آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آسکرایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ سپراسٹار لیونارڈو ڈی کیپریو کا شمار امریکا کے ذہین ترین اداکاروں میں ہوتا ہے۔ وہ کم اور منتخب فلموں میں کام کرتے ہیں، لیکن جتنا بھی کام کرتے ہیں، دل سے کرتے ہیں اور پرستاروں کے دل بھی جیت لیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دنیا کے لیے ماحولیاتی تبدیلی یعنی عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا معاملہ ایک سنگین عالمی مسئلے کے طور پر سامنے آیا ہے، جس پر اگر اب بھی کام نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ 2030ء تک یہ دنیا انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔

لیونارڈو کا نیا کردار

44سالہ لیونارڈو ڈی کیپریو، ٹائی ٹینک (1997ء)، دی وولف آف وال اسٹریٹ (2013ء) اور دی ریونینٹ (2015ء)اور اس جیسی دیگر متعدد فلموں میں اپنی لازوال اداکاری کے یادگار نقوش چھوڑ چکے ہیں۔ 2015ءمیں ریلیز ہونے والی دی ریونینٹ پر وہ بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ بھی حاصل کرچکے ہیں۔ فلمی کرداروں کے بعد اب لیونارڈو نے حقیقی زندگی میں سرمایہ کار کمپنی ’پرنس وِلے کیپٹل‘ کے نئے ’کلائیمیٹ ٹیکنالوجی فنڈ‘ کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ وہ زمین کو مستقبل میں رہنے کے لیے بہتر جگہ بنا نے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

کلائیمیٹ ٹیکنالوجی فنڈ 150ملین ڈالر مالیت کا ہے۔ فنڈ کے تحت رقوم ایسی کیمپینز اور عوامی شعور اُجاگر کرنے کے پروگرامز پر خرچ کی جاتی ہیں، جن کے تحت زمین کو ماحولیاتی تباہی سے محفوظ رکھا جاسکے۔

امریکا کے انٹرگورنمنٹل پینل آن کلائیمیٹ چینج (آئی پی سی سی) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ماحولیات کے شعبے میں مستقبل میں آنے والی تباہی سے دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے نجی شعبے کو ہی آگے آنا ہوگا۔ مزید برآں، رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ مستقبل میں ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اور سہارا مزید بڑھ جائے گا، جس کے بعد اس شعبہ میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

کلائیمیٹ ٹیکنالوجی فنڈ میں لیونارڈو ڈی کیپریو کا کردار ایک مشیر (ایڈوائزر) کا ہوگا۔ اس بات کا اعلان کرتے ہوئے لیونارڈو کا کہنا ہے، ’’میں پِرنس وِلے کیپٹل کو کلائیمیٹ ٹیکنالوجی فنڈ کے لیے بطور مشیر اپنی خدمات پیش کرنے میں فخر محسوس کررہا ہوں‘‘۔ ان کا مزید کہنا ہے، ’’ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے، ہم جس طرح توانائی کا استعمال کرتے ہیں، اس میں فوری طور پر اور بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور میرا یقین ہے کہ ہماری زمین کے مستقبل کو بہتر اور صحت مند رکھنے میں ٹیکنالوجی اور نجی شعبہ بنیادی کردار ادا کریں گے‘‘۔

لیونارڈو ڈی کیپریو فاؤنڈیشن

ایسا نہیں ہے کہ لیونارڈو ڈی کیپریو کو اچانک سے ماحولیاتی تبدیلی کا خیال آیاہے۔ لیونارڈو کم از کم گزشتہ 21سال سے ماحولیاتی تبدیلی کے لیے کام کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے 1998ء میں لیونارڈو ڈی کیپریو فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی تھی۔ اس فاؤنڈیشن کے تحت ہالی ووڈ سپراسٹار اب تک 100ملین ڈالر کے فنڈز اکٹھے کرچکے ہیں۔ وہ اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے ماحولیات کے اہم نوعیت کے منصوبوں جیسے معدوم پڑتی نسلوں کے تحفظ اور عالمی درجہ حرارت میں کمی کے لیے رقوم عطیہ کرتے ہیں۔

لیونارڈو ڈی کیپریو ، پرنس وِلے کیپٹل ٹیم کے ساتھ اس اشتراک کے ذریعے اپنے ماحول دوست کام کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ ’’پرنس وِلے کیپٹل کی ٹیم اور میرے فنڈ کے مقاصد ایک ہی ہیں اور ہم ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کام کرنے کی کوششوں میں ایک ہیں‘‘۔

لیونارڈو ڈی کیپریو اپنی ان کاوشوں کے علاوہ 2014ءمیں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے امریکا کے شہر نیویارک میں نکالے جانے والے ایک بڑے مارچ میں بھی شرکت کرچکے ہیں۔

آسکر ایوارڈ وِننگ تقریر

لیونارڈو ڈی کیپریو 2015ء میں ریلیز ہونے والی اپنی فلم دی ریونینٹ پر آسکر ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ تقریب میں ایوارڈ حاصل کرتے وقت لیونارڈو نے اپنے اس ایوارڈ کو جہاں دیگر کئی شخصیات سے منسوب کیا، وہاں انھوں نے ماحولیاتی تبدیلی کا بھی خاص ذکر کیا۔ اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا، ’’دی ریونینٹ انسان کے فطری دنیا سے تعلق سے متعلق فلم ہے۔ دنیا نے 2015ءکو تاریخ کے گرم ترین سال کے دور پر ریکارڈ کیا ہے۔ ہماری پروڈکشن ٹیم کو اس سیارے جسے ہم زمین کہتے ہیں، پر برف کی تلاش کے لیے جنوب کی طرف سفر کرنا پڑا۔ ماحولیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، جو اس وقت وقوع پذیر ہو رہی ہے۔ ہماری تمام نسلوں کو سب سے زیادہ اور فوری خطرہ اسی سے ہے اور ہمیں اس کے خلاف مل کر کام کرنا ہے اور آج کے اس کام کو کل پر چھوڑنے کی عادت کو ترک کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسے سربراہان کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف بڑے پیمانے پر آلودگی پیدا کرنے والوں کے خلاف بولتے ہیں، بلکہ ہمیں ان سربراہان کو سپورٹ کرنا ہے جو انسانیت کے لیے بولتے ہیں، جو مقامی لوگوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور ان غیر مراعات یافتہ اربوں افراد کی بات کرتے ہیں، جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں‘‘۔

معاون اداکار سے سُپراسٹار تک کا سفر

1985ء میں ایک کامیڈی فلم ’گروئِنگ پینز‘ میںمعاون کردار کے ذریعے اپنےکیریئر کا آغاز کرنے والے لیونارڈو نے شروع میں چھوٹے بجٹ کی فلموں میں کام کیا۔ ان کی ایسی ہی ایک کم بجٹ کی ہارر فلم Critters 3 ہے، جو 1991ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ تاہم، انھیں پہلا بڑا بریک ڈیبیو کے11سال بعد 1996ء میں فلم ’رومیو جولیٹ‘ کے ذریعے ملا اور اس کے اگلے ہی سال بلاک بسٹر فلم ’ٹائی ٹینک‘ نے انھیں ہالی ووڈ کے سپراسٹارز کی صف میں لاکھڑا کردیا۔ اس دوران انھیں ہالی ووڈ کے شہرہ آفاق فلم میکرز جیسے مارٹن اسکورسز اور کرسٹوفر نولین کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ 6بار اکیڈمی ایوارڈز، 4بار برٹش اکیڈمی فلم ایوارڈز اور 9بار اسکرین ایکٹرز گِلڈ ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئے اور ایک ایک بار یہ سارے ایوارڈز جیتے۔ گولڈن گلوب ایوارڈز کے لیے وہ 11بار نامزدگی حاصل کرچکے ہیں، جن میں سے 3بار وہ ایوارڈ جیتنے میں کامیاب رہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں