آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نصرت شاہین

تارا چارپائی پر لیٹی آسمان کی طرف تکے جا رہی تھی۔ جگ مگ کرتے ستارے آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ تارا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ آج اس کی تائی ماں نے پلیٹ ٹوٹ جانے پر اسےبہت مارا تھا۔اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا, "کاش! میں پری ہوتی! نیلے آسمان پر اڑتی اور لوگوں کے دکھ بانٹتی۔"

اچانک تارا کے نزدیک ایک روشنی نمودار ہوئی، اُس نے غور سے روشنی کی طرف دیکھا تو وہاں سچ مچ ایک پری کھڑی تھی، اس کے لباس سے رنگ برنگی شعاعیں پھوٹ رہی تھیںاور سر پر ہیروں کا تاج تھاجوجگمگا رہا تھا۔ پری نے تارا کی طرف دیکھا اور اپنا نرم و نازک ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا،"ادھر آؤ "۔تارا ڈرتی ڈرتی چارپائی سے اٹھ کر پری کے قریب گئی۔پری بولی, "میں پریوں کی ملکہ ہوں۔ آج ادھر سے گزر رہی تھی تو تمھیں روتے ہوئے دیکھ کر رک گئی۔ بتاؤ، تم کیوں رو رہی ہو؟"

"اچھی پری! کیا تم مجھے اپنی جیسی پری بنا سکتی ہو؟" تارا نے کہا

پری مسکرائی اور بولی,"ہاں کیوں نہیں، لیکن وعدہ کرو کہ تمہاری ان پیاری آنکھوں میں پھر کبھی آنسو نہیں آئیں گے اورتم دکھی انسانوں کی مدد کرو گی۔"

تارا نے وعدہ کر لیا۔ "میں تمھیں خوشی کی پری بناتی ہوں۔" پریوں کی ملکہ نے کہا ،اس نے اپنی چھڑی گھمائی۔ تارا کے پرانے لباس کی جگہ نیا لباس آ گیا۔ اپنے پر اور خوب صورت لباس اور سر پر نیلے رنگ کا تاج دیکھ کر وہ خوشی سے اچھل پڑی۔ تارا نے اپنے ہاتھ میں پکڑی چھڑی اوپر کی، اس کے ساتھ ہی وہ اڑنے لگی۔ اُڑتے اُڑتے اُس کی نظر ایک عمارت پر پڑی، جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ جب وہ قریب پہنچی تو دیکھا کہ ایک فلیٹ میں آگ لگی ہوئی ہے۔ لوگ آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیںایک عورت زار وقطار رو رہی تھی اور لوگوں سے فریاد کر رہی تھی"میرے بچے کو بچا لو، وہ فلیٹ میں رہ گیا ہے۔"

لیکن آگ کی وجہ سے کوئی بھی فلیٹ کے اندر داخل ہونے کو تیار نہ تھا، بلکہ لوگوں نے بچے کی ماں کو بھی اندر جانے سے روک رکھا تھا۔ خوشی کی پری (تارا) تیزی سے فلیٹ میں داخل ہو گئی۔ اس نے فلیٹ کے کمرے سے بلکتے بچے کو اٹھایا اور جلدی سے باہر نکل آئی، لیکن اتنی دیر میں اس کے آدھے بال جل چکے تھے۔ خوشی کی پری نے بچے کو اس کی ماں کے حوالے کیا۔ ماں خوش ہو کر اپنے بچے کو پیار کرنے لگی۔ خوشی کی پری وہاں سے رخصت ہو گئی۔ اب ستارے آہستہ آہستہ غائب ہو رہے تھے اور صبح کا اجالا پھیل رہا تھا۔ خوشی کی پری نے اپنے پر اتار دیے اور عام لڑکی کے بھیس میں بازار میں گھومنے لگی۔

ایک جگہ اسے بہت بوڑھا شخص نظر آیا۔ اس کے ہاتھوں پر بڑے بڑے زخم تھے ۔ وہ بیمار تھا اور بھیک مانگ رہا تھا۔ خوشی کی پری کو اس پر بہت ترس آیا۔ اس نے اپنی چھڑی گھمائی۔ اس کے ہاتھ میں بہت سے روپے آ گئے۔ خوشی کی پری نے وہ روپے بوڑھے کی کشکول میں ڈال دیے اور اس سے بولی،"بابا! شام کو میں تمھیں تمھارے گھر چھوڑ آؤں گی۔"بوڑھے نے اسے ڈھیروں دعائیں دیں۔ سارا دن بازار میں گھومتی رہی۔جس کو مدد کی ضرورت ہوتی اُس کی مدد کرتی ۔ شام ہوتے ہی وہ جلدی سے بوڑھے کے پاس آئی اور بولی,"بابا! چلیے میں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ آؤں۔"بوڑھا اسے دعائیں دینے لگا۔وہ بوڑھے کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے لگی۔ تھوڑی دیر میں بوڑھے کا گھر آ گیا۔ اس نے خوشی کی پری کا شکریہ ادا کیا اور بڑے آرام سے گھر میں داخل ہو گیا۔ تارا کو حیرت ہوئی کہ یہ بوڑھا تو آسانی سے چل نہیں سکتا تھا، مگر اس وقت اتنے آرام سے گھر میں داخل ہو گیا۔خوشی کی پری سچائی جاننا چاہتی تھی، لیکن اتنی دیر میں بوڑھے نے گھر کا دروازہ بند کر لیا۔اُس نے چھڑی گھمائی۔ اور اڑ کر بوڑھے کے گھر میں داخل ہو گئی اور چھپ کے بوڑھے کی کارستانیاں دیکھنے لگی۔ بوڑھے نے سب سے پہلے اپنے ہاتھ دھوئے۔ یہ دیکھ کر تارا کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بوڑھے کے زخم بالکل صاف ہو گئے۔ اب وہ اصل بات سمجھ گئی کہ بوڑھے نے اپنے ہاتھوں پر جعلی زخم بنا رکھے تھے، پھر اس نے اپنے چہرے سے داڑھی مونچھیں ہٹائیں اور سر سے وگ اتاری۔ اب اس بوڑھے کی جگہ ایک خوب صورت نوجوان کھڑا تھا۔ خوشی کی پری کو اس نوجوان پر بہت غصہ آیا۔ "تمھیں شرم نہیں آتی، اچھے خاصے ہٹے کٹے ہو کر بھیک مانگتے ہو۔"

جعلی فقیر خوشی کی پری کی آواز سن کر گھبرا گیا۔ وہ حیران و پریشان اُس کی طرف دیکھ رہا تھا، جس کی شکل اس لڑکی جیسی تھی، جو اسے دروازے تک چھوڑنے آئی تھی۔ خوشی کی پری نے جو اسے یوں حیران ہوتے دیکھا تو بولی،"میں وہی لڑکی ہوں، جو تمھیں یہاں تک چھوڑنے آئی تھی۔ میرا نام خوشی کی پری ہے۔ مجھے بتاؤ تم فقیر کیوں بنتے ہو؟"

"میرا نام سلمان ہے۔ میں تعلیم یافتہ ہوں، ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتا تھا۔ میری ماں نے دن رات محنت کر کے مجھے پڑھایا تھا، جب میں نے تعلیم مکمل کی تو مجھے نوکری نہیں ملی، در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ ایک دن میری ماں سخت بیمار ہو گئی، اس کی دوا لینے کے لیے میرے پاس ایک پیسہ نہیں تھا۔ میں نے مجبور ہو کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلا دیا۔ کچھ پیسے ملے، جن سے میں نے ماں کی دوا خریدی، لیکن میری ماں نہ بچ سکی۔ سوچا کہ نوکری نہیں ملتی نہ ملے، بھیک مانگ کر ہی اپنا پیٹ بھر لینا چاہیے۔ بس اس دن سے میں نے بھیک مانگنا شروع کر دی۔"

"ایسی ذلت کی کمائی سے تو بہتر ہے کہ انسان بھوکا مر جائے۔ کیا ہوا اگر نوکری نہیں ملتی، تم محنت مزدوری بھی تو کر سکتے ہو! آؤ میرے ساتھ، میں تمھیں محنتی لوگ دکھاتی ہوں۔"

خوشی کی پری نے اپنی چھڑی کا دوسرا سرا نوجوان سلمان کو پکڑا دیا۔ اب وہ دونوں آسمان پر اڑ رہے تھے۔ خوشی کی پری ایک احاطے میں اتری۔ یہ نابیناؤں کا ادارہ تھا۔ یہاں نابینا لوگ بیٹھے کرسیاں بن رہے تھے۔ خوشی کی پری وہاں سے اڑی اور دوسری جگہ گئی۔ وہاں ٹانگوں سے معذور ایک بوڑھا بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ ایک جگہ ہاتھوں سے محروم شخص اپنے پیروں کے انگوٹھوں سے قلم پکڑ کر خطاطی کر رہا تھا۔ خوشی کی پری نے ایسے اور بہت سے لوگ دکھائے جو معذور ہونے کے باوجود محنت کر کے روزی کما رہے تھے۔ خوشی کی پری نے سلمان سے کہا: "یہ لوگ کسی پر بوجھ نہیں بنے ہیں، بلکہ خود محنت کر کے روزی کما رہے ہیں۔ تم تو ماشاءاللہ ٹھیک ٹھاک ہو، پھر تم محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟"

سلمان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا "اچھی پری مجھے معاف کر دو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ محنت مزدوری سے روزی کماؤں گا۔"

خوشی کی پری مسکرا دی اور بولی ,’’ہمارے ملک کے تم جیسے پڑھے لکھے بےکار نوجوان اگر محنت مزدوری کو عیب نہ سمجھیں تو ہمارا ملک ضرور ترقی کرے گا۔"

خوشی کی پری ہنستی مسکراتی گھر واپس آ رہی تھی کہ اچانک اسے کسی نے جھنجھوڑ دیا۔ تارا نے ایک دم آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ اس کے سرہانے اس کی تائی اماں کھڑی تھیں۔

"تو کیا یہ سارا خواب تھا۔" لیکن اس خواب نے تارا کے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا کر دیا۔ وہ ہر کام خوشی خوشی کرتی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتی۔ وقت گزرتا گیا پھر وہ وقت بھی آیا جب تارا پروفیسر بن گئی، لیکن خواب کبھی نہیں بھولی، جس نےاُس کے اندر محنت، سچائی، خدمت اور مسکراتی زندگی کا حوصلہ بیدار کیا تھا۔