آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقبول خان

کراچی میں ملباریوں اور ایرانیوں کے ہوٹل طویل عرصے تک شہرکے سماجی اور معاشرتی منظر نامے کا اہم حصہ رہے ہیں۔ 70 کے عشرے تک اس شہر کا کوئی رہائشی اور کاروباری علاقہ ایسا نہیں تھا، جہاں ملباریوں کے ہوٹل اور پان سگریٹ کی دکان نہ ہو، جب کہ کئی علاقوں میں ان کے جنرل سٹور بھی تھے۔ دوسری طرف شہرکے کاروباری، ترقی یافتہ اور دیگر اہم علاقوں میں ایرانیوں کے ہوٹل بھی تھے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی میں سندھیوں، بلوچوں سمیت مہاجروں کے بھی ہوٹل تھے، جہاں گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لئے فلمی گانوں کے گراموفون ریکارڈ بجائے جاتے تھے، لیکن ملباری اور ایرانی ہوٹلوں میں گراموفون نہیں بجتے تھے۔ اس کے باوجود ان ہوٹلوں میں صبح سے رات گئے تک کھانے پینے والے لوگوں کا رش لگا رہتا تھا ،اس کی وجہ ان ہوٹلوں کی چائے اور کھانے کی اشیاء کا منفرد ذائقہ تھا۔

ایرانی اور ملباری ہوٹلوں کی چائے کا ذائقہ ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوتا تھا ،جس شخص کو ایرانی یا ملباری ہوٹلوں کے چائے اور کھانے کا چسکا پڑ جاتا، وہ پھرکسی اور ہوٹل کا رخ نہیں کرتا تھا۔ اسی طرح ملباریوں کی پان شاپ سے پان کھانے والے کسی اور دکان کا پان نہیں کھاتے تھے۔ ملباری اور ایرانی ہوٹلوں میں ایک قدرِمشترک یہ بھی تھی کہ ان ہوٹلوں کی دیواروں پر ایک یا دو جگہ یہ ضرور لکھا ہوتا تھا کہ یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے لیکن اس کے باوجود گاہک سیاسی گفتگو کیا کرتے تھے۔

ایرانی ہوٹلوں میں فیملی روم بھی ہوتا تھا، جب کہ ملباری ہوٹلوں میں یہ سہولت موجود نہیں تھی۔ ان دونوں اقسام کے ہوٹلوں نے اہالیان کراچی کو نہ صرف نئے ذائقہ کا چسکا لگایا بلکہ نئے کھانے بھی متعارف کرائے ،جن میں انڈا گھٹالا، چلو کباب سیستانی، ماہی کباب، مسکہ بن، سبزی کا سموسہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

ملباریوں اور ایرانیوں کے ہوٹلوں کی کہانی قیام پاکستان سے قبل شروع ہوتی ہے۔ان کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کراچی میں ملباریوں کی آمد مرحلہ وار ہوئی تھی۔ یہ لوگ بھارت کی ریاست کیرالہ سے آئے تھے۔ کراچی میں ان کی آمد کا آغاز قیام پاکستان سے 26 سال قبل 1921 میں ہواتھا۔ ان لوگوں کی کراچی آمد کی بھی کئی وجوہات تھیں، جن میں سرفہرست یہ ہے کہ 1921 میں جب بھارتی ریاست کیرالہ کے ضلع مالاپوم سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے برطانوی راج اور اونچی ذات کے ہندووں کے خلاف مسلح بغاوت کی، جسے انگریزوں کی فوج نے اعلیٰ ذات کے ہندووں کے ساتھ مل کر کچل دیا تھا، جس کے نتیجے میں بہت سے ملباری مسلمان اپنے آبائی علاقے چھوڑ کرکراچی اور بھارت کے شہر ممبئی کے مسلمان علاقوں میں نقل مکانی کر گئے۔ کراچی آنے والے ملباری اپنے آبائی علاقے میں چائے کی کاشت کیا کرتے تھے، انہیں چائے کی پتی کے بارے میں وسیع معلومات تھیں۔ ملباریوں نے ان ہی معلومات اور تجربے کے سہارے چند کیتلیوں اورسماوار (تانبے کا مخصوص برتن ) میں چائے تیارکرکے فٹ پاتھوں اور گھنے درختوں کے سائے میں چائے کے اسٹال لگانا شروع کر دیے۔ انہوں نے محنت سے کام کیا اور بتدریج کراچی میں ان کے ہوٹل قائم ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شہر بھر میں ملباریوں نے اپنے ہوٹل بنا لئے۔ کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں جونا مسجد کے قریب ایک قدیم اور مشہور ملباری ہوٹل ، جہاں دال فرائی اور پراٹھے کا منفرد ناشتہ دستیاب ہوتا تھا۔ یہ منفرد ناشتہ نماز فجرکے ساتھ شروع ہوتا اور گیارہ بجے تک جاری رہتا تھا۔ اس دوران سیکڑوں لوگ ہوٹل میں بیٹھ کر ناشتہ کرتے اور پارسل کرا کے ساتھ بھی لے جاتے تھے۔

شہید ذوالفقارعلی بھٹوکا دور حکومت پاکستان میں سماجی ارتقاء کا ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی کامیاب خارجہ پالیسی اور حکمت عملی کے باعث مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پاکستانی ہنرمندوں، محنت کشوں اور تعلیم یافتہ افراد کے لئے ملازمت کے مواقع میسر آنے لگے اور جوق در جوق پاکستانی ملازمت کے حصول کے لئے مشرق وسطیٰ کے ممالک جانے لگے۔ اس موقع سے پاکستان میں ہوٹل اور پان سگریٹ کی فروخت کا کاروبارکرنے والے ملباریوں نے بھی فائدہ اٹھایا۔ اور وہ پاکستان سے اپنا یہ کاروبار سمیٹنے لگے، یوں کراچی میں ملباریوں کے ہوٹل اور پان شاپ کی دکانیں بند ہونے لگیں، اور اب یہ صورت حال ہے کہ ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر کراچی میں ملباریوں کے گنتی کے ہوٹل اور پان شاپ ہیں۔

ملباری ہوٹلوں کی طرح کراچی میں ایرانی ہوٹل بھی اپنا ایک خاص تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔یہاں ایرانی ہوٹلوں کی ابتدا گزشتہ صدی کے اوائل میں ہوئی تھی۔ مذہبی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر لاکھوں پارسی اور بہائی مذہب سے تعلق رکھنے والے ایرانی پاکستان اور ہندوستان کے بڑے شہروں بالخصوص بندرگاہی شہروں میں نقل مکانی کرگئے تھے۔ کراچی آنے والے پارسیوں اور بہائیوں نے بیکری، چائے کی دکانیں اور ہوٹل کے کاروبار کا آغاز کیا۔ ملباریوں کے برعکس ایرانیوں نے اپنے کاروبارکو کراچی کے اولڈ سٹی ایریا تک محدود رکھا۔ ان کی چائے کی پتی فروخت کرنے کی زیادہ تر دکانیں اور ہوٹل صدر سے لے کر کھارا در تک کے علاقوں میں قائم تھے۔۔ پی ای سی ایچ سوسائٹی کے وسیع وعریض علاقے میں ایرانیوں نے موجودہ طارق روڈ پرکیفے لبرٹی کے نام سے ایک ہوٹل قائم کیا تھا جو اب معدوم ہو چکا ہے۔ اب اس کی جگہ لبرٹی سینٹر قائم ہے۔ ان ہوٹلوں میں سے بیشتر قصہ پارینہ بن چکے ہیں لیکن ان سے وابستہ یادیں آج بھی زندہ ہیں۔

صدر میں کسی زمانے میں چار ایرانی ریسٹورنٹ ہوا کرتے تھے ،جن میں فریڈرک کیفے ٹیریا، جہاں لوگ یاردوستوں کے ساتھ بیٹھ کر منصوبہ بندی کیا کرتے تھے لیکن یہ باتیں نشستند، گفتند اور برخواستندکے سوا کچھ نہیں ہوا کرتی تھیں۔ یہاں پبلک بوتھ بھی لگا ہوا تھا، جہاں دس دس پیسے کے دو سکے ڈال کر لوکل کال کی جا سکتی تھی۔ سابق وکٹوریہ روڈ موجودہ عبداللہ ہارون روڈ اور فریئر روڈ موجودہ شاہراہ لیاقت کے انٹرسیکشن پرکیفے جارج مشہور ایرانی ہوٹل تھا۔ اس ہوٹل کے مٹن پیٹس منفرد ذائقہ والی چٹنی کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ جس جگہ کیفے جارج قائم تھا، وہاں اب الیکٹرونکس کی مصنوعات فروخت ہو رہی ہیں۔ اس سڑک کے دوسری طرف انڈیا کیفے ہاوس ہوا کرتا تھا۔ تقسیم ہند کے کئی سال بعد تک یہ کیفے اسی نام سے قائم رہا اور بعد ازاں اسے زیلنس کافی ہاوس کا نام دے دیا گیا۔ زیلنس کوکچھ عرصہ بعد ایک ایرانی تاجرنے خرید لیا اوراُسے ایسٹرن کافی ہاوس کا نام دے دیا ۔ ایسٹرن کافی ہاوس جلد ہی شاعروں، ادیبوں، طالب علم رہنماوں اور ترقی پسند ٹریڈ یونین رہنماوں کے بیٹھنے کا مرکز بن گیا۔ یہاں ممتاز طالب علم رہنما علی مختار رضوی مرحوم اور بلگرامی صاحب شام کے وقت مستقل بیٹھا کرتے تھے۔ یہاں معراج محمد خان، امیر حیدر کاظمی، مسرور حیدر اور این ایس ایف کے رہنماء انقلاب کی باتیں کیا کرتے تھے۔ فریڈرک کیفے ٹیریا اور اور ایسٹرن کافی

ہاوس میں چھوٹے چھوٹے فیملی روم بھی بنے ہوئے تھے۔ اس سے آگے الفسٹن اسٹریٹ جو اب زیب النساء اسٹریٹ کہلاتی ہے، میں بھی ایک ایرانی ہوٹل کیفے پرشیئن کے نام سے مشہور تھا۔ اس کے ساتھ پرشیئن بیکری بھی ہوا کرتی تھی۔ اس سے آگے پلیبیان بومن ابادان ایرانی ریسٹورنٹ بھی تھا۔ کیفے پرشیئن کے بالمقابل سڑک کی دوسری طرف کیفے گلزار تھا۔ اس کے گاہک مستقل تھے جو علاقے کے کسی اور ہوٹل میں نہیں جاتے تھے۔

کیفے گلزارکے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ برصغیرکے مایہ ناز گلوکار سی ایچ آتما، جن کا تعلق کراچی سے تھا، اس ہوٹل کے مستقل گاہک تھے۔ فلمی صنعت سے وابستہ ہونے پر وہ کراچی سے بمبئی چلے گئے تھے۔ 60 کی دہائی میں جب وہ کراچی آئے تو وہ جن دومقا مات پر خصوصی طور پرگئے ان میں کلفٹن پر غازی عبداللہ شاہ کا مزار اور صدر میں کیفے گلزار شامل ہیں۔

آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ایک قدیم ایرانی ہوٹل ہے۔ یہ قیام پاکستان سے 15سال قبل 1932 میں قائم ہوا تھا۔ یہ ہوٹل جس جگہ واقع ہے وہاں اردو اور انگریزی کے بڑے اخبارات اور نجی چینلز کے دفاتر موجود ہیں۔ اس کے ساتھ یہاں ملٹی نیشنل کمپنیز، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے دفاتر بھی ہیں۔ اس پس منظر میں اس ہوٹل کے گاہک عام طور پر متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں صحافی، بینکوں، مالیاتی اداروں، اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ملازمین اور افسران شامل ہیں۔ اسی طرح سابقہ وکٹوریہ روڈ پر مقامی ہوٹل کے بالمقابل ایرانی ہوٹل کیفے وکٹوریہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس ہوٹل کے کھانے بالخصوص ماہی کباب اپنے منفرد ذائقے کی وجہ سے مشہور تھے۔

صدرکے علاقے میں لکی اسٹارکے قریب کیفے سبحانی جو عام طور پر چلوکباب سیستانی کے نام سے زیادہ مشہور تھا، کسی وقت مشہور ایرانی ہوٹل ہوا کرتا تھا۔ ایم اے جناح روڈ اور عبداللہ ہارون روڈ کے انٹر سیکشن پر بھی پہلوی ریسٹورنٹ کے نام سے ایرانی ہوٹل تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور ایرانی ہوٹل کیفے درخشاں کے نام سے ہوتا تھا لیکن یہ تمام ہوٹل قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ اتنے بڑے شہر میں گنتی کے ایرانی ہوٹل رہ گئے ہیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں