آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

ارشادِ ربّانی ہے: ’’اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کیے گئے ، جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے ،تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘۔(سورۃالبقرہ )عربی زبان میں روزے کے لئے ’’صوم‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی رک جانے کےہیں یعنی انسان، خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کےلئے صبح صادق سے غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاء کو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔

محققین نے لفظ رمضان کے بارے میں فرمایا کہ یہ’’رمضا‘‘ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گرد غبار سے پاک صاف کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے، جس کے برسنے سے مسلمانوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ نے قرآن حکیم نازل فرمایا۔ رمضان المبارک کی ہی ایک بابرکت رات میں پورے قرآن کا نزول آسمان دنیا پر ہوا، اس بناء پر اس رات کو ہزار مہینوں اور تمام راتوں سے افضل قرار دیا گیا اور اسے ’’لیلۃ القدر‘‘سےموسوم فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :"شب قدر (فضیلت و برکت اور اجر و ثواب میں ) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔"(سورۃ القدر)

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو پابند زنجیر کر دیا جاتا ہے۔(صحیح بخاری)

آپ ﷺ نے روزوں کی امتیازی شان کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: جو شخص بہ حالت ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کے سابق گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری، الصلوٰۃ التراویح )

رمضان المبارک کی ایک ایک ساعت اس قدر برکتون، سعادتوں اور فضیلتوں کی حامل ہے کہ باقی گیارہ ماہ مل کر بھی اس کی ہم سری نہیں کر سکتے۔ قیام رمضان کے بارے میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے رمضان میں بہ حالت ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے تمام سابق گناہ معاف کر دیئے گئے۔(صحیح بخاری،کتاب الایمان)

آپ ﷺ نے فرمایا : روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے ۔ ایک اور روایت میں فرمایا :روزہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈھال ہے۔

نبی پاک ﷺ نے فرمایا :روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ، جن سے وہ خوش ہوتا ہے، ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ (دوسری خوشی )جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے سے خوش ہو گا۔ (صحیح بخاری،کتاب الصوم)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ روزے دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (صحیح بخاری،کتاب الصوم )

رب کریم روزے کے بارے میں فرماتا ہے:روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ (صحیح بخاری،باب فضل الصوم)

عام نیکیوں کے لئے رب العالمین نے ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ نیکی پر اجر کم از کم دس گنا اور زیادہ سے زیادہ سات سو گنا تک ملے گا ،لیکن روزوں کو اللہ تعالیٰ نے اس عام ضابطے اور کلیے سے مستثنیٰ قرار دیا اور فرمایا کہ قیامت والے دن روزے دار کا وہ ایسا اعزاز فرمائے گا اور جزا عطا فرمائے گا جس کا علم صرف اسی کو ہے۔ 

اسپیشل ایڈیشن سے مزید