آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچو !موسم گرما کی تعطیلات توہو چکی ہیں اورگزشتہ کچھ سالوں سے موسم گرما کی چھٹیوں میں رمضان المبارک کا مہینہ آرہا ہے۔ اور اس دفعہ تو آپ لوگوں کومئی سے ہی چھٹیاں مل گئی ہیں۔ بچوں کو روز ہ رکھنے میں آسانی ہو گئی ہے کیوں کہ صبح سویرے اسکول جو نہیں جانا۔ بہت سے بچے بڑے شوق سے روزے رکھتے ہیں۔با جماعت نماز ادا کرتے ہیں اور ہوم ورک بھی کرتے ہیں،جبکہ بعض بچے روزہ رکھنے کے بعد سارا دن سوئے رہتے ہیں اور افطاری سے کچھ دیر قبل اٹھتے ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ، اس طرح تو نماز یںرہ جاتی ہیںاور نماز کے بغیر روزہ ایسے ہی ہے، جیسے آپ نے فاقہ کیا ہو،اس لئے روزہ دار کے لئے نماز اشد ضروری ہے۔

موسم گرما کی چھٹیوں میں رات کو تاخیر سے سونا اور صبح تاخیر سے اٹھنا بچوں کا معمول ہے ۔ رمضان المبارک میں بعض بچے سحری تک جاگتے رہتے ہیں۔گلی محلوں میں کرکٹ ٹیم بنائی جاتی ہے، زیادہ تر بچے گرمی کے اس موسم میں دن کے وقت تپتی دھوپ میںکرکٹ کھیلنے سے نہیں رُکتے ،جس سے ان کو شدت کی پیاس لگتی ہے اور طویل وقت کے لئے پیاس روکنا انتہائی مشکل ہے۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں ایسا کام مت کریں ،جس سے جسمانی تھکاوٹ اور شدت کی پیاس محسوس ہو۔ اس بابرکت مہینے میں سحری سے افطاری تک کھیل کود ترک کردیں اور پانچوں وقت نماز ادا کریں، نیک کام کریں، آپ کو معلوم ہوگا کہ اس ماہ مبارک میں ایک نیکی کرنے سے ستر نیکیوں کا ثواب ملتا ہے ۔ساتھیو! کوشش کریں کہ دوسروں کے کام آئیں، ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کریں۔ غربا اور مساکین کا روز افطار کروائیں۔ سحری کےلئے کھانے پینے کی اشیا مہیا کریں اور اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جوآپ خود کھاتے ہیں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی چیزیں ان کو دیں۔ روزہ دار کے لیے یہ بھی فرض ہے کہ وہ منہ سے ایسی بات نہ کہے، جس سے دوسرے کی دل شکنی ہو۔ روزہ ایک روحانی اور اخلاقی تربیت بھی ہے۔ جب یہ مبارک مہینہ شروع ہوتاہے تو رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں،شیاطین کو جکڑ لیا جاتا ہے، اس مبارک مہینے میں مومن کا رزق زیادہ ہو جاتا ہے اورروزے کا اجراللہ تعالیٰ دیتا ہے،آپ روزہ بھی رکھیں،عبادت بھی کریں اور اپنے معمول کے کاموں کو جاری رکھیں انہیں متاثر نہ ہونے دیں، اکثر بچوں کو جب کوئی کام کہا جاتا ہے تو یہ کہہ کر کام کرنے سے انکار کر دیتے ہیں کہ ان کا روزہ ہے۔حالانکہ روزہ اپنی جگہ اور کام اپنی جگہ۔

(آپ کی آپی)