آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہناوے میں نفاست، انداز میں شائستگی، لفظوں کی ادائیگی پر مکمل گرفت اور پھر پارٹی اور ملک سے وفاداری کے ساتھ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی عمران خان کی حکومت کے ان چند وزراء میں شامل ہیں جنھیں صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی Right Person for Right Jobقرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے جاپان میں ہونے والی کئی ملاقاتوں میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا، ان کے کام کرنے کے طریقہ کار اور دن میں سولہ سولہ گھنٹے کی مصروفیات کے باوجود مزید کام کے لئے تیار رہنے کی عادت نے جاپانیوں کو بہت زیادہ متاثر کیا، وہ جاپان میں تین مصروف ترین دن گزارنے کے بعد چین روانہ ہوئے تو اگلے تین دن بعد میں بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان آیا اور اتفاق یہ تھا کہ جس ایئر لائن میں مَیں جاپان سے سفر کرتے ہوئے بیجنگ پہنچا تھا، اسی جہاز میں بیجنگ سے وزیر خارجہ بھی اپنے اسٹاف کے ہمراہ چین کا دورہ مکمل کرکے اسلام آباد روانہ ہو رہے تھے اور حسنِ اتفاق یہ تھا کہ ہماری نشستیں بھی ایک ہی کیبن میں قریب قریب موجود تھیں۔ دورانِ سفر میں نے شاہ محمود قریشی سے ان کے دورۂ چین و جاپان اور پاکستان کے سیاسی حالات پر گفتگو کی۔ دورۂ چین کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم دورہ تھا جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت اہم ترین وزراء بھی شامل تھے جبکہ چین کی میزبانی میں ہونے والی اس بین الاقوامی کانفرنس میں چالیس سے زیادہ سربراہانِ مملکت شریک تھے۔ اس اہم کانفرنس میں پاکستان کو بہت زیادہ عزت سے نوازا گیا، خصوصاً وزیراعظم عمران خان کو کانفرنس کے پہلے سیشن میں روس کے صدر پیوٹن اور چین کے صدر شی جن کے بعد خطاب کی دعوت دی گئی جو ایک بڑا اعزاز تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان خطے کی ایک نئی معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے ثمرات عنقریب پاکستان کے عوام کو حاصل ہوں گے جبکہ اس دورہ میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے بہت بڑی سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں حیران کن طور پر چار سو کے قریب چین کے چوٹی کے سرمایہ دار موجود تھے جبکہ پاکستان سے بھی بڑی تعداد میں کاروباری شخصیات اس اہم کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچی تھیں۔ اہم بات یہ تھی کہ دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے درمیان 19ارب ڈالر کے بی ٹو بی معاہدے طے پائے جو بہت بڑی بات ہے جبکہ اسی دورہ میں پاکستان اور چین کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بھی دستخط ہوئے ہیں جس سے پاکستان کی چین کو ہونے والی برآمدات میں سالانہ 2ارب ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔ میں نے موضوع بدلتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر روز ہی ایسی خبریں آتی ہیں کہ حکمراں پارٹی میں شاہ محمود قریشی گروپ اور جہانگیر ترین گروپ میں سرد جنگ جاری ہے، خاص طور پر پنجاب میں یہ خبریں بہت زیادہ سنی جاتی ہیں، پھر گورنر پنجاب کو تبدیل کرنے کی خبریں بھی گرم ہیں جبکہ صدارتی نظام کے امکانات کی افواہیں بھی گرم ہیں، جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکومت میں ٹیکنو کریٹس کو بطور مشیر تعینات کیا جا رہا ہے۔

میری جانب سے موضوع ایک دم تبدیل کئے جانے پر وزیر خارجہ مسکرائے پھر بولے:حکومت میں نہ جہانگیر ترین گروپ ہے اور نہ ہی شاہ محمود قریشی گروپ، وزیراعظم نے ہر شخص کو کچھ ذمہ داریاں دی ہیں جو ہر آدمی اپنے طریقے سے ادا کر رہا ہے اور سب کا مقصد حکومت کو مضبوط کرنا اور پاکستان کے مفاد میں کام کرنا ہے۔ یہ صرف میڈیا کی شرارتیں ہیں، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ جہاں تک پنجاب میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی بات ہے، اس میں بھی کوئی وزن نہیں۔ عثمان بزدار ہی وزیراعلیٰ رہیں گے جبکہ پاکستان میں صدارتی نظام کے لئے آئین میں کوئی گنجائش نہیں اور اگر صدارتی نظام لانا بھی ہو تو اس کے لئے آئین میں اہم تبدیلیاں درکار ہوں گی، جو ممکن ہی نہیں لہٰذا اس خبر میں بھی کوئی صداقت نہیں۔ جہاں تک ٹیکنو کریٹس کو مشیر لگائے جانے کی بات ہے تو یہ بھی توازن میں ہیں۔ ہمارے زیادہ تر وزراء رکن اسمبلی اور پارلیمنٹیرین ہیں، ماضی کی حکومتیں بھی ٹیکنو کریٹس کو بطور مشیر تعینات کرتی رہیں ہیں، لہٰذا افواہوں پر کان نہ دھریں۔ ہماری تمام تر توجہ پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے پہ ہے اور ان شاء اللہ عنقریب پاکستان خطے کا ایک معاشی طور پر خوشحال ملک بن کر سامنے آئے گا۔

جہاں تک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورۂ جاپان کا تعلق ہے اس حوالے سے پہلے بھی میڈیا میں تفصیلات آ چکی ہیں کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی اور پہلے سے موجود بہترین تعلقات میں مزید گرم جوشی پیدا کرنے کے لئے تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ وزیر خارجہ کا یہ دورہ پاک بھارت کشیدگی کے دنوں میں طے ہوا تھا جو عین وقت پر منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد اس دورے کو اپریل کے آخری ہفتے میں دوبارہ شیڈول کیا گیا تھا۔ اس دورہ میں وزیر خارجہ کی جاپان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے علاوہ بھی کئی اہم مصروفیات طے تھیں تاہم دورہ کی اہمیت کے پیش نظر جاپان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ تارو أسو نے بھی شاہ محمود قریشی سے خصوصی ملاقات کی، جبکہ وزیر خارجہ کے دورۂ جاپان کے آخری روز جاپانی وزیر خارجہ سے ملاقات بھی انتہائی اہمیت کی حامل رہی حالانکہ وزیر خارجہ کا دورہ معاشی و کاروباری مذاکرات کے لئے نہیں تھا، پھر بھی جاپان نے پاکستان کے لئے صحت اور تعلیم کے شعبے میں 8ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی گئی اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں پاکستانیوں کے جانی و مالی نقصان پر جاپان نے اظہارِ مذمت و افسوس بھی کیا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں