آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسدعمر نے بلاول کی تقریر کا سہارا لیا مگر نشانہ کہیں اور لگایا،تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ اسد عمر نے بلاول کی تقریر کا سہارا لیا مگر نشانہ کہیں اور لگایا، بلاول نے مہنگائی کے علاوہ دیگر معاشی معاملات پر کوئی بات نہیں کی تھی مگر اسد عمر نے پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور کے معاشی معاملات کا ایک ایک کر کے جواب دیا،ماہر معاشیات محمد سہیل نے کہا کہ نئی معاشی ٹیم آنے کے بعد مارکیٹ میں کچھ حد تک غیریقینی کی فضا کم ہوئی ہے، آئی ایم ایف پروگرام میں جانے سے متعلق خدشات تو ختم ہوگئے مگر یہ پروگرام کتنا سخت ہوگا اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے، مارکیٹ میں خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے کہنے پر نیا بجٹ بہت سخت بنایا جائے گا۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ پی ٹی آئی، ن لیگ اور پیپلز پارٹی تینوں جماعتوں میں اندرونی اختلافات بہت بڑھ گئے ہیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی مرکز میں حکومت نہیں کررہیں اس لئے ان کے اختلافات سامنے نہیں آرہے، ن لیگ اور پیپلز

پارٹی کے بہت سے رہنما بھی اسی قسم کے حالات کا شکار ہیں لیکن وہ بولتے نہیں ہیں، پی ٹی آئی میں چوہدری سرور اور شاہ محمود قریشی وغیرہ بول پڑتے ہیں، تینوں بڑی پارٹیوں میں اختلاف رائے کی آزادی ضرور ہے لیکن جمہوریت نہیں ہے، تینوں میں سے کسی بھی پارٹی کے اندر الیکشن نہیں ہوتا،پی ٹی آئی میں لڑائی پارٹی کے اندر آخری الیکشن سے شروع ہوئی تھی لیکن الیکشن نہیں ہوسکتا تھا، عمران خان نے اس وقت نامزدگیاں کردی تھیں جس میں جہانگیر ترین اور ان کے گروپ کو اہم عہدے مل گئے تھے اس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پارٹی کی اندرونی لڑائیوں سے بچنے کیلئے عثمان بزدار کو لائے تھے لیکن ان سے پنجاب میں حکومت نہیں چل رہی ہے، عمران خان پنجاب میں پارٹی اور حکومت کے اندر اختلافات نہیں سنبھال سکے تو ان کے ہاتھ سے بہت کچھ نکل جائے گا، پارٹی معاملات باہر نہ لے جانے کی ہدایات کی خلاف ورزی صرف چوہدری سرور نے نہیں کی، اسد عمر کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم جہانگیر ترین کا سوشل میڈیا سیل ہینڈل کرنے والوں نے چلائی تھی، عمران خان جب تک اپنی پارٹی میں حقیقی الیکشن نہیں کرواتے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے، الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کے اندر الیکشن کے جعلی سرٹیفکیٹس جاری کرنا بند کرنا ہوگا۔ میز با ن شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسد عمر وزارت خزانہ سے ہٹائے جانے کے بعد بدھ کو پہلی بار قومی اسمبلی میں آئے، اسد عمر نے اپنے ہٹائے جانے پر تو بات کی ساتھ ہی بلاواسطہ وزیراعظم عمران خان کی نئی معاشی ٹیم پر بھی تنقید کی،اسد عمر نے اپنے ہٹائے جانے کا گلہ تو نہیں کیا مگر بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کو بنیاد بنا کر وزیراعظم کی نئی معاشی ٹیم کے فیصلے پر تنقید کرتے نظر آئے ، اسد عمر نے ان سوالوں کے جواب بھی دیئے جو بلاول بھٹو زرداری نے اپنی گزشتہ تقریر میں اٹھائے ہی نہیں تھے،اسد عمر نے بلاول کی تقریر کا سہارا لیا مگر نشانہ کہیں اور لگایا، بلاول نے مہنگائی کے علاوہ دیگر معاشی معاملات پر کوئی بات نہیں کی تھی مگر اسد عمر نے پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور کے معاشی معاملات کا ایک ایک کر کے جواب دیا، بلاول نے اپنی گزشتہ تقریر میں بجٹ خسارہ ،ٹیکس ٹارگٹ اور قرضوں کا ذکر نہیں کیا تھا لیکن اسد عمر نے اس کا بھی ذکر کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو بتایا کہ آپ کے دور میں کیا معاملات تھے۔شاہزیب خانزادہ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں ساڑھے چار سال ڈاکٹر حفیظ شیخ اور شوکت ترین وزیرخزانہ رہے، اب یہ دونوں عمران خان کی معاشی ٹیم کا حصہ ہیں تو کیا اسد عمر نے پیپلز پارٹی دور پر تنقید کر کے دراصل تنقید وزیراعظم عمران خان کے انتخاب پر کی ہے، اسد عمر نے بلاول کے ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے نیا اعتراض اٹھادیا، اسد عمر نے کہا کہ انہوں نے بلاول کو کبھی غدار نہیں قرار دیا ،لیکن یہ بات مکمل طورپر درست نہیں ہے کیونکہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ بلاول انگریزی بول کر غیرملکی آقاؤں کو خوش کررہے ہیں تو غیرملکی آقاؤں کو ملک کیخلاف بات کر کے کون خوش کرے گا، اسد عمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے صرف اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ یہ الزام استعمال ہوگا اور ایسا ہی ہوا اور بھارتی میڈیا نے بلاول کے بیان کو اٹھایا، بھارتی میڈیا پر تو اب وزیراعظم عمران خان کے ایران میں دیئے گئے بیان کا بھی ذکر ہورہا ہے ۔ شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ بھارتی میڈیا جو بھی کہے سچ تو سچ ہی رہے گا، عمران خان بولیں یا بلاول بھٹو زرداری بولیں اچھا ہے، سچ بولنے سے کسی کی حب الوطنی پر سوال نہیں اٹھتا۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ تحریک انصاف میں ایک بار پھر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں، اس دفعہ یہ اختلافات گورنر پنجاب چوہدری سرور سامنے لے کر آئے ہیں، پنجاب میں مسئلہ عثمان بزدار کا چل رہا تھا اچانک چوہدری سرور مسئلہ لے کر آگئے ہیں ،خیال کیا جاتا تھا کہ چوہدری سرور جہانگیر ترین کے کیمپ میں ہیں مگر اب کہہ رہے ہیں کہ میری چلتی تو پنجاب میں دو تہائی اکثریت لیتے، چوہدری سرور نےایک ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے جہانگیر ترین کیلئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ کہنا کہ تمام کنٹرول جہانگیر ترین نے لے لیا ہے تو ہم یہاں آلو چھولے بیچنے نہیں آئے۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے دور میں جو مشہور فیصلے کیے انہیں اب سپریم کورٹ خود منسوخ کررہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید