آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ16؍رمضان المبارک 1440ھ22؍ مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ’صاحبہ‘ کہہ دیا۔

قبائلی علاقے ’وانا‘ میں جلسہ عام سے خطاب میں کیا وزیراعظم کی زبان ایک بار پھر پھسل گئی؟ یا انہوں نے جان بوجھ کر بلاول بھٹو کو صاحب کے بجائے صاحبہ کہہ کر مخاطب کیا؟


انہوں نے کہا کہ میں ’بلاول صاحبہ‘ کی طرح پرچی (وصیت) پر نہیں آیا، میرے اقتدار میں آنے کا مقصد کرپٹ لوگوں کو شکست اور ملک کو ترقی دینا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جب تک زندہ ہوں نہ کسی کو این آر او دوں گا اور نہ ہی معاف کروں گا،لوٹا ہوا پیسہ ہر صورت واپس لائوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت بچانے کے نام پر سارے کرپٹ جمع ہوگئے ہیں ان کا مقصد ہے کہ عمران خان پر دباؤ ڈال کر این آر او لے لیں اور اپنا چوری کا پیسہ بچا لیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوم مطمئن رہے تمام کرپٹ لوگوں کا وہ اکیلے ہی مقابلہ کریں گے،پیسا آرہا ہے، بس تھوڑا سا صبر کرنا ہوگا، تبدیلی نظر آنا شروع ہوجائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں لوگ ہیں جو نوجوانوں کو انتشار کی طرف لے کر جارہے ہیں، اُن کی سوچ ہے کہ قبائلی علاقے کے لوگوں کے دکھ اور درد کو کیش کرکے فائدہ اٹھایا جائے اور انتشار پھیلایا جائے۔

عمران خان نے یہ بھی کہا کہ ان کے کئی لیڈر ایسے ہیں، جن لیے باہر سے پیسا آرہا ہے، جو جماعتیں اپنی کرپشن بچانا چاہتی ہیں وہ بھی ان کی مدد کر رہے ہیں، قبائلی علاقوں میں امن چاہتے ہیں انتشار نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر سال قبائلی علاقوں پر اتنا پیسا خرچ کیا جائے گا جو 70سال میں نہیں ہوا،کمزور علاقوں کو اوپر اٹھانے تک ملک ترقی نہیں کرسکتا، اندرون سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے علاقے جو پیچھے رہ گئے ان کو آگے لائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں