آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف:ڈاکٹر توصیف احمد خان

صفحات: 468 ،قیمت: 1200 روپے

ناشر: بدلتی دُنیا پبلی کیشنز، اسلام آباد

صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے،کیوںکہ صحافت بنیادی طور پر ریاست کے لیے آئینے کا کردار ادا کرتی ہے اور آئینہ جھوٹ نہیں بولتا۔گویا صحافت نہ صرف ریاست، بلکہ حکومت اور سماج کے لیے بھی یک ساں اہمیت کی حامل ہے کہ اس کی مدد سے سماج کو لاحق مسائل سے نمٹنے میں آسانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ تاہم، صحافت اور خاص طور پر اخبارات سے حکومتوں کو اکثر شکایات رہتی ہیں۔ اُن کی آزادی سلب کرنے کے لیے گاہے گاہے سیاہ قوانین بھی وضع کیے جاتے رہے۔ صرف یہی نہیں، صحافیوں کو کوڑے لگائے گئے اور داخلِ زنداں بھی کیا گیا۔ اخبارات کو ایسی صورت کا سامنا فوجی حکومتوں میں بھی رہا اور جمہوری حکومتوں میں بھی۔ صحافیوں نے متذکرہ تمام صعوبتوں کو عزم و استقلال سے نہ صرف برداشت کیا، بلکہ اپنی صفوں میں یگانگت اور اتحاد کا ثبوت دیتے ہوئے اخباری تنظیموں کو مسلسل متحرّک اور فعال بھی رکھا ۔یہ ساری گفتگو دراصل صحافت اور ابلاغیات سے وابستہ ایک کہنہ مشق صحافی اور استاد، ڈاکٹر توصیف احمد خان کے پی ایچ ڈی کے مقالے ’’آزادیٔ صحافت کی جدوجہد میں اخباری تنظیموں کا کردار‘‘کی تناظر میں کی گئی ہے ۔ڈاکٹر توصیف نے انتہائی محنت، عرقِ ریزی اور برسوں کی تحقیق کے بعد اخباری تنظیموں کی آزادیِ صحافت کے سلسلے میں کی جانے والی تاریخی جدوجہد کو اپنے مقالے میں محفوظ کر کے ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصّہ بنا دیا ہے۔ آٹھ ابواب پر مشتمل اس تحقیق سے قاری قدم بہ قدم پاکستان میں صحافت اور اُس کی آزادی کی راہ میں پیدا کی جانے والی رکاوٹوں اور اُن کو دُور کرنے میں اخباری تنظیموں کے غیر متزلزل کردار سے بخوبی واقف ہوتا چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر توصیف کا یہ تحقیقی کام بلاشبہ توصیف کا مستحق ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں