آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رہنما انسانی حقوق انصار برنی نےحکومت سے مقبوضہ کشمیرمیں 15سال سے پھنسی پاکستانی اور آزاد کشمیر کی خواتین کی واپسی کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

رہنما انسانی حقوق انصاربرنی کا کہنا ہےکہ 28برسوں میں کم و بیش 300خواتین نے مقبوضہ کشمیرکےباشندوں سے شادی کی اورسابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیرعمرعبداللہ کی حکومت کے 2010 ری ہیبیلیشن پالیسی کےتحت مقبوضہ کشمیر گئیں۔

انصاربرنی نے کہا کہ اب اُن خواتین کو وہاں نا تو شہری حقوق دیئے جارہے ہیں اورناہی پاکستان واپسی کے لیے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات دئیے جارہے ہیں۔

انصار برنی نےسوشل میڈیا پر مظفرآباد کی خاتون کبریٰ گیلانی کا معاملہ بھی اٹھایاہے۔ کبریٰ گیلانی نےمقبوضہ کشمیر کےباشندے سے شادی کی، کبریٰ کونہ ہی مقبوضہ کشمیرمیں مستقل شہریت دی ناہی انہیں پاکستان آنے دیا جارہا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں