آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


اپنے اردگرد پھیلی ہوئی سچائیوں کو افسانوں اور خاکوں کے قالب میں ڈھال کر امر ہو جانے والے سعادت حسن منٹوکے مداح ان کی 107 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔

سعادت حسن منٹو11مئی1912کو بھارت کے ضلع لدھیانہ میں پیدا ہوئے اورابتدائی تعلیم اپنے گھر میں حاصل کی۔

1921میں ایم اومڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخلہ لیا، ان کا تعلیمی دورانیہ حوصلہ افزا نہیں تھا مگر پھر بھی منٹو نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔

سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے منٹو کو اپنا آپ ظاہر کرنے میں مدت لگی۔

پاکستان بننے کے بعد منٹو ٹوبہ ٹیک سنگھ،کھول دو،ٹھنڈا گوشت،دھواں اور بوسمیت کئی بہترین افسانے تخلیق کیے جو اردو ادب کے آسمان پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔

ان کے افسانوں پر مقدمے بھی چلے لیکن منٹو ان سے بری ہو گئے ،وہ ادب برائے زندگی کے قائل تھے جن کی کہانیوں میں دکھی انسان چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو کہتے تھے کہ افسانہ مجھے لکھتا ہے، اردو کے اس عظیم افسانہ نگار کا انتقال 42برس کی عمر میں 18 جنوری 1955کو ہوا مگر وہ اپنی تحریروں کے حوالے سے دنیائے ادب میں سدا زندہ رہیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں