آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے تمام بڑے ایوانوں، کاروباری ملاقاتوں، شاہی کھانوں، افسرانہ میٹنگوں اور بڑی سرکاری تقریبات میں بناوٹی کرداروں کی اکثریت ملتی ہے۔ اُن لوگوں کو جھوٹ بولتے ہوئے شرمساری نہیں ہوتی، اُن کا تکبر ان کی چال بتاتی ہے، اُن کے لہجے میں غرور بولتا ہے، اُن کے نزدیک اعلیٰ عہدہ اور زیادہ دولت کامیابی کی علامت ہیں۔ اُن میں سے اکثریت کو یہ احساس نہیں کہ موت بھی کوئی چیز ہے۔ اُن محفلوں میں اکثریت کا تعلق پاکستان کی اصلیت سے ہوتا ہی نہیں، آدھے سے زیادہ انگریزوں کے غلام( کالے انگریز)، کچھ نو دولتئے، باقی حاشیہ بردار یا پھر غلاموں کے غلام۔

جب سے اسلام آباد منتقل ہوا ہوں یہی دیکھ رہا ہوں، بیس بائیس برس سے تو اقتدار کے ایوانوں کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ سیاستدانوں کی اکثریت جھوٹ بولتی ہے، ججوں کے فیصلے بولتے ہیں، افسران کی خوشامدانہ چالیں بولتی ہیں، بہت سے ایسے لوگ بھی دیکھنے کو ملے جو ہر حکومت میں فٹ ہو جاتے ہیں۔ اسلام آباد سازشوں کا شہر ہے، یہاں منافقت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ بڑے بڑے دفتروں میں، بڑے بڑے ایوانوں میں چھوٹے چھوٹے لوگ ہیں، اِنہی چھوٹے لوگوں نے پاکستان کو بھکاری بنا دیا ہے، پاکستان انہی فریبی لوگوں کی وجہ سے مقروض ہے۔

میں نے اسلام آباد کے شب وروز کی اکثر محفلوں میں لوگوں کو چھوٹااور گھٹیا پایا۔ اکثریت لبرل ازم کے خول میں نظر آئے گی۔ ٹیڑھے منہ کر کے غلام انگریزی بولتے ہیں، اِسی بہاؤ میں اُنہیں وطن اور مذہب سے محبت بھول جاتی ہے۔ وہ وطن کے خلاف باتیں کرنا فیشن سمجھتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں تھوڑا سیاست کا تڑکا لگا ہوتا ہے یا پھر وہ کچھ غیر ملکی آقاؤں کے ورغلائے ہوتے ہیں، اپنی ہی فوج کے خلاف گفتگو شروع کر دیتے ہیں، دیسی لبرلز کے ہاں اِس کا بھی فیشن ہے یا پھر اخلاقیات کو روند دینے والی آزادیوں کا بھاشن دیا جاتا ہے۔ دن بھر شکاری، شکار ڈھونڈتے ہیں، دولت کی آنکھوں سے دیکھنا اور پھر دولت کے خیال سے سوچنا اکثریت کا شیوہ ہے۔ خداترسی ختم، بے راہ روی عام، چہروں پر جعلی مسکراہٹ، زندگی نے کیا لباس پہن لیا ہے؟

یہ نہیں کہ اسلام آباد حکمرانوں کا شہر ہے تو اُس کا چلن باقی ملک سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ یہاں بھی ملاوٹ شدہ چیزیں ملتی ہیں، یہاں بھی جعلی ادویات کا دھندہ عام ہے، یہاں بھی ایکسپائری ڈیٹ گزر جانے کے بعد لیبل تبدیل کرنے کا رواج ہے، یہاں بھی لوگ تقریروں میں جھوٹ بولتے ہیں، یہاں بھی لوگ علاقائی، مذہبی اور لسانی تعصب کی آنکھ سے دوسرے لوگوں کو دیکھتے ہیں، چغل خوری یہاں بھی عام ہے۔

1980سے پہلے اور طرح کا پاکستان تھا، بس ضیاءالحق کے عہد نے اِسے اور طرح کا بنا دیا۔ بھلا نفرتیں بو کر محبتوں کی فصل کاٹی جا سکتی ہے؟ رشوت اور بدعنوانی کے بیج بکھیر کر دیانتداری کیسے ڈھونڈی جا سکتی ہے۔ اِسی لئے یہ سارا نظام خطرے میں ہے۔ حالات نے حکومتیں بدل کر دیکھ لیا مگر حالات نہیں سدھرے۔ شاید اِس لئے کہ حالات اِنہی لوگوں کے ہاتھوں میں رہے، دولت کے پجاری ہر حکومت کا حصہ بنتے رہے۔ دولت کی اِس بے رحمانہ تقسیم نے معاشرے میں طبقاتی تقسیم کو بہت بڑھا دیا ہے، یہ بھی شرم کا مقام ہے مگر شرم تو اُنہیں آئے جنہیں مقام فکر یاد ہو، جنہیں یہ یاد ہو کہ اُنہیں کسی نہ کسی دن خدا کو جواب دہ ہونا ہے۔

صاحبو! کبھی آؤ، اِس سازشوں بھرے شہر میں آؤ، صرف پارلیمنٹ ہاؤس دیکھ لو، آپ کو ہر طرح کا مافیا نظر آئے گا۔ آپ کو شکم پرست مذہبی عناصر بھی نظر آئیں گے، یہاں معصوم چہروں والے قاتل بھی مل جائیں گے، معاشی دہشت گردی کے بڑے بڑے کردار بڑے بھیانک چہروں کے ساتھ ملیں گے، وطن اور مذہب کا مذاق اڑانے والے بھی اِنہی ایوانوں میں ملیں گے، وہ جو قاتلوں، ڈاکوؤں، چوروں، لٹیروں اور ملاوٹ کرنے والوں کی پشت پناہی کرتے ہیں وہ آپ کو پارلیمنٹ کی راہداریوں میں ملیں گے، وہ جنہوں نے تعلیم کو تجارت بنا دیا، جنہوں نے اسپتالوں کو مقتل بنا دیا، وہ سارے کردار اسمبلیوں کے اندر ہی تو ہیں۔ اِن محفوظ پناہ گاہوں میں وہ بھی ملیں گے جو قبرستانوں پر قابض ہیں، جنہوں نے کھیل کے میدانوں پر محلات تعمیر کر لئے، پارلیمنٹ ہاؤس میں آپ کو وہ کردار بھی ملیں گے جنہوں نے 90کی دہائی کے آخر میں پاک فوج کے خلاف اشتہار بازی کی تھی، وہ بھی نظر آئیں گے جو دشمن کی بولیاں بولتے ہیں، آپ اُنہیں بھی دیکھ پائیں گے جنہوں نے حسین حقانی جیسوں کو سفارت عطا کی، آپ کو اُن محفوظ پناہ گاہوں میں وہ لوگ بھی بڑی باتیں کرتے نظر آئیں گے جو نجی محفلوں میں قائداعظمؒ کی بھی توہین کرتے ہیں۔ وہ سادہ دکھائی دینے والے بھی نظر آئیں گے جن کے دشمنوں سے مراسم ہیں، جن کے گھروں میں دشمنوں کا آنا جانا ہے، جو ذرا ذرا سی بات پر اپنے ہی ملک کو بدنام کرتے ہیں، اقتدار کے پجاری یہ ہوس پرست دولت کی محبت میں کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔ دس سالوں میں 60ارب ڈالر کو ٹھکانے لگانے والے، جمہوریت کے گیت گانے والے، جعلی اکاؤنٹس کے بڑے مالکان اسمبلیوں کی زینت ہیں۔ ملک لوٹنے والے، آمروں کے اقتدار میں پرورش پانے والے، اپنی تقریروں سے مکرنے والے، سارے کردار پریشان ہیں، اُن کی محفوظ پناہ گاہیں خطرے میں ہیں، انقلاب کی ایک دستک ہے اور یہ دستک صدارتی نظام بھی ہو سکتا ہے۔ اب اسمبلیوں میں بداخلاقی اور بدتہذیبی کے سوا کچھ نہیں، یہ نظام اپنے عروج کو چھو کر گر رہا ہے، اِس نظام کی جھولی میں چھید ہو چکے ہیں۔

میں جب بھی اِس نظام کے کرداروں کی اکثریت پر نگاہ ڈالتا ہوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک فرمان بے اختیار یاد آ جاتا ہے کہ ’’دنیا میں جہاں کہیں بھی دولت کے انبار دیکھو تو سمجھ جاؤ کہ کہیں نہ کہیں گڑبڑ ضرور ہوئی ہے‘‘۔ محفوظ پناہ گاہیں چند دنوں میں خطرے میں نہیں آئیں، چالیس پچاس برس کا قصہ ہے، حالات کا تسلسل وہ گھڑی لے آیا ہے جہاں سب کچھ تہس نہس ہونے والا ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کے اشعار یاد آرہے ہیں کہ

یہ جو ننگ تھے یہ جو نام تھے مجھے کھا گئے

یہ خیال پختہ جو خام تھے مجھے کھا گئے

کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی

وہی زاویے کہ جو عام تھے مجھے کھا گئے

میں عمیق تھا کہ پلا ہوا تھا سکوت میں

یہ جو لوگ محو کلام تھے مجھے کھا گئے

وہ نگیں جو خاتمِ زندگی سے پھسل گیا

تو وہی جو میرے غلام تھے مجھے کھا گئے

جو کھلی کھلی تھیں عداوتیں مجھے راس تھیں

یہ جو زہر خند سلام تھے مجھے کھا گئے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں