آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 19؍ صفرالمظفّر 1441ھ 19؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’والٹ ڈزنی میوزیم‘‘ سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز

فاطمہ یاسر

 پیارے ساتھیو!والٹ ڈزنی کا نام سے تو آپ واقف ہوں گئے ، انہوں نے کارٹون کی دنیامیں ان کرداروں کو متعارف کرایا جو آج بھی بچوں اور بڑوں میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ پچھلے سال سان فرانسسکو میں والٹ ڈزنی میوزیم قائم کیا گیا ہے، جہاں والٹ ڈذنی کی زندگی کے بارے میں بہت سی معلومات موجود ہیں۔ یہ عجائب گھر سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

والٹ ڈزنی کا نام سنتے ہی ذہن میں مکی ماؤس، ڈونلڈ ڈک اور سنو وائٹ جیسے کرداروں کے نام آتے ہیں۔ اس میوزیم میںڈزنی کی پوری زندگی کو ایک نئے ڈھنگ سے دکھایا گیا ہے۔ یہ میوزیم والٹ ڈزنی کی زندگی کے بارے میں ہے، جنہوں نے انسانیت کے لیے اپنے کاموں اور اپنے پیشے کے لیے اپنی زندگی میں 932 ایوارڈز حاصل کیے۔ ان میں سے 248 ایوارڈ اس میوزیم میں موجود ہیں۔

ان ایورڈز میں سے 32 آسکر ایوارڈز بھی ہیں۔میوزیم کی ایک دیوار پر والٹ ڈزنی کی وہ تمام تصویریں ہیں جو انھوں نے اپنے ہائی سکول کے زمانے میں بنائی تھیں۔

ڈزنی 1901 ءمیں شکاگو میں پیدا ہوئے۔ 20 سال کی عمر میں ان کا ڈرائنگ کا شوق انھیں ہالی وڈ لے آیا۔ایک دیوار پر ان کی مشہور کارٹون سیریز ، دی ایلیس کامیڈیس ، کے ابتدائی خاکے ہیں۔ایلیس کامیڈیس ایک لڑکی اور ایک بلی کی کہانی تھی۔ لیکن ان کی پہچان ایک چوہے کے کارٹون مکی ماؤس کے کردار سے بنی۔یہ نام ان کی بیوی للی نے تجویز کیا تھا اور ڈزنی کو یہ پسند آیا۔اور اس طرح مکی ماؤس کا کردار 1928 میں نیو یارک سے ہالی وڈ تک پہنچا۔

ڈزنی نے اپنے کارٹون کرداروں پر مشتمل ایک پارک کیلی فورنیا میںبنایا، جسے ڈزنی لینڈ کا نام دیا گیا۔۔ ڈزنی کو ٹرین کا سفر کا شوق تھا او ران کے پارک میں پہلی رائیڈ بھی ایک ٹرین تھی جو آپ کو پورے پارک کا چکر لگواتی تھی۔

ڈزنی ورلڈ کی جادوئی دنیا کے روح رواں ، والٹ ڈزنی ، 1965ء میں 66 سال کی عمر میں ، پھیپڑوں کے کینسر کے باعث اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے ایک ایسے شخص کے چلے جانے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جس نے اپنی عمر لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے لیے وقف کررکھی تھی۔