آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان میں معذور افراد کی ملازمتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت عظمیٰ نے خلاف ضابطہ بھرتیوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیدیا۔

عدالت نےایف آئی اے اور اینٹی کرپشن افسران کو طلب کر لیا اور معذور افراد کی خلاف قانون بھرتیوں کی نشاندہی کی ہدایت کی۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ من پسند افراد کو نوازنے کے لیے معذوروں کے کوٹے پر بھرتی کیا جاتا ہے، اس طرح اونچا سننے والے کو بھی معذور قرار دیا گیا۔

درخواست گزار نے مزید کہا کہ ایک شخص کی نظر منفی 2 تھی، اسے بھی معذور کوٹے پر بھرتی کیا گیا، حق دار شکایت کریں تو در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں بھی معذور کوٹے پر بھرتیاں ہوئیں، ایک شخص کو ٹانگ کمزور ہونے پر معذور کہہ کر بھرتی کیا گیا تو ایک شخص کی نظرمنفی 2 تھی، اسے بھی معذورکوٹہ پربھرتی کیا گیا۔

درخواست گزار نے مزید کہا کہ اس طرح کے پی کے میں کئی افراد کو معذور کوٹے پر بھرتی کیا گیا ہے، حق دار شکایت کریں تو در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لگتا ہے کہ سارا کام ہی جعلی ہے، معذور کوٹے پر میرٹ کے خلاف بھرتیاں سنگین جرم ہیں، تاثر مل رہا ہے کہ بھرتیاں شفاف نہیں ہوئیں، کیوں نہ کیس نیب کو بھجوا دیا جائے؟

سرکاری وکلاء نے بھرتیوں کے خلاف فوجداری کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی جائے تو داد رسی کریں گے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ کسی کی بھرتی چیلنج کریں تو دھمکیاں ملتی ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے مزید کہا کہ چاول کے ایک دانے سے دیگ کا علم ہو جاتا ہے، سرکاری افسران کو قانون کا کوئی خوف نہیں، حکومت سمجھتی ہے کہ معذوروں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت 20 جون تک ملتوی کر دی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں