آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 12؍شوال المکرم 1440ھ16؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


پاکستانی نژاد امریکی شیف فاطمہ علی طویل عرصہ کینسر کے مرض میں مبتلا رہنے کے بعد رواں برس کے آغاز میں انتقال کر گئیں، اُن کے لیے جیمز بیئرڈ ایوارڈ فاونڈیشن 2019 کے ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شیف فاطمہ علی کو یہ ایوارڈ جیمز بیئرڈ فاؤنڈیشن جرنلزم ایوارڈ 2019 کے تحت ذاتی مضمون کی کیٹگری میں ’I’m a Chef with Terminal Cancer. This Is What I’m Doing with the Time I Have Left‘ (میں ایک شیف ہوں جسے کینسر ہے، میں اپنے پاس بچے ہوئے وقت میں یہ کررہی ہوں) کے عنوان سے لکھے گئے مضمون پر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ فاطمہ علی نے اکتوبر 2018 میں ایک میگزین کے لیے یہ مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کے پاس زندگی کا ایک برس باقی رہ گیا ہے اور وہ اس عرصے کو اپنی زندگی میں موجود افراد کے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں اور دنیا بھر میں بہترین کھانے کا نمونہ پیش کرنا چاہتی ہیں۔

فاطمہ علی کو ایوارڈ دیئے جانے کی تقریب کا انعقاد رواں برس 6 مئی کو کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ شیف فاطمہ علی 18 سال کی عمر میں پاکستان سے امریکا منتقل ہو گئیں تھیں، وہاں انہوں نےامریکا کے مشہور شو ’’ٹاپ شیف‘‘میں حصہ لیا اور اپنے شیف بننے کے خواب کو پورا کیا۔ 2 سال قبل جب اُن کی عمر 27 سال تھی تب ڈاکٹرز نے اُنہیں بتایا تھا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے کینسر میں مبتلا ہیں۔

جس کے بعد ایک طویل عرصہ اُن کا علاج جاری رہااور 2017 میں انہیں معلوم ہوا کہ وہ اپنی بیماری سے نجات حاصل کرچکی ہیں لیکن وہ زیادہ عرصہ کینسر سے دور نہیں رہ سکیں اور 2018 میں دوبارہ اُن کا کینسرلوٹ آیااور وہی اُن کی موت کا سبب بنا۔

فاطمہ علی رواں برس 25 جنوری کو طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیںتھیں، وہ امریکا سمیت پاکستان کی معروف شیف ہونے کے ساتھ ساتھ سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی صاحبزادی بھی تھیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں