آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ارم فاطمہ

چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث ،مزاجوں میں تضاد اور خیالات میں اختلاف، ایسے میں گھر کا ماحول کیسے پر سکون ہوسکتا ہے نیز اب توبرداشت کی کمی ہر گھر میں نظر آتی ہے۔بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے گھر کا ماحول خوش گوار ہونا ضروری ہے ۔ مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ والدین اپنی بات منوانے کے لئےبچوں پر سختی کرتے اور اُن پرغصہ ہوتے ہیں ۔اُن کو اتنا دباؤ کا شکار کر دیتے ہیں کہ بچے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی بات ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

بحث اور دلائل اپنی جگہ مگر والدین یہ بھول جاتے ہیںکہ اختلافات بچوں کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عموماً والدین انہیں جذباتی طور پر بلیک میل کرتے ہیں مثلاً’’تم میری بات کو اہمیت نہیں دے رہے ‘‘، آئندہ میں تم سے کچھ نہیں کہوں گی ،تمہارا جو دل چاہےکرو اورایسا وہ بچوں کا جھکاؤ اپنی طرف رکھنے کے لئے بار بار کہتے ہیں یہ بالکل نہیں سوچتے کہ اس طرح کے جملےان کی آزادی اور اظہار رائے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں ، ان کے اعتماد میںکمی آسکتی ہے۔ان کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ سکتی ہےایسی صورت حال میں بچوں کو سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیسے اپنے خیالات کا اظہار کریں،کیسے اپنی بات کی وضاحت کریں ۔امی، ابو تو ہماری رائے جاننا ،سننا نہیں چاہتے ۔بعض والدین بچوں کےتعلیمی کیریئر کے حوالے سے بھی اُن پر اپنا فیصلہ مسلط کرتے ہیں، بقول ان کے کہ ’’وہ انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ان کا تجربہ زیادہ ہے ۔اس لیے وہ جو شعبہ ان کے لئے منتخب کریں گے وہ مستقبل میں ان کے لئے بہترین ثابت ہوگا۔ جب کہ یہ والدین کی محبت نہیں بلکہ بچوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ ان کی سوچ اور پسند کو نظر انداز کر کے انہیں مجبور کرنا کہ وہ زندگی ایسے گزاریں جیسی وہ چاہتے ہیں یہ مناسب نہیں ہے۔والدین اپنے بچوں سے اُمیدیں ضرور رکھیں، مگر انہیں فیصلہ کرنے کی آزادی دیں بے شک اگر بچوں کا فیصلہ صحیح نہ لگےتو اطمینان سے اور دلائل کے ساتھ اُنہیں بتائیں کہ یہ صحیح فیصلہ نہیں ہےتم ایک بار اور سوچ لو لیکن دبائو میں رکھ کر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کریں۔ انہیں کھلی ہوا میں سانس لینے دیں ،بہ صورت دیگر ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگ جائے گا۔ بچوں کو حوصلہ دیں، ان میں اعتماد پیدا کریں، تا کہ وہ کامیابی کی منزلیںآسانی سے طے کر سکیں، البتہ ان پر بھرپور نظر رکھیں، خصوصاً جب وہ نوجوانی کی عمر میں قدم رکھیں ۔ اس عمر میں والدین کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ بچوں کی تربیت اور ان کی سوچ کو صحیح رخ دینے کے لئے ضروری ہے ان کے ہر مسئلے کو مثبت انداز فکر سے حل کیا جائے، تاکہ ان کی سوچ اور عملی زندگی میں تعمیری انداز فکر نمایاں ہو۔ اگر وہ گھر سے ہی اختلافی سوچ لے کر عملی زندگی میںقدم رکھیںگے تو معاشرے کے دیگر افراد سے روابط میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہےاور وہ ہر بات کا منفی پہلو نظر میں رکھیں گے۔ آج کل بچے سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھتے اور سیکھتے ہیں ان کی اپنی ایک سوچ اور رائے ہوتی ہے ۔ان کو پورا حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں اگر آپ انہیں وقت نہیں دیں گے، انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے تو پھر فاصلے بڑھتے جائیں گے ۔کوشش کریںکہ بچوں کی کسی بات سے اختلاف ہوتو اسے بڑھاوا نہ دیں،انہیں سمجھائیں ،تاکہ انہیں ایک بہتر راستہ ملے، جس پر چل کر ان کی شخصیت میں وہ نکھار آجائے جو آپ کے لیے بھی فخر کا باعث بنے۔

نصف سے زیادہ سے مزید