آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خورشید احمد

یکم مئی محنت کشوں کی فتح کا عالمی دن ہے اس روز دنیا بھر کی اقوام یکم مئی 1886 شکاگو (امریکہ) میں محنت کشوں کی عظیم قربانیاں پیش کرنے اور اپنے حقوق اور آٹھ گھنٹے روزانہ اوقات کار کا مطالبہ منظور کرانے پر خراج عقیدت پیش کرتی ہیں۔ اس روز دنیا کے اکثر ملکوں میں عام تعطیل ہوتی ہے۔

محنت کش طبقہ منظم جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد کرکے محنت کی عزت بلند کرنے اور سماج سے جبری محنت، غربت، جہالت، بے روزگاری اور امیر و غریب کے مابین بے پناہ اونچ نیچ کا فرق دور کرانے اور مہنگائی میں روز افزوں اضافہ کو ختم کرانے کے لیے اپنی بھرپور آواز بلند کرتے ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سماج میں استحصالی نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے عوام اور محنت کشوں کی بنیادی ضروریات پوری کرے۔ محنت کشوں کو آئی ایل او کنونشن نمبر 144 کے تحت ملک کے پالیسی ساز اداروں میں اپنے موقف پیش کرنے کے لیے نمائندگی کا حق دے۔ رحمۃ للعالمین رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے محنت فرمائی اور محنت کشوں کو خدا کے حبیب کا درجہ قرار دیا۔ اسی لئے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے فرمایا تھا؎

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

اس وقت محنت کشوں کی ماہانہ اُجرت سال 2015 سے پندرہ ہزار روپے مقرر ہے۔ اس سال صوبہ سندھ میں اس میں مزید ڈیڑھ ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے جبکہ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان میں یہی اجرت مقرر ہے جبکہ اس پونے دو سال کے عرصہ میں ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں اور مہنگائی میں کئی گناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ خود اسمبلی کے ارکان نے بھی اپنی تنخواہوں میں کئی گناہ اضافہ کر لیا ہے۔ پندرہ ہزار روپے ماہوار سے ایک کارکن کے صرف کرایہ مکان، ٹرانسپورٹ اور بچوں کی فیس کے ضروری اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔ اس لیے محنت کشوں کا جائز مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں کی اجرت کم از کم مبلغ 30ہزار روپے مقرر کی جائے۔

محنت کش تمام عمر محنت سے خدمات سرانجام دیتے ہیں اس لیے انہیں بڑھاپے میں اپنے گزارا کے لیے معقول پنشن کی رقم درکار ہوتی ہے لیکن مہنگائی میں کئی گناہ اضافہ کے باوجود صنعتی و تجارتی کارکنوں کی پنشن صرف 6050روپے مقرر ہے۔ جس سے وہ دو وقت کی روٹی بھی پوری نہیں کر سکتے۔ کارکن عمر بھر اپنی جان اور صحت کو داؤ پر لگا کر فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں بڑھاپے میں معقول طبی سہولتوں کی فراہمی کا بنیادی حق بحال رکھنے کی بجائے اس سے محروم کردیا جاتا ہے۔ ملک کی مزدور تنظیمیں حکومت سے یہ مسلسل مطالبہ کررہی ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان اور ان کے خاندان کے ارکان کے لیے طبی سہولت کا بنیادی حق سوشل سکیورٹی ایمپلائز آرڈی نینس 1965کے تحت ختم کرنے کی بجائے بحال رکھا جائے۔ حکومت کا فرض ہے کہ ملک کے معماروں کو اس حق سے محروم کرنے کی بجائے اس قانون میں جلد ترمیم کرکے ان کی یہ بنیادی سہولت فوری بحال کرے۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ آرڈی نینس1971ءکے تحت کارکنوں کو رہائشی سہولت اور ان کے بچوں کو تعلیم مہیا کرانے کے لیے ایک کھرب 70 ارب روپے وزارت خزانہ میں جمع ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ محنت کشوں کے بہبود کی یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع رکھنے کی بجائے کارکنوں کے بچوں کو معیاری مفت تعلیم اور ان کو رہائش کی بنیادی سہولت مہیا کرنے کے لیے بروئے کار لائے۔

پاکستان میں ہر سال 18لاکھ سے زائد نوجوان روزگار کی تلاش میں لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں۔ ملک میں صنعتی اور زرعی فرسودہ نظام کی وجہ سے دن بدن نوجوان بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ملک میں ایک کروڑ روزگار کے مواقع مہیا کرے گی لیکن یہ وعدہ اسی صورت میں پورا ہو سکتا ہے کہ حکومت ملک میں فرسودہ جاگیرداری نظام کو زرعی اصلاحات کے نفاذ سے ختم کرے،سرکاری اور فالتو زمین بے زمین کاشت کاروں کو الاٹ کرے، قومی صنعت میں جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کا معیار بلند کرتے ہوئے نوجوانوں کو روزگار مہیا کرے، ملک میں معیاری صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کرکے درآمدات میں کمی کرے، اس وقت قومی برآمدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہونے سے قوم غیر ملکی اور ملکی بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے حکومت کو ہر روز چھ سو ارب روپے سے زائد بطور سود ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

ریاست کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کے تحت کارکنوں کے ضمانت شدہ حقوق اور آئی ایل او کنونشنوں میں ضمانت شدہ اصولوں کے مطابق لیبر کے لیے قانون سازی کرے اور ان پر موثر عملدرآمد کرائے۔ ہمارے ملک میں تاحال کانوں کا قانون1926 اور فیکٹریز ایکٹ1936 جیسے فرسودہ لیبر قوانین رائج ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مروجہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل کرائے جبکہ چھ کروڑ صنعتی، تجارتی اور زرعی محنت کشوں کی تعداد کے مقابلہ میں لیبر قوانین کے نفاذ کے لیے صرف چھ سو کے لگ بھگ لیبر آفیسر ہیں جس کی وجہ سے ملک میں لیبر قوانین کا نفاذ نہیں ہو رہا اس لیے کارکن بجا طور پر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ترقی پسندانہ لیبر قوانین آئین پاکستان اور آئی ایل او کنونشنوں کے مطابق نفاذ کرے۔ ان پر آزادانہ لیبر انسپکشن مشینری بمطابق آئی ایل او کنونشن 181 کے ذریعے عملدرآمد کرائے۔

یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ محنت کشوں کی صحت اور کارکردگی کے مفاد میں انہیں کام پر حادثات اور پیشہ ورانہ بیماریوں سے محفوظ کرنے کے لیے صحت مند حالات کار کی فراہمی یقینی بنائے۔ آئی ایل او پورٹ کے مطابق بلوچستان کی کوئلہ کی کانوں میں دنیا میں سب سے زیادہ المناک حادثات ہوتے ہیں اور اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ تحریر ہے کہ پاکستان میں کارکنوں کے سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں۔ پاکستان کے اکثر صنعتی شعبوں میں کارکن غیر صحت مند و غیر محفوظ حالات کار کا شکار ہیں اس لیے ملک کا محنت کش طبقہ بجا طور پر وفاقی و صوبائی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ آئی ایل او کنونشن نمبر 81،177کے اصولوں پر سختی سے عمل کر کے کارکنوں کے لئے صحت مند ماحول یقینی بنائے۔

یکم مئی عالمی دن کے موقع پر یاد رکھا جائے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے خود مزدور تحریک میں حصہ لیا اور وہ پوسٹل یونین کے صدر کی حیثیت سے محنت کشوں کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ برصغیر پاک و ہند میں بہت سے لیبر قوانین انہوں نے اسمبلی میں پیش کرکے منظور کرائے۔

آج محنت کش طبقہ شکاگو میں عظیم قربانیاں دینے والے محنت کشوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ پاکستان میں قومی اتحاد قائم کرتے ہوئے وطن عزیز میں دہشت گردی کو ناکام کرنے اور ملک میں مساوات اور سماجی انصاف پر مبنی نظام قائم کرنے کی جدوجہد کرتا رہے گا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں