔1590ء میں انہیںدربار اکبری کی جانب سے ٹھٹھہ کی مہم پر روانگی کا حکم ملا۔

اس دوران آپ کی والدہ سیدہ بی بی کلاینہ نےبادشاہ کو خط لکھا کہ جس ماں کا اکلوتا بیٹا بیس سال تک نگاہوں سے اوجھل رہے اس ماں کا دل کیا کہتا ہو گا جب کہ میرا بیٹابادشاہ کی ملکی فتوحات میں جانبازی اور وفاداری کے جوہر دکھا رہا ہے اور اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتا ۔کیا بادشاہ سلامت کے عدلِ خسروانہ سے یہ امید کر سکتی ہوں کہ میرے بیٹے کو میری آخری سانس ٹوٹنےتک اس علاقے کا حاکم تعینات کردیا جائے۔اکبر بادشاہ اس خط سے بے انتہامتاثرہوااورمیر معصوم کودربیلا(نواب شاہ)،کاکڑی، چانڈ کا پر گنہ کی جاگیر عطا کر کے سندھ کا حاکم مقرر کیا ۔ آپ12دسمبر 1590ء کو اپنے آبائی شہر سکھر پہنچے۔ ان کے ساتھ عبدالرحیم خانخاناں بھی ٹھٹھہ کو فتح کرنے کے لیے لاہور سے سکھر پہنچا ۔ضروری تیاری اور آرام کے بعد خان خاناںٹھٹھہ کو فتح کرنے کے لیے بکھر سے نکلا۔شاہی حکم کے مطابق میر محمد معصوم بھی اس کے شریک کار تھے۔ٹھٹھہ پر اس وقت ترکی النسل ترخانی حکم راں، مرزا جانی بیگ کی حکومت تھی ۔جنگ شروع ہوتے ہی ترخانوں اور خان خاناں کے درمیان زبردست جنگ ہوئی اور جنگ کا دائرہ سیہون ،عمر کوٹ،نصر پور ،بدین اور ٹھٹھہ تک پھیل گیا ۔دونوں جانب سے بے شمار سپاہوں کے قتل کے باوجود بھی مغل قوج کر فتح حاصل نہ کرسکا ۔جب جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور بلاوجہ بے پناہ ،خون خرابہ ہوگیا تو دونوں فریقین کی جانب سے صلح کی کوششیں شروع ہوئیں ۔1591ء میں مرزاا جانی بیگ اور عبدالرحیم خان خاناں کے درمیان معاہدہ امن طے پایا جس کی رو سے جنگ ختم ہوگئی اور ٹھٹھہ شہر مغلیہ سلطنت کا حصہ بن گیا۔

جنگ کے خاتمے کے بعد میرمحمد معصو م فوجی ذمہ داریوں سے فراغت پا کر تعطیلات میں بکھر آئے اور وہاں پہنچ کر سندھ کی گورنری سنبھالی۔ وہ تین برس1591ء تک بکھر میں مقیم رہے ۔بکھر میں قیام کے دور ان انہوں نے اپنے خاندانی قبرستان کی تزئین و آرائش کی ، والد اور بھائی کی قبر پر خوب صورت کتبے لگائےاور مختلف عمارتوں اور تعمیرات کی بنیاد رکھی ۔سندھ کے حکم راں کی حیثیت سے انہوں نے رفاہ عامہ کے بے شمار کام کیے۔مسافروں کے لیے سرائے، درس گاہیں،مساجد اور عید گاہیں بنوائیں ۔غرباومساکین ،بیواؤں اور یتیموں کی ہرممکن اعانت کرتے رہے ۔ابھی انہیں سندھ کا نظام حکومت سنبھالے تین سال ہی گزرے تھے کہ 1595ء میں سبی میں افغان سپاہ نے بغاوت کر دی ۔ انہیں بادشاہ کے حکم پر میر ابوالقاسم نمکین کے ساتھ سبی میں باغیوں سے نمٹنے کے لیے فوجی مہم پرروانہ کیا گیاجس کی فتح کے بعدمغل حکمرانوں کو قندھاراورومکران تک رسد کی آسانی ہوئی ۔میر معصوم سبی کی مہم سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ انہیں شاہی فرمان کے مطابق’’ڈھائی سو‘‘ کا‘منصب دے کروہاں سے قندھارروانہ ہونے کا حکم ملا۔کچھ ہی روز بعد انہیں مزید ترقی دی گئی اوران کا عہدہ ’’ایک ہزار‘‘‘تک جا پہنچا۔میرمعصوم بکھر واپس آنے کی بجائے قندھار چلے گئے ۔وہاں انہوں نے چار سال تک فوجی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 1599ءر میں انہیں قندھارسے واپسی کا حکم ملا اور وہ سبی اور شال سے ہوتے ہوئے بکھر پہنچے۔وہاں کچھ روز قیام کے بعدجیسلمیر کے راستے آگرہ پہنچے ۔جہاں برہانپور کے لیے جنگی تیاریاں عروج پہ تھیں ۔اکبربادشاہ بذات خود اس مہم کی قیادت کررہا تھا ، یہ مہم دو سال جاری رہی ۔بالآخرشاہی فوج نے خاندیش پر قبضہ کر لیا ۔اس جنگ میں میر معصوم بھی شامل رہے ۔جنگ میں فتح کےبعد میر معصوم آگرہ لوٹ آئے ۔

اس زمانے میں مغل سلطنت کو ایران میں سفارت کاری کی ضرورت محسوس ہوئی جس کے لیے میر معصوم کا انتخاب کیا گیا ۔ اکبر بادشاہ نے میر معصوم کو ایران میں سفیر بناکربھیجنےسے قبل انہیں’’امین الملک ‘‘‘کے خطاب سے سرفراز کیا اور اعلیٰ منصب عطا کیا1009ء میں آپ ایران روانگی سے پہلےآگرہ سے بکھر پہنچے ۔ضروری ساز وسامان اور تیاری کے بعد۱یران کے لیے روانہ ہوئے ۔اس موقع پر جلال الدین اکبر نے اپنے مراسلے میں شاہِ فارس کومیر معصوم کے لیے ایک تعارفی مراسلہ بھیجاجس میں ان کی جن الفاظ میں تعریف کی گئی وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ مراسلے میں تحریر کیا گیا کہ ،’’سیادت ونقابت آثار، افادت واضافت دثار، محرم بزمِ جلالت ، اسا س مخصوص الطاف واعطاف عنایت اقتباس ، امین الملک میرمحمدمعصوم بکریکہ ازاجلۂ ساداتِ ایں بلاداست وبمزیدمراتب اخلاص ورواتب اختصاص مخصوص وممتاز‘‘۔ آپ نے ایران میں سفارت کاری کے فرائض انتہائی تندہی سے انجام دیئے۔ایران کے بادشاہ عباس صفوی سے ملاقات اور طرفین میں خطوط وتحائف کا تبادلہ ہوا۔سفارتی ذمہ داریوں سے سبک دوس ہونے کے بعد وہ وطن واپس آگئے۔ایران میںقیام کے دوران انہیںشاعر، مؤرخ اورصاحبِ قلم وقرطاس ہونے کے باعث ایران کے ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ملی۔ان کے اعزاز میں علمی وادبی مجالس کا اہتمام کیا گیا۔ آپ سے ملاقات کرنے والے دو دانشوروں تقی کاشی نے ’’خلاصۃ الاشعار ‘‘ ا و ر تقی اوحدی نے ’عرفات العاشقین‘میں آپ سے ملاقات کا احوا ل درج کرتے ہوئے آپ کی تعریف و توصیف کی ہے ۔ایرانی دانش وروں کے علاوہ آپ کے معاصر دو ہندوستانی ادبی شخصیات خواجہ نظام الدین احمد نے’طبقات اکبری‘ اور ملا عبدالقادر بدایونی نے ’منتخب التواریخ ‘ میں آپ کا ذکرشایانِ شان سے کیا ہے۔ ایران سے واپسی پر وہ بکھر سے ہوتے ہوئےآگرہ پہنچے ۔ان کی واپسی کے چند ماہ بعد شہنشاہ جلال الدین اکبر کا انتقال ہوگیا اور اس کی جگہ شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر نے بادشاہت سنبھالی، اس کی تاج پوشی کے وقت میر معصوم بھی دربار میں موجود تھے ۔ انہیں شہنشاہ اکبر سے دلی وابستگی تھی جس کی وجہ سے انہیں اس کی موت کا گہرا صدمہ تھا۔کچھ ہی روز بعد وہ بادشاہسے اجازت طلب کرکے بکھر روانہ ہوئے ۔بکھر پہنچنے کے دو ماہ بعد ہی 4 اپریل1606ء کو وہ خالق حقیقی سے جاملے۔۔

میر معصوم بھکری جہاںایک اچھے حاکم اور ،جنگجو سالار تھے وہیں علم وادب میں بھی بلند مقام رکھتے تھے ۔عہد حاضر میں آپ گورنر ،سپہ سالار ، ،سفیر ،امیر اور جاگیر دار اور سیاستدان ہونے سے زیادہ ایک مصنف ،شاعر اور مؤرخ کے طور پر معروف ہیں ۔آپ نے 1009 ھ میں اولین تاریخِ سندھ کی ترتیب وتدوین کا آغازکیاجوچار سال کے عرصے میں پایہ تکمیل کو پہنچی ۔۔تاریخِ سندھ کا یہ قدیم معتبرماخذبعد ازاں حبیب اللہ کوریجو نےترتیب دیا۔یہ کتاب تاریخِ معصومی کے نام سے معروف ہے جس کا اردو زبا ن میں ترجمہ سندھی ادبی بورڈ نے شائع کیا ہے ۔اس کے علاوہ ’پنج گنج‘،’طب ومفردات نامی‘،فارسی شاعری کے دو دیوان ، رباعیات کا دیوان ،ساقی نامہ آپ کی علمی و ادبی کاوشیںہیں ۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے بے شمار علمی و ادبی تصانیف پر کام کیا جو سندھ کی ثقات کا درخشاں باب ہے۔

میر معصوم شاہ کا مینار شہر کے وسط میں جہاں قائم کیا گیا ہے وہ ایک پہاڑی علاقہ تھا جو شہر میں سب سے بلند و بالا مقام تھا، اس پہاڑی والے اونچے مقام پر سید نظام الدین شاہ عرف میر معصوم شاہ نے اس تاریخی مینار کو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور1003ھ میں میر صاحب نے مینار کی تعمیر کا کام شروع کرایا مینارکا کام آدھا بھی نہیں ہوا تھاکہ میر معصوم شاہ انتقال کرگئے جس کے بعد ان کے بیٹے نے والد کے ہی بنائے گئے منصوبے کے تحت یہ مینار 1027ھ کو مکمل کرایا اور ساتھ میں مشاعرے کے لئے ایک بارہ دری والا فیض محل بھی بنوایا تھا،جس پر میر معصوم شاہ کے اشعار اور رباعیاں لکھوائی گئیں۔مینارمیں پکی اینٹیں اور چن کا کام ہوا ہوا ہے، اینٹیں مکمل طور پر مضبوط ہیں، آرکیا لو جیکل سروے کے دوران مینار کی پیمائش کی گئی جس کے مطابق مذکورہ مینار ایک عجوبہ ہے ۔یہ مینار 84 فٹ چوڑا اور 84فٹ اونچا اور گولائی بھی 84 فٹ ہے اور اس مینار کی 84سیڑھیاں ہیںاور بنیاد بھی اس کی 84فٹ ہے جوکہ ایک عجیب حساب ہے ، سیڑھیاں مینار کے اندر سے گھومتی ہوئی اوپر پہنچ رہی ہیں، مینار کی چوٹی گنبد کی مانند ہے جس پر لوگ چڑھ کر دور دراز کے نظارے دیکھ سکتے ہیں ۔ سیڑھیوں کے درمیان مختلف جگہوں پر خوبصورت کھڑکیاں بنائی گئی ہیں تاکہ روشنی اور ہوا بھی آسکے۔عام روایت ہے کہ میر معصوم شاہ مینار کے لئے اینٹیں روہڑی کے قریب اروڑ کی قدیمی عمارتوں میں سے توڑ کر لائی گئی تھیں جبکہ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ کچھ اینٹیں شکارپور سے اسی طرز کی بنوا کر لائی گئی تھیں۔

میر معصوم ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، وہ بیک وقت شاعر، مورخ، کتبہ نویس، طبیب اور ماہر تعمیرات تھے۔ ان کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ سندھ کی تاریخ بنام تاریخ معصومی ہے جسے انہوں نے فارسی زبان میں تحریر کیا ہے، اسے چچ نامہ کے بعد سندھ کی تاریخ کا سب سے اہم مآخذ مانا جاتا ہے، اس کتاب کو انہوں نے 1009ھ  میں تصنیف کیا۔ اس کے علاوہ طب کے موضوع پر فارسی زبان میں طب نامی لکھی۔[8] شاعری میں دیوان نامی (فارسی) اور مثنویوں میں معدن الافکار، حسن وناز، اکبر نامہ اور پری صورت شامل ہیں۔