آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


پاکستان میں ڈھائی سے تین کروڑ افرادزیابطیس کے مرض میں مبتلا ہیں،جن میں سے اکثریت اس رمضان کے مہینے میں روزہ رکھے گی،ایسے مریضوں کو چاہیے کہ وہ ماہ مقدس شروع ہونے سے پہلے پہلے اپنے ڈاکٹروں سے مل کر دواؤں اور انسولین کی ڈوز کے اوقات کار مختص کروا لیں۔

غذائی معلومات اور ورزش کرنے کے اوقات ترتیب دے لیں تاکہ وہ اس مقدس مہینے میں بغیر کسی پیچیدگی کے روزے رکھ سکیں،رمضان اور حج اسٹڈی گروپ نے گزشتہ دس سال کی تحقیق کے بعد زیابطیس میں مبتلا روزے داروں کے لیے سفارشات مرتب کی ہیں اگر ان سفارشات پر عمل کیا جائے تو 90 فیصد سے زیادہ مریض بغیر کسی مشکل کے پورے رمضان روزے رکھ سکتے ہیں۔

رمضان کے مہینے میں روزے رکھ کر وزن کم کرنے کی کوشش کرنا چاہیے، نہ کےناقص اشیاء کھا کر اپنی صحت کو برباد کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ کے زیر اہتمام بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبٹالوجی اینڈ انڈوکرائنالوجی سے وابستہ ماہرین ذیابطیس،ماہرین خوراک اور مفتیان نے کیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رمضان اینڈ حج اسٹڈی گروپ کے سربراہ پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا کہ زیابطیس کے مریضوں کو رمضان شروع ہونے سے کم از کم دو ماہ پہلے اپنے معالج سے رجوع کرنا چاہیے اور اپنی دواؤں،خوراک، معمولات زندگی کو ایڈ جسٹ کرانا چاہیے لیکن ابھی بھی رمضان شروع ہونے میں 8سے 10دن باقی ہیں،زیابطیس کے ایسے مریضوں کو جو روزے رکھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے اپنے معالج سے مشورہ کرنا بہت ضروری ہے۔

رمضان میں دواؤں کے اوقات کار بدل دیے جاتے ہیں، صبح لی جانے والی رمضان میں افطار کے بعد لی جاتی ہے اور رات کو لی جانے والی دوا سحری میں لی جاتی ہے،دواؤں کی مقدار میں کمی کر لی جاتی ہے تاکہ مریض بغیر کسی پیچیدگی کے روزہ رکھ سکے۔

روزے کی حالت میں شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا،مریضوں کو دن میں تین سے پانچ مرتبہ اپنی شوگر چیک کرنے چاہیے،بدقسمتی سے زیابطیس کے 66فیصد مریض مہینے میں صرف تین مرتبہ شوگر چیک کرتے ہیں اگر شوگر کی مقدار خون میں 70ملی گرام سے کم ہوجائے تو علماء کا حکم ہے کہ روزہ توڑ دیا جائے.

ان کا کہنا تھا کہ رمضان اسٹڈی اینڈ حج اسٹڈی گروپ پاکستان مریضوں اور ڈاکٹروں کو تعلیم، تربیت اور رہنمائی فراہم کر رہا ہے، ذیابطیس اور رمضان سے متعلق رہنما اصول تیار کر رہا ہے،رمضان اور حج کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تحقیق کر رہا ہے اور مریضوں کو محفوظ طریقے سے روے رکھنے کے لیے ضروری معلومات فراہم کر رہا ہے۔

بقائی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ماہر غذائیت مریم عبد علی کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ رمضان میں وزن کم کرنے کے بجائے اپنا وزن بڑھا بیٹھتے ہیں،جس کی بنیادی وجہ سے سحر و افطار میں کھانے میں بے اعتدالی، تلی ہوئی مسالحے دار مرغن غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، بازاری مشروبات پی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زیابطیس کے مریضوں کو بازاری مشروبات کے بجائے لیموں، کھیرے اور سبزیوں کے پانی کا استعمال کرنا چاہیے، میٹھی، تلی ہوئی اور مصالحے دار غذاؤں کا استعمال ترک کردینا چاہیے،سحر و افطار میں پھلوں،سبزیوں، بغیر چھنے آٹے کی روٹی،دالوں،دہی اور گوشت پر مبنی غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے۔

سحر و افطار میں پانی پینا چاہیے، جامعہ بنوریہ سے وابستہ مفتی سعدنے روزے کے شرعی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شدید بیمار افراد،مسافر اور حا ملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو روزہ رکھنے سے متعلق رعایت ہے،قرآن کریم ایسے افراد کو دوسرے ایام میں روزہ رکھنے یا فدیہ دینے کی تلقین کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کان اور آنکھ میں دوا ڈالنے،انجکشن، ڈرپ یا انسولین لگانے اور شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا،سیمینار سے ڈاکٹر سیف الحق،ڈاکٹر عاصم اور دیگر نے خطاب کیا۔

صحت سے مزید